76

اسلام کی نرمی

اسلام کی نرمی

مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد العزیز السدیس حفظہ اللہ

جمعۃ المبارک 18 ربیع الثانی 1439 ھ بمطابق 5 جنوری 2018ء

ترجمہ: محمد عاطف الیاس

پہلا خطبہ:

ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! ہم تیری حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں، تجھ ہی سے معافی مانگتے ہیں اور ساری بھلائی تیری طرف ہی منسوب کرتے ہیں۔

ساری حمد و ثنا اور تعریف اور تعظیم تیرے چہرہ اقدس ہی کے لیے ہے اور تو سب سے بڑھ کر حمدوثنا کا مستحق ہے۔

اے کبریائی والے! ساری تعریف تیرے ہی لیے ہے اور تیری حمد وثنا کے ساتھ شکر کرنے والا، بہترین شکرگزار ہے۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی نے ہمیں بہترین احکام والی شریعت سے نوازا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ابن عبد اللہ ﷺ مخلوق میں بہترین ہیں۔ آپ ﷺ کو نرمی اور بہترین اخلاق والے  دین کے ساتھ مبعوث فرمایا گیا۔ اے اللہ، رحمتیں، برکتیں، سلامتیاں اور نعمتیں نازل فرما ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ﷺ پر کہ جنہوں نے اللہ کے فضل و کرم سے انسانیت کو جاہلیت سے ­نکالا، آپ ﷺ کی آل اورنیک صحابہ کرام پر کہ جو ہدایت کے روشن ستارے تھے، تابعین پر اور جب تک دن اور رات کا یہ نظام قائم ہے اس وقت تک استقامت کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر!

بعدازاں!

اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور پرہیزگاری اختیار کرو، کیونکہ پرہیزگاری اتنا شاندار وصف ہے کہ جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور غلطیوں کا ازالہ ہوجاتا ہے، اسی سے دنیا و آخرت میں نفس کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ فرمان الہی ہے:

’’جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دور کر دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔‘‘ (الطلاق :5)

تو اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! پرہیزگاری اپنائے رکھو، کیونکہ پرہیزگاری میں دنیا و آخرت کی عزت اور بے نیازی ہے۔ اسے اپنائے رکھو تاکہ آپ کو من پسند چیز حاصل کرنے میں کامیابی مل سکے۔

اے مسلمان معاشرے کے لوگو!

جو دین اسلام کے احکام پر غور و فکر کرتا ہے اور قرآن وحدیث کا بغور مطالعہ کرتا ہے، اسے اس بات میں کوئی شک نہیں رہتا کہ دین اسلام لوگوں کی بھلائی کے لیے بنایا گیا ہے، اس کے تمام احکام میں لوگوں کی بھلائی ہے، یہ لوگوں کو نقصان سے محفوظ کرتا ہے اور ان کی دنیا و آخرت کی مشکلات آسان کرتا ہے۔

قرآن وسنت کے الفاظ میں بڑی فصاحت ہے، ان میں بڑی برکت ہے، ان میں بیان کیے جانے والے افکار میں بڑی وضاحت ہے اور ان کے مقصد اور مفہوم کو سمجھنا انتہائی آسان ہے، ان کے الفاظ میں نہ تو کوئی مشکل ہے اور نہ ان کے معنی میں کوئی دشواری ہے اور انکے مقاصد میں بھی کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے۔ ان کے مطالعہ میں جیسے جیسے انسان آگے بڑھتا جاتا ہے اور شریعت کے مقاصد کو سمجھتا جاتا ہے، ویسے ویسے دین اسلام کی ایک خاص اور قابل فخر خاصیت اس پر کھلتی جاتی ہے جس سے اسلام دیگر تمام ادیان سے ممتاز ہو جاتا ہے۔ یہ خاصیت آسانی اور نرمی کی ہے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

مجھے آسانی پر مشتمل دین کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے۔

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

دین کی آسانی کے متعلق ہم اس وقت بات کررہے ہیں کہ جب دین اسلام کے متعلق غیر صحیح تصور لوگوں میں پھیل چکا ہے۔ ایک طرف لوگ اس میں مبالغہ آرائی اور دوسری طرف اس میں کمی کر رہے ہیں۔ یوں اس کے معاملے میں لوگ افراط وتفریط کا شکار ہیں۔

اے مسلمان معاشرے کے لوگو!

اللہ تعالی نے لوگوں پر رحمت کرتے ہوئے دین اسلام کا نظام بنایا ہے تاکہ ان کے لیے آسانی پیدا ہو جائے۔ اس کے احکام لوگوں کو مشکل میں نہیں ڈالتے، بلکہ یہ فطرت کے عین مطابق ہیں، انسانی نفس کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں اور لوگوں سے مشکل اور تنگی دور کرتے ہیں۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔‘‘ (الحج: 78)

امام طبری علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے دین اسلام میں کوئی مشکل نہیں رکھی۔ بلکہ اسے آسان اور کشادہ بنایا ہے۔ اس نے توبہ کے ذریعے بعض گناہوں کی معافی رکھی ہے، کَفَّاروں اور قصاص میں کچھ گناہوں کی معافی رکھی ہے۔ اس طرح مومن جو بھی گناہ کرتا ہے، تو اسے معاف کرانے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ضرور موجود ہوتا ہے۔

تو اسلام کشادہ، آسان اور نرم ہے، یہ میانہ روی اور اعتدال کا دین ہے۔

دین اسلام کے طے شدہ فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ دنیا میں موجود تمام چیزیں انسان کے لئے حلال ہیں، وہ انہیں کھا سکتا ہے، انہیں پی سکتا ہے اور ان سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے، اس حوالے سے حرام چیزیں صرف وہ ہیں کہ جنہیں قرآن یا حدیث میں حرام کہا گیا ہے۔

دین اسلام کے احکام کا مطالعہ کیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ حرام چیزیں حلال چیزوں کی نسبت بہت تھوڑی ہیں اور اسلام نے جس چیز کو حرام کیا ہے اسے یوں ہی بے مقصد حرام نہیں کر دیا بلکہ اسے کسی وجہ سے حرام کیا ہے۔ فرمان الہی ہے:

’’ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔‘‘ (الاعراف: 157)

مگر جب ضرورت ہوتی ہے تو حرام چیز بھی حلال ہو جاتی ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اسلامیہ کے قواعد و اصول سب ایک جیسے نہیں ہیں، بلکہ بعض مقامات پر تو احوال، عادات وتقاليد، صورتحال اور زمانے کا خیال کرتے ہوئے بہت نرمی برتی گئی ہے۔

ان خصوصی احکام کو اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر نرمی کرتے ہوئے وضع کیا ہے جنہیں علماء رخصت کا نام دیتے ہیں اور جن سے ضرورت کے وقت فائدہ حاصل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

امام احمد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اللہ تعالی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی دی گئی آسانی سے فائدہ اٹھایا جائے اور اس کی نافرمانی سے بچا جائے۔

اے مسلمانو!

اگر ہم شریعت اسلامیہ کے شاندار احکام پر غوروفکر کریں تو اس کے شاندارموتی ایک خاص نظم سے سامنے آنے لگتے ہیں۔ یہ دین کہ جس کی حجت واضح ہوگئی اور جسکی حکومت غالب آگئی، اس کے عظیم اصول ومبادی میں عادات وتقالید کو نظر انداز نہیں کیا گیا، کیوں کہ ہر ملک کے خاص رسم ورواج ہوتے ہیں جو وہاں کے لوگوں کے اندر معروف ہوتے ہیں۔ ان تقالید کا خاص خیال کرنے سے لوگوں کے لئے بہت آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔

علماۓاسلام اور مختلف مذاہب کے فقہاء بھی اس پہلو پر خاص توجہ دیتے رہے ہیں۔ وہ ہر زمانے، علاقے، حالات اور واقعات کے لیے مختلف احکام وضع کرتے رہے ہیں۔

دین اسلام میں جن احکام کے بارے میں کوئی آیت یا حدیث نہیں آئی، وہ احکام معاشرے میں معروف طریقے کے ساتھ مل جاتے ہیں، وہ مختلف تقالید اور مختلف حالات کے مطابق چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دین نرمی پیدا کرنے والا دین ہے اور اس میں مشکل اور تنگی نہیں ہے۔

ہمارا پروردگار اپنے بندوں پر بہت رحم کرنے والا ہے، اس نے ان کے لیے وہی عبادات بنائی ہیں کہ جو ان کے لیئے آسان ہوں اور جن سے انہیں مشکل یا تنگی نہ ہو۔ بعض عبادات کو ادا کرنے میں تھوڑی محنت لگتی ہے مگر وہ انسانی بساط کے اندر اندر ہوتی ہیں اور ہر انسان تھوڑی محنت کے ساتھ تمام عبادات ادا کر سکتا ہے۔

طہارت میں آسانی کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالی نے موزوں، عمامہ اور زخم پر باندھی گئی پٹی پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ جس کے ہاں پانی دستیاب نہ ہو اسے تیمم کی اجازت دی ہے۔ دنیا کے ہر مقام پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی ہے۔ فرمان نبویﷺ ہے:

اور ساری زمین میرے لئے پاک اور جاۓنماز بنائی گئی ہے۔

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح سفر کی حالت میں اور تیز بارش کے وقت نماز قصر کرنے اور دو نمازیں اکٹھی پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

دین اسلام میں کوئی حکم ایسا نہیں چھوڑا گیا کہ جس میں لوگوں کو تنگی ہو اور اس میں آسانی کا پہلو پیدا نہ کیا گیا ہو۔ یہ معاملہ ساری عبادات کا ہے۔ زکواۃ میں بھی ایسے ہی کیا گیا ہے، حج میں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے، روزوں میں بھی اور جہاد میں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے۔

جو تاریخ کے واقعات اور حالات کا مطالعہ کرتا ہے اور جو انسانی تہذیب کی جانچ پڑتال کرتا ہے اسے دین اسلام کی پیدا کردہ آسانی تاریخ میں کسی دوسری جگہ پر اپنی اتنی کامل اور واضح شکل میں نظر نہیں آتی جتنی  دین اسلام کے احکام میں نظر آتی ہے۔ شریعت اسلامیہ کامل ترین شریعت ہے، اس میں کوئی کمی نہیں ہے، یہ ایک مکمل نظام ہے اور اس نظام کی کوئی دوسری مثال نہیں ہے۔

اس کے عقائد میں میانہ روی، اعتدال، آسانی اور نرمی اپنائی گئی ہے۔ اس میں انسان کی بنیادی 5 ضرورتوں کا خیال کیا گیا ہے، بڑے مقاصد کا اہتمام کیا گیا ہے۔ انسانی عقل میں فطری طور پر اچھی اور بری سمجھی جانے والی چیزوں کا خیال کیا گیا ہے، اسی طرح واضح اور ناقابل تردید چیزوں کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ اسی طرح اس میں بھلائی کو بڑھانے کے لیے اور برائی کو کم اور آسانی پیدا کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے گئے ہیں۔ اس میں اتحاد واتفاق کا خاص خیال رکھا گیا ہے اور گروہ بندی اور فرقہ واریت سے منع کیا گیا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘          (آل عمران :103)

ہمارا دین تو سراسر محبت پر مشتمل ہے جس کے سائے میں جنگی قیدیوں کا بھی اکرام کیا جاتا ہے۔

یہی ہمارا نرمی اور اخلاق والا دین ہے اس کے متعلق ان لوگوں سے پوچھیے کہ جن پر ہم نے غلبہ حاصل کیا ہے یا ان قیدیوں سے ہی پوچھ لیجیے جو ہمارے قبضے میں رہے ہیں۔

اے اہل ایمان!

دین اسلام کی نرمی کو صرف عبادات تک محدود کر دینا بھی بدترین ظلم اور زیادتی ہے کیونکہ عبادات اسلام کا صرف ایک حصہ ہیں اور جو شخص معاملات کے حوالے سے اسلامی رہنمائی کا مطالعہ کرتا ہے وہ آیات کریمہ اور احادیث مبارکہ میں موجود روشن رہنمائی کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ دراصل معاملات ایک ایسا وسیع میدان ہے کہ جس میں دین اسلام کی نرمی اور آسانی کا سورج کما حقہ نکلتا ہے اور اپنی روشنی خوب پھیلاتا ہے۔

امام بخاری نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو بیچتے وقت، خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی سے کام لے۔

اسی طرح امام احمد نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اللہ تعالی نے ایک شخص کو جنت میں اس لیے داخل کردیا کہ وہ خریدتے وقت، بیچتے وقت، تقاضا کرتے وقت اور فیصلہ کرتے وقت نرمی والا معاملہ اپناتا تھا۔

یہ تو عمومی معاملات کی بات ہے، ذاتی معاملات اور ازدواجی زندگی کے معاملات میں تو ہمیں اس سے بھی زیادہ نظم وضبط نظر آتا ہے، دین اسلام نے اس تعلق کو بھی خوب بنایا ہے اور اسے بہت اہمیت دی ہے، ہر ایک کے لیے اس کا حق ملنا یقینی بنایا گیا ہے۔ نرمی، آسانی، بھلے معاملے، اچھے طریقے اور ایک دوسرے کو معاف کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں، اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کر دو اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے۔‘‘(النور: 32)

امام احمد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جس نکاح میں خرچہ کم ہوتا ہے، برکت اسی میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

دین اسلام کی نرمی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے طلاق سے بچانے کے لیے بہت سی احتیاطی تدابیر بتائی ہیں جو طلاق کی روک تھام کی ضامن ہیں اور جو گھرانے کی حفاظت کرتی ہیں۔ چنانچہ مردوں کو عورتوں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کی تلقین کی گئی اور عورتوں کو شوہروں کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا۔ جب زوجین میں اختلاف پیدا ہو جائے تو فیصلہ کرانے کے لیے دو با عزت لوگوں کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا۔ فرمان الہی ہے:

’’اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے۔‘‘  (النساء: 35)

اے مسلمان معاشرے کے لوگو!

جب اسلام پھیل گیا اور اس کی بنیادیں مضبوط ہوگئیں، اور اسکی شاخیں بلند اور خوبصورت ہو گئیں اور مختلف جرائم پر حدود اور سزاؤں کے احکام نازل ہونے لگے تو اسلام میں نرمی اور رحمت مزید واضح ہو گئی، پھر یہ ایک شاندار مثال بن گیا اور رحمت کے حوالے سے بہترین نمونہ بن گیا۔

اسلام میں مجرم کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہیں دی جاتی، یہ طریقہ جرم روکنے کے لئے بہترین ہے۔ اسی طرح سزا صرف مجرم کو دی جاتی ہے، نہ اس کے باپ کو، نہ اس کی ماں کو، نہ اس کی اولاد کو اور نہ اس کے دوستوں کو۔ فرمان باری تعالی ہے:

’’ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔‘‘ (الانعام: 164)

دین اسلام نے سزا دیتے وقت زیادتی سے روکا ہے، اسے مقررہ حد سے تجاوز سے منع کیا ہے۔

اور سزاؤں کے نفاذ میں وہ طریقہ اختیار کرنے سے بھی منع کیا ہے جس میں سزا کی شدت میں اضافہ ہو جائے۔فرمان الٰہی ہے:

’’جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، اُس کی مدد کی جائے گی۔‘‘ (الاسراء: 33)

دین اسلام نے مقتول کے ولی کو بھی کئی اختیارات دیے ہیں، وہ چاہے تو قتل کے بدلے قاتل کو قتل کروائے، یا خون بہا وصل کرے یا پھر معاف کرے۔

سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا کوئی رشتہ دار قتل ہوجائے یا اسے خود کوئی زخم لگ جائے تو اسے تین کام کرنے کی اجازت ہے، یا تو وہ برابر کا بدلہ لے لے، یا دیت وصول کرلے اوریا معاف کرے، اس کے علاوہ اگر وہ کچھ کرنا چاہے تو تم اس کے ہاتھ روک دو۔

بلکہ اسلام کی نرمی کا حال تو یہ ہے کہ اس نے معافی کا طریقہ ایجاد کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے انسانی عقل اور ضمیر کو مخاطب کرتے ہوئے معافی کی ترغیب دلائی ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ ہو تعالئ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جو شخص اپنے اوپر ڈھائے گئے ظلم پر دوسرے کو معاف کر دیتا ہے اسے اللہ تبارک وتعالیٰ مزید عزت عطا فرماتا ہے۔

اسی طرح دین اسلام کی نرمی کا حال یہ ہے کہ اس میں حاملہ عورت سے قصاص لینا منع ہے۔ اس پر اس وقت تک حد قائم نہیں کی جاتی جب تک اس کا بچہ پیدا نہ ہو جائے اور اسے دودھ پلاکر فارغ نہ ہو جائے۔ دین اسلام نے تو جرائم کو چھپانے کا حکم دیا ہے اور جتنا ممکن ہو لوگوں کو سزاؤں سے بچانے کا حکم دیا ہے۔

امام ترمذی سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جتنا ہو سکے مسلمانوں کو سزاؤں سے بچاؤ، اگر بچانے کا کوئی راستہ نکل آئے تو ملزم کو چھوڑ دو، کیونکہ غلطی کی بنا پر کسی کو معاف کر دینا غلطی سے سزا دینے سے بہتر ہے۔

اسلام کی نرمی جس طرح پر امن زندگی میں نظر آتی ہے اسی طرح جنگ کے مواقع پر بھی اسلام کی نرمی واضح نظر آتی ہے۔ دین اسلام نے غداری اور دھوکہ اور فریب سے منع کیا ہے۔ عورت، چھوٹے بچے، بوڑھے انسان، راہب، معاہدوں والے، پناہ گزین اور اہل الذمہ کو قتل کرنے سے منع کیا ہے۔

اسلام اپنی نرمی کی وجہ سے تمام ادیان پر غالب آگیا ہے۔ اس کے احکام تو سراسر نرمی اور عدل پر مبنی ہیں۔ اس میں تو مخالفین کے ساتھ بھی عدل والا معاملہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمان الہی ہے:

’’کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔‘‘ (المائدہ: 8)

اس طرح دین اسلام اپنی روشن تعلیمات سے تاریخ کا حسین پھول بن گیا، نور کا حسین عکس بن گیا، کمال کا پر نور چہرا بن گیا۔ اس کے احکام ہمیشہ کے لیے یہ گواہی دیتے رہیں گے کہ دین اسلام ہی نرمی، آسانی، سلامتی، عزت، شرف اور بھائی چارے کا دین ہے۔ فرمان باری تعالی ہے:

’’اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ (البقرہ: 185)

اسی طرح فرمایا:

’’دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملت پر اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام “مسلم” رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔‘‘ (الحج: 78)

اللہ مجھے اور آپکو قرآن وسنت میں برکت عطا فرمائے آیات اور ذکر حکیم سے نفع پہنچائے میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اللہ عظیم و جلیل سے اپنے لئے آپ کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی معافی کا سوال کرتا ہوں آپ بھی اسی سے معافی مانگیں اور اس کی طرف رجوع کیجیے یقینا وہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

الحمدللہ، وہی صفاتِ کمال سے متصف ہے۔ اس کی ربوبیت کے دلائل بے شمار ہیں اور اس کی نعمتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ واحد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، یہ ایسے شخص کی گواہی ہے کہ جو اس کی توحید کا اقرار کرتا ہے، شرک اور ہر طرح کی کمی سے اللہ تعالی کو پاک سمجھتا ہو۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ مخلوق میں بہترین ہیں اور سب سے اعلی مقام اور مرتبے والے ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہلبیت پر، صحابہ کرام پر، تابعین عظام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

بعدازاں! اے اللہ کے بندو!

اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس کی نعمتوں اور بے شمار احسانات کا شکر ادا کرو۔

اے ایمانی بھائیو!

یہ زمانہ ایک ہی بات بار بار کرنے والا نہیں ہے، مگر پھر بھی ہم کئی ایک مرتبہ اس بات کو دہرا چکے ہیں کہ دین اسلام کی آسانی اور نرمی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس میں کسی قسم کی کمزوری پائی جاتی ہے۔ اسلام کی نرمی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہماری زمینیں غصب ہو جائیں اور ہم ان کی حفاظت کے لیے کچھ نہ کریں۔ یا ہماری مقدسات کی حرمت پامال ہو جائے اور ہم دیکھتے رہ جائیں۔ خوب جان لیجئے کہ ہماری مقدسات کی حفاظت کے لیے ہماری جانیں حاضر ہیں، اور اس کام کے لیے ہم اپنی جان اور مال اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ حقیقی دہشت گرد تو وہ ہے جو ظلم وزیادتی کا آغاز کرتا ہے، اپنی زمین عزت اور مقدسات کی حفاظت کرنے والا بھلا دہشت گرد کیسے ہو سکتا ہے۔

اس دور کا سب سے بڑا مسئلہ، مسئلہ فلسطین ہے، مسجد اقصی کی بابرکت سرزمین کا مسئلہ ہے۔ القدس ایک عربی اور اسلامی شہر ہے، اور قیامت تک یہ عربی اور اسلامی ہی رہے گا۔ اسے انکار کرنے والوں کا انکار اور تکبر کرنے والوں کا تکبر کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

سنو سب لوگوں کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ دنیا میں امن و امان اس وقت تک کبھی قائم نہیں ہوسکتا جب تک تمام انسانی معاملات کا دارومدار عدل و انصاف پر قائم نہ ہو جائے۔ اور جب یہ ہو جائے گا تو کوئی کسی دوسرے پر زیادتی نہ کرے گا اور نہ کوئی دوسرے کا حق کھائے گا۔ تاریخ بھی اسی کا سبق دیتی ہے اور ظالم اگلے زمانے کے لیے عبرت بن کر رہتا ہے۔

اسلام کی نرمی مقدسات کی حفاظت کے لئے سختی برتنے کے منافی نہیں ہے۔ اسی طرح فساد، انتہا پسندی، دہشت گردی اور منشیات کے خاتمے کی کوششیں بھی کسی طرح دین کی نرمی اور آسانی کے منافی نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پر آنے والی افواہوں، اہل علم کی قدر گھٹانے والے جملوں، امن و امان کے خاتمے اور بدنظمی پھیلانے کی کوششوں، اہل علم اور قیمتی لوگوں کی مخالفت، اور اسی طرح بیرونی ایجنڈے اور اغیار کی آئیڈیالوجیز کی روک تھام کے لیے سختی برتنا بھی دین اسلام کے اصولوں کے منافی نہیں ہے۔

آج کے دور میں کچھ لوگوں نے دین کی نرمی کا مفہوم غلط سمجھا ہے، میانہ روی کو بزدلی سمجھ لیا ہے۔ اس طرح وہ لوگ اپنا فرض ادا کرنے سے پیچھے ہٹ گئے اور دین اسلام کی طے شدہ بنیادوں پر حملہ کرنے لگے اور بغیر علم کے، دین کی آسانی کو بنیاد بناتے ہوئے، غلط اور بے بنیاد فتوے جاری کرنے لگے۔

ایسے لوگ دین سے بہت دور نکل گئے ہیں اور واپسی کی صحیح راہ اپنانے سے قاصر ہیں۔

بلاد حرمین سعودی عرب پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا ایک فضل وکرم یہ ہے کہ یہ نرمی اور اعتدال پر مبنی نظام پر قائم ہے اور ساتھ ساتھ جہاں ضرورت ہو وہاں سختی بھی اختیار کر لی جاتی ہے۔ اس میں امن کی اعلی ترین مثالیں، عزت اور شرف کی بلند چوٹیاں اور قابل فخر خاصیتیں موجود ہیں۔ الحمدللہ اس میں ابھی بہت خیر باقی ہے اور بہت سی برکتیں موجود ہیں۔

بھلا سورج بھی کسی سے چھپا رہ سکتا ہے اور مشک کی خوشبو بھی کبھی رک سکتی ہے؟

اللہ ان کاوشوں میں برکت ڈالے اور ہماری مرادیں پوری فرمائے۔

اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے درود و سلام بھیجے نبی مصطفی اور رسول مجتبیٰ ﷺ پر جس طرح اللہ تعالی آپکو قرآن کریم میں حکم دیا ہے، فرمایا:

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ (الاحزاب: 56)

اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے:

جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے

اللہ کی بے شمار رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، اتنی رحمتیں جو آسمان کو بھر دیں، اتنی رحمتیں کہ جتنی روحیں  اللہ تبارک وتعالیٰ کہ ملاقات کے لیے تڑپتی ہیں۔

اے اللہ کے رسول! میری جان میرے سارے گھر والے اور سب لوگ تجھ پر قربان ہیں! آپ سے ملاقات کا شوق تو درختوں میں بھی تھا تو پھر انسانوں کا کیا حال ہوگا۔

اے اللہ محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل پر رحمتیں نازل فرما آج جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی تھی یقینا تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے اے اللہ محمد ﷺ پر اور محمد صلی علیہ وسلم کی آل پر اس طرح برکت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں یقینا تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔

اے اللہ خلفائے راشدین اربعہ ابو بکر عمر عثمان علی تمام صحابہ کرام تابعین عظام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والوں سے راضی ہوجا اور اے سب سے بڑھ کر رحم و کرم فرمانے والے اپنا خاص فضل و کرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا

اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما شرک اور مشرکین کو رسوا فرما اپنے دشمنوں کو اور دین کے دشمنوں کو تباہ و برباد فرما اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن و سلامتی نصیب فرما

اے اللہ ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما حق کے ساتھ ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کی تائید فرما اے اللہ اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کے ساتھیوں کو اور ان کے بھائیوں کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں ملک اور قوم کی فلاح وبہبود ہے۔

اے اللہ تمام مسلمان حکمرانوں کو شریعت اسلامیہ نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما نبی اکرم ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرما اللہ انہیں اپنے بندوں پر رحم کرنے والا بنا

اللہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو معاف فرما مسلمانوں کے دلوں کو جوڑ دے انہیں ہدایت کی راہ دکھا انہیں کھلے اور پوشیدہ گناہوں اور فتنوں سے دور فرما۔

اے اللہ ہمارے اور تمام مسلمان بیماروں کو شفا عطا فرما تمام مسلمان قیدیوں کو رہائی نصیب فرما ہمارے اور تمام مسلمان فوت شدگان کی مغفرت فرما اے اللہ ہمارے لئے اور تمام مسلمانوں کے لیے پھر مشکل سے نکلنے کا راستہ بنا اور ہر تنگی سے دور ہونے کا طریقہ سجھا اور ہربلا سے عافیت نصیب فرما۔

اے اللہ مسلمانوں کی مقدسات کی حفاظت فرما اے اللہ مسلمانوں کی مقدسات کی حفاظت فرما اللہ بابرکت مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما اے اللہ اسے قیامت تک عزت اور پاکیزگی والا بنا۔

اے اللہ غاصب صہیونی افواج کو تباہ و برباد فرما ذو الجلال والاکرام ان کا ساتھ دینے والوں کو بھی تباہ فرما۔

اے اللہ اے رب ذوالجلال یاقوت اور پاکیزگی والے ہمارے فوجی جوانوں کی حفاظت فرما سرحدوں پر پہرا دینے والو کو ہمت اور توفیق عطا فرما ان کے شہداء کی شہادت قبول فرما ان کے زخمیوں اوربیماروں کو شفا عطا فرما اور انہیں اپنے گھروں تک امن وسلامتی کے ساتھ پہنچا۔

اے اللہ یا حی ویا قیوم عرب الجلال فلسطین عراق شام یمن برما اور ہر جگہ مسلمانوں کی مدد فرما۔

اے اللہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے تو بے نیاز ہے اور ہم فقیر او رمحتاج ہیں ہم پر رحمت والی بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما اے اللہ ہم پر رحمت والی بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما۔

اے اللہ ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں تو معاف کرنے والا ہے اے پروردگار ہم پر آسمان سے بارش نازل فرما اے اللہ ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں تو معاف کرنے والا ہے اے پروردگار ہم پر آسمان سے بارش نازل فرما۔

’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘ (البقرہ: 201)

’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔‘‘ (النحل: 90)

عظیم وجلیل اللہ کو یاد کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا اللہ کا ذکر تو بلندتر ہے اور اللہ آپکے اعمال سے باخبر ہے۔

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اسلام کی نرمی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں