18

اصلاح معاشرہ کون کرے گا؟

اصلاح معاشرہ کون کرے گا؟

انصار عباسی

قصور سانحہ پر نہ سیاست ہونی چاہیے اور نہ ہی اس واقعہ کو کسی مغربی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے کسی دوسرے کو استعمال کرنا چاہیے۔ لیکن افسوس کہ یہ دونوں کام خوب زور و شور کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ حقیقت میں جن اقدامات کی ہمیں اشد ضرورت ہے اُن کے متعلق بات کوئی نہیں کر رہا۔ پہلے تو ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستانی معاشرہ شدید تنزلی کا شکار ہے جس کو روکنے اور بہتر بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔ اصل ذمہ داری حکومت اور پارلیمنٹ کی ہے لیکن ہمارے حکمران اور سیاستدان تو کسی بھی مسئلہ پر میڈیا کے ہوا کا رخ دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا اور اس طرح جس گراوٹ کا ہم بحیثیت قوم شکار ہیں اُس میں کمی کی بجائے مزید تیزی آ رہی ہے۔ قصور سانحہ پر میں نے اپنے گزشتہ کالم میں مطالبہ کیا تھا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق سفاک مجرموں کو عدالت میں جرم ثابت ہونے پر چوکوں چوراہوں پر لٹکایا جائے تاکہ معاشرےکے لیے نشان عبرت بن سکیں لیکن مجھے امید نہیں کہ شہباز شریف یا پاکستان کا کوئی دوسرا حکمران ایسا کر سکتا ہے کیو نکہ وہ سب میڈیا سے ڈرتے ہیں اور مغرب کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ مغرب کی تقلید اور میڈیا سے ڈرنے کی بجائے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرتی بگاڑ کی کیا وجوہات ہیں اور انہیں کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس جب حل کی بات ہوتی ہے تو میڈیا ہمیں مغرب کا سبق پڑھاتا ہے۔ قصور سانحہ کے بعد فلم و شوبز انڈسٹری کے افراد کے ذریعے قوم کو بتایا گیا کہ قصور جیسے واقعات کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟مختلف علاج تجویز کیے گئے لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس قسم کے جرائم میں بڑھتی فحاشی و عریانی کا کتنا کردار ہے؟ کسی نے یہ نہیں بولا کہ ہماری فلموں، ڈراموں، اشتہاروں اور میڈیا کے ذریعے کس انداز میں جنسی بے راہ روی کے رجحانات پیدا ہو رہے ہیں اور ایسے رجحانات جرائم کا سبب کیسے بنتے ہیں!کسی نے اس بات کی نشاندھی نہیں کی کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ معاشرے کی اخلاقیات کی تباہی میں اس قدر آگے جا چکے ہیں کہ اب موبائل فون معاشرتی خرابیوں، برائیوں کے علاوہ جنسی جرائم کی ایک اہم وجہ بن چکے ہیں!! افسوس کہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ فحاشی و عریانیت کو روکنے کے لیے میڈیا، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی سخت نگرانی کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے!! والدین کی ذمہ داری پر تو بات ہوئی لیکن کسی نے یہ بات نہیں کی کہ ماں جو بچے کے لیے سب سے اہم درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے اُسے تو ہم نے حقوق نسواں اور برابری کے نام پر اپنی اصل ذمہ داری یعنی بچوں کی پرورش اور اُن کی دیکھ بھال سے دور کر رہے ہیں اور اب بچوں کو ملازموں، آیائوں، ڈرائیوروں، چوکیداروں، ڈے کیئر سینٹر ز کے حوالے کرنے کا رواج زور پکڑ رہا ہے!! کیا کوئی دوسرا بچوں کی پرورش، اُن کی تربیت اور دیکھ بھال میں ماں کا نعم البدل ہو سکتا ہے؟؟ کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کیا ہم نکاح کو مشکل نہیں بنا رہے؟ کوئی مخلوط نظام تعلیم کی خرابیوں اور ان کے منفی اثرات کو اجاگر کیوں نہیں کرتا؟ کوئی شرم و حیا اور پردہ جیسے اسلامی احکامات کی نفی کرنے والوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اُٹھاتا؟ کوئی یہ بات کیوں نہیں کرتا کہ ہماری تعلیم میں تربیت کو کیوں شامل نہیں کیا جا رہااور تربیت کے لیے اسلامی تعلیمات کو بنیاد بنانے میں کون کون رکاوٹ ہیں؟قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ماحول بنانے اور معاشرہ اور اس کے افراد میں اللہ تعالیٰ کا ڈر اور آخرت کا خوف پیدا کرنے کے لیے کوئی بات کیوں نہیں کی جاتی؟کوئی حکومتوں ، حکمرانوں اور پارلیمنٹ پر اس بات پر زور کیوں نہیں دیتا کہ سزاو جزا کے اسلامی نظام کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے کو جنگی بنیادوں پر اصلاح اور افراد کو کردار سازی کی ضرورت ہے تاکہ حق اور باطل ، سچ اور جھوٹ ، ثواب اور گناہ، اچھائی اور برائی میں نہ صرف فرق واضح ہو بلکہ معاشرہ حق، سچ، اچھائی اور ثواب کے کاموں کا ساتھ دے اور باطل، جھوٹ، گناہ اور برائی کے کاموں سے دوسروں کو روکے؟

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں