21

اللہ تعالی کے بارے میں اچھا گمان رکھنا

اللہ تعالی کے بارے میں اچھا گمان رکھنا

مسجد نبوی کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالمحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ

جنم دن مبارک 18 ربیع الثانی 1439 ھ بمطابق 5 جنوری 2018

ترجمہ: محمد عاطف الیاس

پہلا خطبہ

تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔ اسی پر بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں اور اسی سے معافی کا سوال کرتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور بہت سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر۔

بعدازاں!

اللہ کے بندو! اللہ سے یوں ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور دین اسلام کی مضبوط رسی کو تھامے رکھو۔

اے مسلمانو!

توحید، اللہ تعالی کا حق ہے جو بندوں کے لئے ادا کرنا لازمی ہے، اللہ تعالی نے اسی کے لیے رسولوں کو مبعوث فرمایا اور اسی کے لیے کتابیں نازل فرمائیں۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ صرف اور صرف اللہ کی عبادت کی جائے۔

عبادت ایک جامع لفظ ہے جس میں وہ تمام ظاہر اور پوشیدہ اعمال اور اقوال آ جاتے ہیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ کو پسند ہیں۔

دل اپنے طریقے سے عبادت کرتا ہے اور اس کی عبادت دوسرے اعضاء کی نسبت عظیم، زیادہ اور با اثر ہے۔ دل کے عقائد کا ایمان میں شامل ہونا دیگر اعضاء کی عبادت کی نسبت زیادہ واضح ہے، کیونکہ دل میں ایمان پیدا کرنا ہی وہ حقیقی مقصد ہے جس کے لیے تمام عبادات بنائی گئیں۔ بقیہ عبادات اسی مقصد کے گرد گھومتی ہیں۔ کوئی عبادت اس وقت تک قابل قبول نہیں ہو سکتی جب تک اس میں دل کا اخلاص شامل نہ ہو، یعنی دل کی عبادت تمام عبادات کی روح ہے اور اگر کسی عمل میں یہ والی عبادت شامل نہ ہو تو وہ عبادت بے روح جسم کی طرح ہوتی ہے۔ اگر دل درست ہوجائے تو سارے اعضاء درست ہو جاتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

سنو! جسم میں ایک ایسا حصہ ہے جو اگر سدھر جائے تو سارا جسم سدھر جاتا ہے اور اگر بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ یہ حصہ دل ہے۔

اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

دل میں اخلاص اور ایمان کی بنیاد پر عبادتیں ایک دوسرے سے بہتر بنتی ہیں اور اعمال ممتاز ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالی تو دل ہی کے حال ہی کو دیکھتا ہے۔ فرمان نبوی ہے:

اللہ تعالی آپ کے جسموں اور شکل و صورت کو نہیں دیکھتا بلکہ آپ کے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

دل کی عبادتوں میں سے ایک اہم عبادت اللہ تعالی کے بارے میں بھلا گمان رکھنے کی عبادت ہے۔ یہ دین کا ایک فرض ہے اور توحید کا ایک حصہ ہے۔

اس کی تعریف یہ ہے کہ اللہ تعالی کے بارے میں صرف وہی گمان رکھا جائے جو اس کی ذات اور اسماء و صفات کے لحاظ سے موزوں ترین ہو۔

اللہ تعالی کی حقیقی پہچان اور اس کے متعلق درس معلومات کی موجودگی کی صورت میں ہی اللہ کے متعلق اچھا گمان کرنا ممکن ہے۔ جب انسان اللہ تعالی کی کشادہ رحمت، عزت، احسان، قدرت، علم اور طریقے کے متعلق جان لیتا ہے تو اس کا نتیجہ یقینا یہی ہوتا ہے کہ انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان کرنے لگتا ہے۔

جب انسان اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کو اچھی طرح جان لیتا ہے اور ان کی تشریح کو بھی سمجھ لیتا ہے تو اس کے دل میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہرنام اور ہر صفت سے مناسبت رکھنے والا گمان آ جاتا ہے۔ اللہ تعالی کی صفات میں سے ہر ایک صفت کے ساتھ ایک خاص عبادت اور گمان کا ایک پہلو جڑا ہوا ہے۔

اللہ تعالی کے کمال، جلال، جمال اور مہربانی کے بارے میں جان کر انسان کے دل میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان پیدا ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالی نے اسی کا حکم دیا ہے، فرمایا:

’’احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ محسنو ں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ (البقرہ : 195)

حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اللہ کے متعلق اچھا سوچا کرو

نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی وفات سے پہلے اسی بات کی تاکید فرمائی تھی۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات سے تین دن قبل انہیں یہ کہتے ہوئے سنا تھا:

تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے بارے میں اچھا سوچ گمان رکھتا ہو۔

اللہ تعالی نے اپنے ان بندوں کی تعریف فرمائی ہے جو خشوع وخضوع رکھتے ہیں اور جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے لیے عبادت کو آسان بنا دیتا ہے۔ اس بات میں اہل ایمان کے لیے ایک تسلی بھی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’صبر اور نماز سے مدد لو، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے مگر خشوع اور خضوع رکھنے والوں پر۔‘‘ (البقرہ : 45۔ 46)

اللہ تعالی کے انبیاء علہیم الصلاۃ والسلام اللہ تعالی کے بارے میں اچھا گمان رکھتے تھے اور اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتے تھے، اسی وجہ سے انھیں بلند مقام حاصل ہوا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بیت اللہ کے پاس چھوڑ دیا، اس دور میں مکہ مکرمہ میں کوئی آبادی تھی اور نہ پانی، مگر حضرت ابراھیم علیہ السلام انہیں چھوڑ کر واپس چل پڑے۔ اس پر سیدہ ہاجر علیہا السلام نے ان سے پوچھا: ابراہیم! ہمیں اس وادی میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو جس میں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی کھانے پینے کی چیز! وہ بار بار حضرت ابراھیم علیہ السلام سے یہی پوچھتی رہی لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ پھر سیدہ ہاجر نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا: جی ہاں! کہنے لگیں: پھر وہ ہمیں رسوا نہ کرے گا۔ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

سیدہ کے اچھے گمان کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس جگہ سے کہ جہاں پر کوئی آبادی یا کوئی پودا نہیں تھا وہاں سے پانی کا ایک چشمہ پھوٹ پڑا، وہاں االلہ تبارک و تعالیٰ کا گھر تعمیر ہو گیا، سیدہ ہاجر کا ذکر قیامت تک کے لئے محفوظ ہو گیا، ان کا بیٹا نبی بن گیا اور اس کی نسل میں خاتم النبیین ﷺ بہترین نبی بن کر اٹھے۔

یعقوب علیہ السلام کو اپنے دو بیٹوں کی جدائی برداشت کرنا پڑی، لیکن انہوں نے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا، کہا:

’’میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا۔‘‘ (یوسف : 86)

ان کا دل اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھے گمان سے معمور تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ اللہ ہی بہترین حفاظت کرنے والا ہے۔ انہوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

’’کیا بعید ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا ملائے، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں۔‘‘ (یوسف : 83)

پھر انہوں نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کو تلاش کریں، فرمایا:

’’میرے بچو، جا کر یوسفؑ اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔‘‘ (یوسف : 87)

بنی اسرایل پر بھی بڑا ظلم ہوتا رہا، مگر وہ شدید ظلم سہتے رہے اور اللہ پر اعتماد کرتے رہے، وہ کبھی ناامید نہیں ہوئے، اللہ تعالی کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کی وجہ سے انہیں بھی آسانی نصیب ہوگی۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:

’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی انہی کے لیے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں۔ اس کی قوم کے لوگوں نے کہا “تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں” اس نے جواب دیا “قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔‘‘ (الاعراف : 128۔ 129 )

پھر موسی علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے ساتھیوں پر ایک اور سختی کا وقت آیا، جب سمندر ان کے سامنے تھا اور فرعون کا لاؤلشکر ان کے پیچھے تھا۔ اس وقت موسیٰ السلام کے ساتھیوں نے کہا:

’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ (الشعراء : 61)

مگر کلیم اللہ نے اللہ تعالی پر کمال بھروسے اور اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور اچھا گمان رکھتے ہوئے کہا:

’’ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔‘‘ (الشعراء : 62)

’’ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ “مار اپنا عصا سمندر پر” یکایک سمندر پھَٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا۔ اُسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ موسیٰؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، ہم نے بچا لیا۔ اور دوسروں کو غرق کر دیا۔‘‘ (الشعراء : 63 )

اسی طرح ہمارے نبی کریم ﷺ، جو بہترین عبادت کرنے والے تھے، انہیں بھی ان کی قوم نے خوب اذیت دی مگر وہ مولا تبارک تعالیٰ کی نصرت اور تائید سے پرامید رہے۔ طائف کے واقعے میں پہاڑوں کے فرشتے نے آپ ﷺ سے اذیت دینے والی قوم کو دو پہاڑوں میں کچل دینے کی پیشکش کی تو آپ ﷺ نے فرمایا:

مجھے امید ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی نسل میں ضرور ایسے لوگ پیدا کرے گا جو اللہ کو واحد الہ تسلیم کرتے ہوں گے۔ 

اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ 

نبی کریم ﷺ نے مشکل سے مشکل وقت میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ سے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہیں مکہ سے نکال دیا گیا تو غار میں پناہ لی اور جب مشرکین پیچھے سے آ گئے تو وہ اپنے ساتھی کو تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے:

’’غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘(التوبہ : 40)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے غار میں نبی ﷺ سے کہا تھا کہ اے اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف دیکھے تو ہم اسے نظر آجائیں گے! لیکن رسول اللہ ﷺ نے انھیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا:

ابوبکر! ان دو بندوں کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے کہ جن کا تیسرا اللہ ہو! 

آپ ﷺ کو سخت اذیت دی گئی، شدید پریشانی کا سامنا رہا اور ہر طرف سے دروازے بند نظر آنے لگے مگر پھر بھی انہیں اس بات کا یقین تھا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس دین کو ساری دنیا میں پھیلا دے گا۔ فرمایا:

یہ دین وہاں وہاں ضرور پہنچے گا جہاں جہاں دن اور رات کا نظام قائم ہے۔ اللہ کوئی کچا یا پکا گھر ایسا نہ چھوڑے گا جس میں یہ دین داخل نہ ہو، چاہے اس سے کسی عزت والے کو عزت ملے یا ذلت والے کو رسوائی ملے۔ 

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ 

رسول اللہ ﷺ ایک دن سو رہے تھے تو ایک اعرابی نے تلوار نکال لی، آپ ﷺ کی آنکھ کھلی تو تلوار سامنے تھی۔ وہ کہنے لگا کہ آپ کو مجھ سے کون بچائے گا۔ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: اللہ تعالی۔ آپ ﷺ نے اسے کوئی سزا نہ دی اور اٹھ کر بیٹھ گئے۔ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ 

امام احمد کی روایت میں ہے کہ جب آپ ﷺ نے یہ کہا کہ اللہ مجھے بچائے گا تو اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین انبیاء کے بعد سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے متعلق اچھا سوچنے والے تھے۔ فرمان الہی ہے:

’’اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ، تماررے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، اُن سے ڈرو”، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور اُنہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارسا ز ہے۔‘‘ آل عمران : 173)

ایک روز ابن دَغِنَہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یا تو تو اپنی نماز اور تلاوت آہستہ آواز سے کرو گے یا میں آپ کی حمایت کرنا چھوڑ دوں گا۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: اچھا تو مجھے تمہاری حمایت کی ضرورت نہیں ہے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہ میرے لئے کافی ہے۔ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ 

سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ایک روز ہمیں رسول اللہ ﷺ نے صدقہ دینے کا حکم دیا۔ اتفاق سے اس روز میرے پاس کچھ مال پڑا تھا۔ میں نے دل میں کہا کہ آج تو میں ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ پر بازی لے جاؤں گا۔ میں اپنا آدھا مال لے کر آ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا:

اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ 

میں نے بتایا کہ اتنا ہی مال چھوڑ کر آیا ہوں۔ پھر ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ آئے اور وہ اپنا سارا مال لے آئے۔ ان سے آپ ﷺ نے پوچھا:

اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ 

انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول۔ اسے امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔ 

خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا، جو کہ ساری دنیا کی عورتوں کی سردار ہیں، وحی کی ابتداء میں نبی ﷺ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے:

مجھے تو اپنی جان کے حوالے سے ڈر لگنے لگا ہے۔ سیدہ نے جواب دیا: نہیں خدا کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، فقیر کو کھلاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور دنیا کی مصیبتوں میں لوگوں کے کام آتے ہیں۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ 

اسی نہج پر امت کے سلف صالحین قائم رہے۔ 

سفیان رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں کبھی یہ نہ چاہوں گا کہ  میری  نیکیوں اور برائیوں کا حساب کتاب میرے والدین کے سپرد کر دیا جائے۔ اللہ ان سے بڑھ کر مجھ پر رحم کرنے والا ہے۔ 

سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ میں تجھ سے صحیح معنوں میں توکل کا سوال کرتا ہوں اور تیرے متعلق اچھے گمان کا سوال کرتا ہوں۔ 

جنّوں میں بھی اللہ تعالی کے اسے بندے ہیں کہ جو اللہ تعالی کے بارے میں اچھا سوچتے ہیں اور اس کی قوت اور کشادہ عالم پر یقین رکھتے ہیں۔ فرمان الٰہی ہے:

’’ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کر سکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اُسے ہرا سکتے ہیں۔‘‘ (الجن :12)

اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اگر اللہ تبارک وتعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالی ان کی قسم پوری کرے۔ اس لیے نہیں کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے بڑے قریب ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں۔ 

مومن اللہ تبارک وتعالیٰ کے بارے میں ہر وقت اچھا گمان رکھتا ہے اور ہر حال میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا سوچتا ہے۔ خاص طور پر جب وہ دعا کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے کہ وہ ہی دعا سننے والا ہے، قریب ہے، حاجتیں پوری کرنے والا ہے اور وہ دعا کرنے والے کو رد نہیں کرتا۔ 

توبہ کی قبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ توبہ کرتے وقت اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا گمان رکھا جائے، نبی کریم ﷺ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

میرے بندے نے گناہ کیا، پھر اسے معلوم ہو گیا کہ اس کا رب گناہ معاف کرنے والا ہے اور وہ گناہ پر سزا بھی دے سکتا ہے۔ اے میرے بندے! جو چاہے کرتا رہ! مینے توجھے بخش دیا ہے۔ 

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ 

جب مشکلات اور مصیبتیں آتی ہیں، اس وقت اچھا اور برا گمان رکھنے والے واضح اور الگ ہو جاتے ہیں۔ 

غزوہ احد میں سچےمومن تو ثابت قدم رہے اور دوسرے لوگوں کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا:

’’اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلاف حق تھے۔‘‘ (آل عمران :154)

غزوہ احزاب میں مختلف لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق مختلف سوچ رکھتے تھے، ایک گروہ کے متعلق فرمایا:

’’جب وہ اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آ گئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اُس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہلا مارے گئے۔ یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اُس کے رسولؐ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے۔ ‘‘ (احزاب :10 1)

 

صحابہ کرام کو تو اس چیز کا یقین تھا مشکل اور تنگی کے بعد فتح ضرور حاصل ہوگی۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اور سچے مومنوں (کا حال اُس وقت یہ تھا کہ) جب انہوں نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ “یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اُس کے رسولؐ کی بات بالکل سچّی تھی” اِس واقعہ نے اُن کے ایمان اور ان کی سپردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا۔‘‘ (الأحزاب : 22)

جب مشکلات بڑھ جائیں اور تنگی زیادہ ہوجائے تو ان سے نکلنے کا راستہ بھی اللہ تبارک و تعالی کے متعلق اچھا گمان رکھنا ہی ہے۔ وہ تین سچے مسلمان جو اپنی سستی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے، ان کی توبہ کی قبولیت اور چھٹکارہ اسی بنا پر ہوا تھا کہ وہ اللہ کے متعلق اچھا گمان رکھتے تھے، فرمان الہی ہے:

’’اور اُن تینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کر دیا گیا تھا جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں، یقیناً وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔( التوبہ: 118)

اللہ تعالی بڑا طاقتور اور قدرت والا ہے، وہ اپنے بندوں کی نصرت ضرور کرتا ہے اور اس کی مدد کوئی نہیں روک سکتا۔ ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی نصرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمہیں چھوڑ دے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو؟‘‘( آل عمران : 160)

اللہ تعالی بڑا ہی رحم کرنے والا رحمن ہے۔ جو اس پر ایمان رکھتا ہے، نیک کام کرتا ہے اور اس کی رحمت کا امیدوار بنتا ہے اللہ تعالی اسے اپنی رحمت ضرور نصیب فرماتا ہے۔ فرمان نبوی ہے:

جب اللہ تعالی نے مخلوقات کو پیدا کیا تو اس نے کتاب میں یہ لکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ وہ کتاب اس کے پاس عرش پر محفوظ ہے۔ 

جسے تنگ حالی کا سامنا ہو اور وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا گمان رکھے تو اللہ تعالی اسے جلد کشادگی نصیب فرما دیتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:

جسے کبھی فاقہ ہوجائے اور وہ اسکی شکایت لوگوں سے کرنے لگے تو اس کا فاقہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور جسے کبھی فاقہ ہو اور وہ اس کی شکایت اللہ تعالی سے کرے تو اللہ تعالی جلد یا بدیر اسے اچھا رزق عطا فرمائے گا۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! اگر میرا قرض ادا کرنے میں دقت پیش آئی تو میرے آقا سے مدد لے لینا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالئ عنہ بتاتے ہیں کہ بخدا مجھے سمجھ نہیں آئی تھی کہ انہوں نے کس کی طرف اشارہ کیا ہے، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کا آقا کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: اللہ۔ فرماتے ہیں اس کے بعد جب بھی ان کا کوئی قرض چکانے میں دقت پیش آتی تو میں یہ کہتا کہ اے زبیر کے آقا! اس کا قرض ادا کر دیجئے۔ یوں ان کا قرض ادا کرنا آسان ہو جاتا۔ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ اللہ تعالی بہت معاف کرنے والا اور بہت دینے والا ہے۔ جو اللہ کے متعلق یہ گمان رکھے کہ وہ بہت بے نیاز ہے، بہت کریم ہے اور بہت معاف کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کردیتا ہے۔ اللہ تعالی ہر رات، آخری پہر دنیا سے قریبی آسمان پر آکر کہتا ہے:

مجھے کون پکارتا ہے، میں اس کی پکار سنتا ہوں، مجھ سے کون مانگتا ہے، میں اسے دیتا ہوں، مجھ سے کون معافی مانگتا ہے، میں اسے معاف کرتا ہوں۔ 

اللہ تعالی کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں، وہ ہر وقت عطا کرتا رہتا ہے مگر پھر بھی اس کے ہاتھ میں کوئی کمی نہیں آتی۔ 

اللہ معاف کرنے والا ہے۔ وہ اپنے بندے کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے۔ وہ رات کے وقت ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کرلے اور دن میں ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کرے۔ 

اللہ تعالی کی ایک باکمال صفت یہ ہے کہ وہ مانگنے والے کو کبھی دھتکارتا نہیں ہے۔ 

جب انسان کی موت کا وقت قریب آ جاتا ہے تو اس وقت اسے اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا گمان رکھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا گمان رکھتا ہو۔ 

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ 

بھلا گمان بھی ایک عبادت ہے، جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی فرمانبرداری اور بندگی ہے۔ اللہ تعالی ہر بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہے۔ فرمان نبوی ہے:

اللہ تعالی فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہوں اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ 

اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ 

ابن مسعود رضی اللہ تعالئ عنہ فرماتے ہیں: جب بھی انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق کچھ سوچتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی مراد پوری کردیتا ہے کیونکہ ساری خیر اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ 

اگر انسان کو اللہ کے متعلق اچھا گمان نصیب ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اسکے دین میں بھلائی کا ایک بہت بڑا دروازہ کھول دیا ہے۔

ابن مسعود رضی اللہ تعالئ عنہ فرماتے ہیں: اس ہستی کی قسم جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے! اللہ کے متعلق اچھے گمان سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہے۔ 

لوگوں کے اعمال بھی اللہ تعالی کے متعلق ان کے گمان کے مطابق ہوتے ہیں۔ مومن بھلا گمان رکھتا ہے تو اچھا عمل کرتا ہے اور کافر برا گمان رکھتا ہے تو برا عمل آتا ہے۔ 

نیک گمان کی عبادت میں اسلام کی بہتری اور ایمان کا کمال ہے۔ یہ عبادت دل سے کی جانیوالی عبادت ہے جس کا نتیجہ اللہ پر بھروسے اور اعتماد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ 

ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آپ اللہ تعالی کے متعلق جتنا اچھا گمان رکھو گے اتنا ہی آپ اس کے اوپر بھروسہ اور اعتماد بھی کرنے لگو گے۔ اسی لیے بعض علماء نے توکل کی تشریح اللہ کے متعلق اچھا گمان کی ہے۔ 

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اچھا گمان توکل کی طرف لے جاتا ہے، کیونکہ ایسا تو ممکن نہیں ہے کی اس پر اعتماد اور بھروسہ کیا جائے جس کے متعلق گمان ہی اچھا نہ ہو، یا جس سے کوئی اچھی امید ہی نہ ہو۔ 

اس عبادت کا ثمرہ یہ ہے کہ دل میں سکون آجاتا ہے، اللہ سے دل لگ جاتا ہے، توبہ نصیب ہوجاتی ہے اور شرح صدر نصیب ہو جاتا ہے۔ ایمان کے بعد اللہ پر بھروسے اور اعتماد سے بڑھ کر کوئی بڑی نعمت نہیں ہے جو انسان کو اچھی توقع رکھنے پر اکساتی ہو۔ 

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

اللہ کی مرضی کے بغیر ایک بیماری دوسرے شخص کو نہیں لگتی، بد فالی درست نہیں ہے اور مجھے مستقبل کے بارے میں اچھی توقع رکھنا بہت پسند ہے۔ 

اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ 

حلیمی علیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بد فالی اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق بدگمانی ہے اور مستقبل کے بارے میں اچھی توقع اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا گمان ہے۔

بھلے گمان سے انسان کے اندر دلیری اور طاقت آجاتی ہے۔ ابوعبداللہ ساجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو اللہ پر بھروسہ کر لیتا ہے وہ اپنی طاقت جمع کر لیتا ہے۔ 

یہ بہترین زاد راہ ہے، سلمہ بن دینار رحمہ اللہ سے کہا گیا: اے ابو حازم! آپکا سامان کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ پر بھروسہ اور لوگوں سے مایوسی۔ 

جو اللہ تعالی کے متعلق اچھا گمان رکھتا ہے اس کے ہاتھ کھل جاتے ہیں اور وہ اللہ تعالی کے لئے گئے مال سے خرچ کرنے لگتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’جو کچھ تم خرچ کر دیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے۔‘‘ (السبا: 39)

سلیمان دارانی ﷫فرماتے ہیں: جو رزق کے حوالے سے اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے اس کے اخلاق اچھے ہو جاتے ہیں، اس کا مزاج حلیم ہو جاتا ہے، وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے لگتا ہے اور اسکی نماز میں وسوسے کم ہو جاتے ہیں۔ 

اللہ کے بارے میں اچھی سوچ سے انسان اللہ تبارک وتعالیٰ سے پر امید ہو جاتا ہے اور وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ثواب کو پانے کے لیے اچھے اعمال کرنے لگتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’جو نیکی بھی یہ کریں گے اس کی نا قدری نہ کی جائے گی۔‘‘ (آل عمران: 115)

اللہ تعالی بندوں کے ساتھ ان کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہے، جزا عمل کے عین مطابق ہوتی ہے، جو بھلا گمان کرتا ہے وہ اسی کے لیے بہتر ہے اور جو برا گمان کرتا ہے وہ اسی کے لئے برا ہے۔ 

نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:

اللہ تعالی فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہوں، وہ جو چاہے میرے بارے میں سوچ لے! اگر اچھا سوچے گا تو اسی کے یہ بہتر ہے اور اگر برا سوچے گا تو اسی کے لئے برا ہے۔ 

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ 

جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا گمان کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کا اعتماد کبھی نہیں توڑتا، اچھا گمان رکھنے والے قیامت کے دن کہیں گے:

’’لو دیکھو، پڑھو میرا نامہ اعمال۔ میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے۔ پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا۔ عالی مقام جنت میں۔‘‘ (الحاقہ: 19 2)

بعدازاں! اے مسلمانو! 

اللہ بڑا کریم ہے، بہت بڑا ہے، بہت طاقتور اور عظیم ہے۔ جب وہ کچھ کرنا چاہتا ہے تو بس کہتا ہے ہوجا اور وہ چیز ہوجاتی ہے۔ اس نے اپنی کتاب کی حفاظت اور اپنے دین کی نصرت کا وعدہ کیا ہے، اس نےعاقبت اپنے پرہیز گار بندوں کے لیے رکھی ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرما دیتا ہے، جو اسکی طرف پلٹتا ہے اس کی مشکل دور کردیتا ہے۔ اللہ کے متعلق انسان کا علم جتنا زیادہ ہو جاتا ہے اتنا ہی اللہ پر اس کااعتماد بھی بڑھ جاتا ہے، اور جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق برا گمان رکھتا ہے تو اس کی بدگمانی کی بنیاد اللہ تعالی کے اسماء وصفات سے نا آگاہی ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ ایسا ہی کرتے تھے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلاف حق تھے۔‘‘ (آل عمران: 154)

اسماء و صفات پر ایمان کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا سوچنے لگتا ہے، اس پر بھروسہ کرنے لگتا ہے اور اپنے معاملات اس کے سپرد کرنے لگتا ہے۔ 

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ 

’’آخر اللہ ربّ العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے؟‘‘ (الصافات: 87)

اللہ مجھے اور آپکو قرآن عظیم میں برکت عطا فرمائے، آیات اور ذکر حکیم سے نفع پہنچائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اپنے لئے، آپ کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ تعالی سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اللہ سے معافی مانگیے! یقینا! معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ 

دوسرا خطبہ

اللہ کے احسان پر اسی کے لیے ساری تعریف ہے، اس کی کرم نوازیوں اور عطاؤں پر اسی کیلئے ہر طرح کا شکر ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمدﷺ  اللہ کے بندے اور رسول ہیں اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو آپ ﷺ آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر۔ 

اے مسلمانوں! 

اللہ تعالی کے متعلق اچھا گمان انسان کے اعمال میں ظاہر ہوتا ہے، اس کا فائدہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ انسان کے اعمال بھی اچھے ہوں، انسان کا گمان جتنا اچھا ہوگا اتنا ہی اس کا عمل بھی بہتر ہوگا، اور جس کا گمان برا ہوگا اسکا عمل بھی برا ہوگا۔ 

اگر حسن ظن کے ساتھ گناہ ہو جائیں تو بھی انسان اللہ کی سزا سے محفوظ رہتا ہے، بھلا گمان انسان کو خود ہی نیکی کی طرف لے جاتا ہے، اور جب دل میں اللہ کے متعلق اچھا گمان کم ہوجاتا ہے تو اس کا اثر گناہوں کے شکل میں نظر آنے لگتا ہے۔ 

یاد رکھو کہ اللہ تعالی نے آپ کو نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کا حکم قرآن کریم میں دیا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ (الأحزاب: 56)

اے اللہ رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما ہمارے نبی محمد ﷺ پر۔ اے اللہ خلفائے راشدین ابوبکر عمر عثمان اور علی سے راضی ہوجا جو عدل پر قائم رہنے والے تھے اور اسی کے مطابق فیصلہ کرنے والے تھے۔ تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا اور اے سب سے بڑھ کر کرم نوازیاں کرنے والے! اپنا خاص فضل وکرم فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا! 

اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما شرک اور مشرکین کو رسوا فرما دشمنان دین کو ہلاک فرما اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن و سلامتی والا بنا۔

اے اللہ ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما اے اللہ انہیں توبہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ اے پروردگار عالم ہماری فوج کی مدد فرما اور ہمارے ملک کی حفاظت فرما۔

اے اللہ اے عزت و طاقت والے! جو ہمارے بارے میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں یا ہمارے ملک کے بارے میں برا ارادہ رکھے یا اللہ تو اسے خود میں مشغول کر دے اور اسی کی چالوں میں اسے ہلاک فرما دے۔ 

اے اللہ ہمارے حکمران کو ہدایت عطا فرما اس کے اعمال سے راضی ہوجا تمام مسلمانوں کو کتاب و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ 

’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘ (البقرہ: 201)

اے اللہ تو ہی الٰہ ہے، تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے تو بے نیاز ہے اور ہم فقیر او رمحتاج ہیں، تو ہم پر بارشیں نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما۔ 

’’ اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔‘‘ (الأعراف:23)

اللہ کے بندو!

’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔‘‘ (النحل: 90)

عظیم وجلیل اللہ کو یاد کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں دے گا اللہ کا ذکر تو بلندتر ہے اور اللہ آپ کے اعمال سے باخبر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں