29

سیاست میں توہم پرستی کا تڑکا !!

سیاست میں توہم پرستی کا تڑکا !!

تحریر: محمد عاصم حفیظ

پاکستانی سیاست میں توہم پرستی ،تصوف اور پیری مریدی کا ہمیشہ سے نمایاں کردار رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ گدی نشین خاندانوں کی سیاست میں موجودگی اور عوامی مزاج میں پیری مریدی کا اثر و رسوخ ہے۔  سیاستدان بھی اس کمزوری سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ عوامی مقبولیت برقرار رکھنے کے لئے کسی نہ کسی درگاہ پر پہنچے نظر آتے ہیں ۔ عمران خان صاحب کو آج ہی چار مقدمات میں ضمانت ملی ہے ۔ خوشی ان کے چہرے سے عیاں تھی اور اسی جوش خطابت میں فرمایا کہ تمام نجومیوں نے کہہ دیا ہے کہ اگلی حکومت تحریک انصاف کی ہو گی ۔  اس سے آپ ہمارے بڑے سیاستدانوں کی توہم پرستی کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔کاش کوئی انہیں سمجھاتا کہ محترم عمران خان صاحب حکومت کے لئے محنت کریں ، کوشش کریں ، عوام کے پاس جائیں ، انتخاب جیتیں ،ایمان تو خراب نہ کریں ، نجومی اگر کسی کی قسمت کا فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہوتے تو خود سڑکوں پر طوطے فال نہ نکال رہے ہوتے ، اگر ان کی پیشن گوئیاں سچ ہوتیں تو کوئی بھی غریب ومحروم نہ رہتا کیونکہ یہ بیچارے تو پیسہ دیکھ کر پیشن گوئی بدل دیتے ہیں ، سیاسی جنگ کو سیاست سے لڑنا چاہیے ، توہم پرستی سے نہیں ۔ عمران خان صاحب اس حمام میں اکیلے نہیں ہیں ۔ زرداری صاحب نے اپنے مرشد کو ایوان صدر میں ہی مستقل ٹھکانہ دیا ہوا تھا۔ وہ ہر روز مرشد کے مشورے سے ہی معمولات سرانجام دیتے ۔بلکہ اکثر اوقات تو عجیب و غریب معاملہ بھی بن جاتا کہ مرشد انہیں کراچی میں قیام کا مشورہ دیتے تو زرداری صاحب اہم حکومتی فرائض چھوڑ کر سمندری پانی کی قربت سے بلاؤں کو ٹال رہے ہوتے۔ ایوان صدر سے رخصت ہوتے ہوئے ان کی گاڑی کو دم کرنے کی تصور تمام ملکی اخبارات میں چھپی تھی ۔ اسی طرح زرداری صاحب اپنی منت پوری ہونے پر سرکاری خرچے اور پروٹوکول سے بھارت اجمیر شریف کی درگاہ بھی گئے تھے ۔ سنا ہے یہی پیر صاحب اس سے پہلے صدر مشرف کو بھی فیضیاب کرتےرہے اور بعدازاں نواز شریف نے بھی درخواست کی تھی لیکن انہوں نے زرداری صاحب کی محبت میں انکار کر دیا ۔ پی پی دور کے ہی ایک وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سرکاری ہیلی کاپٹر پر اپنے مرشد کو سلام کرنے جاتے تھے ۔  نواز شریف اور بے نظیر دونوں ایک ہی پیر سے چھڑیاں کھا کر حکومت کے حصول کے خواب دیکھا کرتے تھے ۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ، شاہ محمود قریشی، فیصل صالح حیات اور دیگر کئی سیاستدان تو خود گدی نشین ہیں ۔ جیسےہی عرس وغیرہ کا موقعہ آتا ہے تو یہ سب روایتی پگڑیاں پہن کر نذرانے وصول کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ شاہ محمود قریشی کچھ عرصے پہلے سندھ تشریف لے گئے تو ان کے مریدین نے عقیدت کے اظہار کے لئے پیر صاحب کی مہنگی گاڑی کے گزرنے کے لئے گھر کی چادریں راستے میں بچھائیں تھیں ۔ اسحاق ڈار صرف ماہر معاشیات اور دبئی وغیرہ میں پلازے بنانے کے ہی ماہر نہیں بلکہ وہ لاہور داتا دربار کے متولی بھی ہیں ۔ بلکہ ان کے اثاثہ جاتے میں جس ٹرسٹ کو بھاری رقوم کی منتقلی کا تذکرہ ہو رہا ہے وہ بھی اسی سے منسلک ہے۔ پیر پگاڑا ہماری ملکی سیاست کے اہم ترین کردار رہے ہیں ۔ ان کی پیشن گوئیاں بھی زبان زدعام رہتی ہیں ۔ کسی کو اپنی سیاست چمکانی ہوتو وہ خواب میں نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں کا ڈنڈورا پیٹتے نظر آتے ہیں ۔ حتی کہ ملک کو چلانے کی ذمہ داری تک اٹھانے کا وعدہ کر بیٹھتے ہیں ۔اپنے سیاسی جلسے جلوسوں کو “حسینی لشکر” قرار دینے سے نہیں چوکتے اور تمام مخالفین کو “یزیدی”۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں انہیں یزیدیوں سے معاہدہ کرنے میں بھی برائی محسوس نہیں کرتے۔ ہماری سیاست کے روپ نرالے ہیں اور سیاستدان انتہائی خوش قسمت۔ جب چاہیں جو چاہیں روپ دھار لیتے ہیں ۔ امریکہ یورپ جاتے ہیں تو پورے مغربی بن کر انہیں اپنائیت کا احساس دلاتے ہیں ۔ رمضان ، ربیع الاول اور محرم میں عوامی خواہشات کے مطابق مذہبی روپ دھار کر متاثر کر دیتے ہیں ۔ ماڈرن بننے پہ آئیں تو مغرب کے کہنے پر روشن خیالی کی لہر چلا دیتے ہیں ، مذہبی روپ دیکھانا ہو تو اپنے ہاتھوں سے میلاد کی نیاز بانٹ کرمتاثر کرتے ہیں ، کبھی بہشتی دروازے کے وی آئی پی روٹ سے گزرتے نظر آتے ہیں تو کبھی کسی محفل نعت میں جھوم کر اپنے عشق کا اظہار کرتے ، حتی کہ اب تو کبھی حج و عمرے پر بھی تشریف لے جائیں تو ساتھ اچھا فوٹو گرافر لے جانا نہیں بھولتے تاکہ ان کی خشوع و خضوع  سے کی گئی عبادات سے ” پاکستانی عوام ” محروم نہ رہ سکیں ۔ ہمارے سیاستدان واقعی خوش قسمت ہیں کہ  بھولی بھالی عوام انہیں ہر روپ میں سرآنکھوں پر بٹھا لیتی ہے ۔ سب بھول جاتی ہے اور پھر سے اعتماد کر لیتی ہے ۔ آج بھی ہمارے بڑے بڑے لیڈر توہم پرستی کے ذریعے اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈ رہے ہیں اور عوام یقین کئے جا رہی ہے۔ اقتدار ملنا یا نہ ملنا الگ بات ہے کم سے کم ایمان کا خیال تو رکھنا چاہیے کیونکہ نجومیوں کی پیشن گوئیوں اور تعویز و دم سے حصول اقتدار کی خواہش رکھنا کچھ اتنا بھی قابل تعریف نہیں ہے۔

 

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں