102

مختلف تہذیبوں میں عورت کا مقام و مرتبہ

مختلف تہذیبوں میں عورت کا مقام و مرتبہ

(یونان، روم، ایران، یورپ اور عرب)

تحریر: حافظہ ہاجرہ مدنی

ظہور اسلام  سے قبل کتاب ہستی کے ہر صفحے پر عورت کا نام حقارت اور ذلت سے لکھا گیا ہے ۔ اقوام  عالم اور ان کے تمام ادیان  نے عورت کی خاطر خواہ قدر ومنزلت نہ کی اور عورت کا وجود تمام عالم  پر ایک مکروہ دھبہ تصور کیا جاتا تھا ۔ ہر جگہ صنف نازک (عورتیں) مردوں کےظلم وستم کا شکار رہیں۔ مرد مرد نہیں بلکہ نازک اور کمزور صنف کے مقابلے میں جنگل کا درندہ تھا۔ تاریخ کے مطالعہ میں کثرت سے ایسی مثالیں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد وتہذیب وعمرانیات میں کوئی  ایسا وحشیانہ سلوک نہ تھا جو عورت کے ساتھ روا  نہ رکھا گیا۔([1])

ابن آدم اپنے آرام و اسائش  اور ترقی کے لئے جس ہستی کا مرہون منت رہا ، جس کے خون سے  پرورش پائی، جس کی  آغوش  شفقت میں پروان چڑھا، جس نے شمع فروزاں بن کر اس کی تاریک  زندگی کو منور کیا، جس تبسم نے اس کی کلفتوں کو راحتوں میں بدل دیا، جس رفاقت نے اس کی صعوبت حیات مستعار کو پر کشش اور خوش گوار بنایا اسے اس نے ہمیشہ اپنے سفاکانہ مظالم  کا نشانہ بنائے رکھا۔([2])

عالم کا ذرہ ذرہ اور انسانی  آبادی کا چپہ  چپہ ہمیشہ اس کے خون کا پیاسا، اس کی عزت کے درپے اور اس  کی ذلت کے خواہاں  رہا ۔([3])

انسانی تمدن کی تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی متمدّن ترین اقوام روم اور چین، یونان، ایران،  جہلائے عرب  یا مختلف  مذاہب عالم سب نےعورت کو ایک غیر مفید بلکہ مخل تمدّن عنصر سمجھ کر  میدان عمل سے ہٹا دیا تھا۔

یونان میں عورت کی حیثیت

اقوام قدیمہ میں سے جس قوم کے افکار و آثار  بہت نمایاں نظر آتے ہیں وہ اہل یونان  ہیں جن کے نزدیک  تہذیب وتمدن اور علمی وفنی  ترقی کے باوجود عورت کا مقام بہت ہی پست تھا۔ وہ اس کو انسانیت پر بار سمجھتے تھے۔ اس کا مقصد  ان کے نزدیک سوائے اس  کے کچھ نہیں تھا کہ خادمہ کی طرح اپنے گھر والوں کی خدمت کرتی رہے ۔ سقراط جو اس دور کا فلسفی تھا اس کے الفاظ میں:

عورت سے زیادہ فتنہ و فساد کی چیز دنیا میں  کوئی اور نہیں۔([4])

یونانیوں کا عقیدہ تھا:

آگ سے جل جانے اور سانپ سے ڈسنے کا علاج ممکن ہے۔ لیکن عورت کے شرکامداوا محال ہے۔([5])

بقول لیکی:

بحیثیت مجموعی باعصمت یونانی بیوی  کا مرتبہ پست تھا، اس کی زندگی  مدت العمر  غلامی میں بسر ہوتی تھی، لڑکپن میں  اپنے والدین کی، جوانی میں شوہر کی، بیوگی میں اپنے فرزندو ں کی۔

افلاطون نے بلاشبہ مرد وعوت کی مساوات کا دعوی کیا تھا لیکن یہ تعلیم  محض زبانی تھی۔ عملی زندگی  اس سے بالکل  غیر متاثر  رہی ازواج کا مقصد خالص سیاسی رکھا  گیا  یعنی یہ کہ اس سے طاقتور  اولاد پیدا ہو جو حفاظت ملک کے کام آئے۔([6])

یونانی عورت کی شادی اس کی مرضی کے بغیر کر دی جاتی، بعض دفعہ تو باپ مرتے وقت اپنی بیٹی کی کسی کے حق میں  وصیت کر جاتا تو بیٹی  کو وہ وصیت پوری کرنا پڑتی تھی۔ بھائی کی موجودگی میں  وراثت سے محروم رہتی۔ اکیلی ہوتی تو  وارث بنتی۔([7])

اسپارٹا کے قانون میں تو یہ تصریح موجود تھی کہ کمسن  اور ضعیف القوی  شوہروں کواپنی  کمسن بیویاں  کسی نوجوان  کے حبالۂ عقد میں دے دینی چاہئیں تاکہ فوج  میں قوی سپاہیوں  کی تعداد میں اضافہ  ہو۔

امیر  علی لکھتے ہیں:

یونانیوں کے ہاں عورت کی حیثیت لونڈی کی سی تھی جسے فروخت کیا جاتا اور دوسروں کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ اسے ایک  ایسی ناگزیر برائی سمجھا جاتا تھا، جو امور خانہ داری  اور بچوں کی پرورش کے لئے ضروری تھی۔([8])

پنڈورانامی ایک عورت کے بارے میں ان کا عام  اعتقاد تھا کہ وہی تمام دنیوی آفات ومصائب کی جڑ ہے۔

عورت خود کسی چیز کو فروخت نہیں کر سکتی تھی اور ایک محدود قیمت سے زائد چیز  کے خریدنے  کا اس کو اختیار  حاصل نہیں تھا اس کے علاوہ وہ مذہبی  کام نہیں کر سکتی تھی۔ غرض  یونان میں عورت  کو شیطان سے  بھی بد تر سمجھا  جاتا تھا لڑکے کی پیدائش پر خوشی منائی   جاتی تھی اور لڑکی  کی پیدائش پر اظہار غم کیا جاتا تھا۔

روم میں عورت کی حیثیت

روم میں مرد کی حکومت عورت پر جابرانہ تھی، عورت ایک لونڈی کی حیثیت رکھتی تھی جس کا معاشرت میں کوئی حصہ نہ تھا اسے کسی قسم کا کوئی حق حاصل نہ تھا یہاں تک کے حق وراثت بھی نہ دیا گیا۔([9])

چوپایوں کی طرح اس کی خرید وفروخت ہوتی تھی ۔([10])

اسے شوہر کی ملکیت قرار دیتے تھے اور منجملہ جائیداد منقولہ کی طرح اسے بھی اس میں شمار کرتے تھے۔([11])

اسے کسی عہدے کا اہل نہیں سمجھا جاتا تھا حتی کہ کسی معاملے میں اس کی  گواہی تک کا اعتبار نہیں تھا۔([12])

البتہ اگر اس کے ہاں لڑکا پیدا ہو جاتا  تو پھر اسے کچھ عزت حاصل ہو جاتی تھی ورنہ حالت یہ تھی کہ اگر مرد کو عورت کے چال  چلن کےبار ے میں ذرا سا بھی شبہ ہو جاتا  تو اسے حق حاصل تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اسے موت کے گھاٹ اتار دے یا اس  کی اولاد کو اپنی  تسلیم نہ کرلے اور  رائج الوقت قانون اسے اس کی اجازت دیتا تھا۔ رومی باشندوں نے عورت کے حقوق  متعین کر نے کے لئے  ایک بہت بڑا جلسہ منعقد  کیا  اور کافی  بحث وتنقید کے بعد اس نتیجے پر پہنچے:

وہ  ایک بے جان قالب ہے اس وجہ سے وہ اخروی  زندگی  میں کوئی حصہ نہ پائے گی وہ  ناپاک  ہے اس کو گوشت کھانے، ہنسنے اور بولنے کی  اجازت ہر گز نہیں۔ اس کو  اپنے تمام  اوقات زہد وعبادت  اور خدمت  گزاری میں صرف  کرنا ضروری ہیں اس کی  زبان بندی  کے لئے اس منہ کےپر تالہ ڈال دیا جائے۔ ([13])

روم میں  اسقاط حمل کوئی ناجائز فعل نہ تھا چونکہ ازدواجی تعلق کی ذمہ داریوں کو بہت ہلکا سمجھا جانے لگا جس کی وجہ سے طلاق کی آسانیاں اس قدر بڑھیں کہ بات بات پر ازدواج کا رشتہ توڑا جانے لگا مشہور رومی فلسفی مدبر سینکا (4ق م تا65 ق م) سختی کےساتھ رومیوں کی کثرت طلاق پر ماتم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہاں عورتیں اپنی عمر کا حساب شوہروں کی تعداد سے لگایا کرتی تھیں۔([14])

بعد کے ادوار میں رومیوں نے عورت کو کچھ حقوق دے دیے تھے لیکن اس کے باوجود اس کو مرد کے مساوی  درجہ کبھی نہیں ملا۔

ایران میں عورت کی حیثیت

ایرانیوں کے نزدیک مرد اور عورت کے متعلق جو تصور تھا وہ خودان الفاظ سے ظاہر ہے جس سے وہ نامزد کیے جاتے تھے فارسی زبان میں خاوند کو خصم کہتے ہیں یعنی عورت کا دشمن اور عورت کو زن کہتے ہیں یعنی ایسی بری ہستی  جسے ہمیشہ مارتے رہنا چاہیے۔

ان کے نزدیک عورت کا مقام و مرتبہ انسانیت سے گرا ہوا تھا۔ عورتوں کی مکاری  و عیاری  اور بد چلنی وبے وفائی  ضرب المثل تھی۔ انہیں معاشرے میں کوئی عزت کا مقام حاصل نہ تھا۔ بیوی کی حیثیت غلام کی سی تھی کہ اگر شوہر کا جی چاہیے تواسے کسی دوسرے  شخص کو دے دیتا ۔ ایسی بیوی ان کی اصطلاح میں خدمت گذار کہلاتی تھی۔([15])

مرد ہر قسم کی اخلاقی، مذہبی اور قانونی گرفت سے بالکل آزاد تھا وہ جتنی  بیویوں کو  چاہتا طلاق دے سکتا تھا۔ خواصوں اور داشتہ عورتوں کو رکھنے کا طریقہ عام تھا۔([16])

اخلاقی حالت اتنی شرمناک تھی کہ باپ کا بیٹی کو اور بھائی کا بہن کو اپنی زوجیت میں لینا کوئی غیر معمولی بات نہ تھی۔([17])

بابل میں دیو داسیوں کی ایک کثیر تعداد مختلف مواقع پربھجن گاتی  نظر آتی ہیں اس طرح وہ ایک مذہبی حیثیت کی مالکہ بھی تھیں اور مردوں کی نفس پرستی کا آلہ بھی۔

ایرانی مفکر  مزدک نےیہ سمجھا کہ شرو فساد کاسبب مال او رعورت ہے اور اس کی ملکیت پر لوگ لڑتے ہیں۔ اس لیے ان کی ملکیت ختم کر دینی چاہیے اور ان کو مباح قرار دیا جائے اس طرح لوگوں کا کینہ و فساد ختم ہو جائے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تمام اجتماعی قیود اور اخلاقی حدود ختم ہو گئیں۔ ہر طرف شہوت اور ہوس  پرستی کا دور دورہ تھا اور بغض و عناد میں اضافہ ہوا۔([18])

ڈولنجر اپنی کتاب ’شرفاء  اور یہود‘ میں لکھتا ہے:

عہد نبوی میں ایران کی اخلاقی حالت دگر گوں تھی، شادی کا کوئی معروف قانون موجود نہ تھا تو اگر کوئی تھا اس کو پس پشت ڈال دیا گیا تھا۔ ’’زنداوستا‘‘ میں بیوی کےبارے میں کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے مرد کئی بیویاں رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کی داشتائیں بھی ہوتی تھیں اور دوسری عورتوں سے ناجائز تعلقات بھی ہوتے تھے۔([19])

یورپ میں عورت کا مقام

یورپ اس وقت مساوات مردو زن کاسب سے بڑا دعویدار ہے لیکن اسی یورپ  میں ایک صدی سے کچھ پہلے تک عورت مرد کے ظلم وستم کا نشانہ بنی ہوئی تھی اور کوئی ایسا مظبوط قانون نہیں تھا جو مرد کی زیادتیوں کو روکتا۔

شاہ انگلستان ہنری ہشتم نے تو عورتوں کے لئے مذہبی تعلیم حاصل کرنا قانونا منسوخ قرار دیا تھا کہ :

چونکہ عورت ایک نازک حیوان ہے اس لیے عہد نامہ جدید یعنی انجیل مقدس کے پڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہے، کیونکہ وہ اپنے مطالعہ سے اسے ناپاک کر دےگی۔ ([20])

انگلستان کی عورت کی حالت بھیڑ بکری سے کس طرح اچھی نہ تھی اور شوہر کو بیوی پر بالکل  ایسے ہی قانونی حقوق حاصل تھے جوفی زمانہ ہم لوگوں کو جانوروں پر بھی حاصل نہیں ہیں۔([21])

یورپ میں عورت ہر حال میں اپنے شوہر کی تابع فرمان تھی اسے شوہر کی منشاء کےبغیر عہد وپیمان کا تو در کنار کوئی چیز  خریدنے  کا اختیار نہ تھا۔ یورپی قانون کی رو سے  عورت کی زندگی اور موت مرد کے ہاتھ میں تھی وہ اسے سامان تجارت کی طرح  فروخت کر سکتا تھا۔ مرد کو بردہ فروشی کی اجازت تھی۔

اطالیون کا قول ہے:

گھوڑا اچھا ہو یا برا اسے مہمیز کی ضرورت ہے عورت اچھی ہو یا بری اسے مار کی ضرورت ہے۔([22])

فرانس کا ایک مشہور شاعر کہتا ہے:

میں فطرت سے صرف اس لیے ناراض ہوں کہ اس نے  کمینہ جانور (عورت) کو محاسن محو کرنے کے لئے کیوں پیدا کیا۔([23])

قانون کی رو سے یہ بات طے تھی کہ شادی کے بعد مرد کی طبیعت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی البتہ عورت کی شخصیت کا ایک جز بن جاتی ہے۔ چنانچہ اسی بنا پر یہ اصول تھا کہ شادی سے پہلے عورت کے ذمے جو قرض ہو گا وہ مرد ادا کرے گا۔ اور عورت کی جو دولت یا مال وجائیداد ہوگی وہ مرد کی ہو جائے گی الا کہ جائیداد کےسلسلے میں عورت شادی سے پہلے کوئی معاہدہ کر لے۔([24])

نان ونفقہ کا بھی کوئی مناسب قانون نہ تھا اور نہ عورت کو مرد کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا حق تھا۔ مرد چاہتا تھا تو عورت کو حق وراثت سے محروم کر سکتا تھا۔ لیکن بیوی کی جائیداد کا وہ جائز حق دار سمجھا جاتا تھا۔

انگلستان کے مشہور  ڈرامہ نویس  شیکسپیئرکی بھی یہی رائے ہے:

عورت ایک ناپاک شیطان ہے جسے آج تک نہ کوئی سمجھا ہے اور نہ سمجھ سکتا ہے بس لوگ اس سے دور رہیں۔ ([25])

عورت کسی قسم کا بھی معاملہ کرنے میں آزاد نہیں تھی وہ اپنے اختیار سے کوئی معاہدہ نہیں کر سکتی تھی حتی کہ اس کو اس کی بھی اجازت نہیں تھی کہ خود کما کر اپنی ذات پر خرچ کرے  اور اپنی پسند سے شادی کر ے ، لڑکیاں ماں باپ کی ملک سمجھی جاتی تھیں۔ شادی ایک تجارت تھی جس کے ذریعے والدین اپنی لڑکیاں لڑکوں کو فروخت کرتے تھے۔

سترھویں صدیں تک انگلستان کے قانون  میں خاوند کو یہ اجازت تھی کہ وہ اپنی بیوی کو مارے بشرطیکہ ڈنڈے کی موٹائی انگوٹھے کی موٹائی سے زیادہ نہ ۔ مشہور شاعر ہوں فلسفی ہوں، عالم ہوں، سب ہی کے دل میں عورت کے خلاف  ایک عجیب تعصب تھا۔ مشہور زمانہ فلسفی سپی نوزا Spinoza  کا بیان پڑھیں:

اپنی فطرت اور بوجھ کی وجہ سے عورتیں مردوں کے مقابلے میں حکومت اور غور وفکر  کی اہل نہیں ہیں۔

شہرہ افاق فلسفی  روسو  اپنی ایک کتاب  (Emile) میں عورتوں کے متعلق گوہر افشانی کرتا ہے:

عورت کی جگہ اپنے گھر میں ہے ۔ اسے اپنے خاوند کو  آقاسمجھنا چاہیے ۔ البتہ گھریلو معاملات میں عورت ہی کا حکم چلنا چاہیے تعلیم کا اصل  مقصد عورتوں کو گھریلو فن سکھانا ہے جیسے کھانا پکانا، کشیدہ کاری، ان کو مذہبی  تعلیم ضرور  دینی چاہیے تاکہ ان میں شرم  و حیا اور فرمانبرداری  پیدا ہو بیٹی کو اپنے باپ کا مذہب  اور بیوی کو اپنے خاوند کا مذہب  بلا جھجک قبول کرنا چاہیے۔ ([26])

آزادی نسواں کا مشہور علم بردار ارمل اپنی کتاب ’’ محکومیت نسواں‘‘ میں لکھتا ہے:

تاریخ یورپ کو دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا کہ باپ بیٹی کو جہاں چاہتا بیچ ڈالتا تھا اور اس  کی مرضی کی کوئی پروا نہ کرتا تھا۔([27])

اٹھارہویں صدی عیسوی میں یورپ کے فلاسفہ اور اہل قلم نے جب سوسائٹی  کے خلاف مرد کے حقوق کی حمایت  میں آواز  اٹھائی  تو اس دور جدید کے آغاز  میں صنف اناث کو بھی پستی سے اٹھانے کے لئے  تدابیر اختیار کی گئیں  ان کو حقوق عطا کیے گئے  لیکن جن نظریات  کے بطن سے  یہ نئی تحریک  اٹھی تھی  ان میں ابتداء  ہی سے افراط  کا میلان موجود تھا  انیسویں  صدی میں اس میلان نے بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کی اور بیسویں  صدی تک  پہنچتے پہنچتے  مغربی معاشرت  بے اعتدالی کی  دوسری  انتہاء  پر پہنچ گئی  جن نظریات  پر مغربی  معاشرت  کی بنیاد رکھی گئی  ہے، وہ تین عنوانات کے تحت  آتے ہیں:

  1. عورتوں اور مرد وں کی مساوات
  2. عورت کا معاشی استقلال
  3. دونوں صنفوں کا آزادانہ اختلاط

مساوات  کے معنی یہ سمجھ لیے گئے ہیں کہ عورت اور مرد نہ صرف اخلاقی  مرتبے اور انسانی  حقوق  میں مساوی  ہوں بلکہ  تمدنی  زندگی  میں بھی عورت وہی کام کرے   جو مرد کرتے ہیں اس طرح عورت کا مقام  گرا۔ وہ دفتروں، کارخانوں، تجارتی وصنعتی پیشوں میں نکل پڑی اور  گھر میں اپنی ذمہ داریوں سے  لا پروا ہو گئی  ۔ ازدواجی زندگی میں اس  کی ذمہ داریاں  اور حقوق  ختم ہو گئے  لیکن معاشرے میں اس کا درجہ دوئم  ہی رہا۔

مولانا وحید الدین خان لکھتے ہیں:

یورپ میں عورت کو مرد کے مساوی بنانے کے لئے گھر سے نکالا گیا۔ اس سے یہ تو نہیں ہوا کہ عورت فی الواقع مرد کے مساوی ہو  جاتی ۔ البتہ اس کو زندگی کے ہر موڑ پر مردوں کے ساتھ کھڑا کرنے کا انجام یہ ہوا کہ فواحش کا سیلاب امنڈ آیا۔([28])

یورپ کی عورت کا اب مقام یہ ہے کہ تھیٹر کی دنیا میں بھی عورت  مرد کے مقابلے میں کم درجہ کے کردار ادا کرتی ہے۔ وہ  اس لیے کہ ہنسنے اور خوش کرنے میں بھی اس کو مرد کی برابری حاصل نہیں وہ مرد کے لیے خطرہ نہیں بن سکتی بلکہ اس کو مرد کے حفاظتی بازوں کی ضرورت ہے۔

امریکہ جیسے ملک میں بھی عورت کا مقام وحیثیت مرد کے مقابلہ میں کم ہے۔ ایک امریکی جریدے سائیکلوجی ٹوڈ ے کے سوال نامہ کے جواب میں 51 فیصد مردوں نے کہا کہ امریکی  سماج عورتوں کا استحصال اس طرح کرتا ہے جس طرح کالے نیگروؤں کا۔

’’ڈیپارٹمنٹ آف لیبر‘‘ کے ایک سروے کے مطابق:

امریکی عورت عام طور پر مرد کے مقابلے میں کم مہارت اور کم تنخواہ  کے کام کرتی ہے۔ کئی ملازمتوں میں وہ ایک ہی کام کے لئے مساوی  تنخواہ نہیں پاتی۔ کسی کارخانے سے نکالنا ہو تو اس کا حال کالوں کا سا ہوتا ہے اس کو سب سے پہلے نکال دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ شادی کا عدم استحکام اور طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ہے۔([29])

جدید یورپ نے عورت کو معاشی میدان میں لا کر اور گھر کی ذمہ داریوں سے آزاد کر  کے ماحول  کو افراط وتفریط کا شکار بنا دیا ہے۔

مولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

گناہ کا خیال مذہب کے ساتھ رخصت ہوا۔ یورپی معاشروں کا خوف  یوں دور ہوا کہ سوسائٹی اب اسے (عورت کو )فاحشہ ہونے پر ملامت نہیں کرتی۔ بلکہ ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں۔ حرامی بچے کی ماں بن جانے میں کوئی حرج نہیں۔([30])

جرمن سوشل ڈیمو کرٹیک کا لیڈر  (Bebel) نہایت بے تکلّفانہ انداز میں کہتا ہے:

عورت اور مرد آخر حیوان ہی توہیں۔ کیا حیوانات کے جوڑوں میں نکاح اور وہ بھی دائمی نکاح کا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔([31])

گویا  عورت کے مقابلے میں مغربی معاشرہ نے وہی غلطی دوبارہ کی جس کا شکار قدیم زمانہ تھا۔یعنی عورت کے بارے میں بے بنیاد عقیدہ کے تحت رائے قائم کرنا۔ قدیم زمانہ میں بھی انسان نے کچھ ایسے  بے بنیاد عقیدے بنا لیے تھے اور عورت کے  بارے میں  غلط  قسم کارواج قائم کیا ۔ یورپ نے  بھی عورت کے مقام وحیثیت اور حقوق  و فرائض  میں غلطی کی۔

یورپ کے قدیم  اور جدید دونوں معاشروں میں عورت کی حیثیت  اور حقوق کا تحفظ  نہیں کیا گیا  ۔ افسوس  اس بات کا ہے کہ مسلمان عورت آج بھی اسی آزادی  کے حصول کی کوششوں میں  سرگرداں نظر آتی ہے جبکہ اسلام  قرآن کے ذریعے اس کے مقام ، حیثیت اور حقوق و فرائض  متعین کرتا ہے۔

معلوم ہوا کہ مساوات کا مطلب عمل میں مساوات نہیں بلکہ حیثیت میں مساوات ہے مساوات  انسانی یہ نہیں ہے کہ  ہر آدمی وہی کام کرے جو کام دوسرا  کر رہا ہے اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہر آدمی  کو یکساں  عزت ملے ، ہر ایک کو یکساں  احترام کی نظر سے دیکھا جائے ہر ایک  کے ساتھ یکساں اخلاقی  سلوک کیا جائے۔

مرد اور عورت  دو الگ الگ  جنسیں ہیں اور دونوں کی تخلیق الگ الگ  مقاصد کے تحت ہوئی ہے دونوں کو اگر ان کی تخلیق  کے اعتبار سے  ان کے اپنے میدان میں  رکھا جائے  تو دونوں  اپنے میدان میں مساوی  طور پر کامیاب  رہیں گے  اگر مرد اور عورت  دونوں کو ایک ہی میدان  ڈال دیا  جائے  تو عورت وہ کام نہ کر سکے  گی جو مرد اپنی  تخلیقی  صلاحیت کے اعتبار سے  زیادہ بہتر  طور پر کر سکتا ہے ۔

خدائی شریعت نے عورت  اور مرد کے درمیان جو توازن قائم کیا تھا ۔ اس کی بنیادجس اصول  پر تھی کہ عورت  اور مرد ایک دوسرے کا تکملہ (Complements) ہیں وہ ایک دوسرے کا مثنیٰ ( Duplicates) نہیں ہیں۔ موجودہ زمانہ میں آزادی نسواں کی تحریک نے اس کے برعکس دعوی کیا اس نے کہا کہ نہیں ،عورت اور مرد ایک دوسرے کا مثنی ہیں یعنی جو عورت ہے وہی مرد ہے ، او رجو مرد ہے وہ عورت ہے۔ ([32])

مصری عورت

 مصر میں  بھی فارس کی عورت کی طرح کوئی  قدرو قیمت نہ تھی اسے حقیر  جان کر انسانیت کے تمام حقوق  سے محروم کیا گیا۔  فدا حسین ملک کےبقول:

In Egypt and all the European countries, women were treated worse than slaves. ([33])

’’مصری عورت کی حقوق تلفی کا یہ حال تھا کہ اگر کوئی شخص مر جاتا تو اس کی قبر میں اس کی بیوی کو بھی ساتھ ہی دفن کر دیا جاتا تھا۔ قحبہ گری عام تھی، مصری فراعنہ کے حرم میں بے انتہاء عورتیں تھیں اکثر وہ اپنی سگی بہنوں سے شادی کر لیا کرتے تھے۔‘‘([34])

عرب میں عورت کا مقام ومرتبہ

اسلام کے گہوارہ بلاد عرب میں  طلوع اسلام سے پیشتر عورت کی حالت نا گفتہ بہ تھی عورت کا وجود عزت و آبرو کے نام پر ایک دھبہ تھا۔ یہاں تک کہ بعض لوگ بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن  کر دیتے تھے کیونکہ ان کی پیدائش کو منحوس اور باعث  ذلت  سمجھا جاتا تھا۔ایک عرب عورت اپنے خاوند کی بے رحمی کو یوں بیان کرتی ہے :  ؏

ما لأبي حمزة لا یأتینا
ز

یظل في البیت الذی یلینا
ز

غضبان ألا نلد البنینا
ز

وإنما نأخذ ما أعطینا([35])
ز

کہ میرے خاوند ابوحمزہ کو کیا ہوگیا ہے ۔کہ اب وہ ہمارے ہاں آتا نہیں وہ ساتھ والے مکان میں رہتاہے اوراس لئے غضبناک ہے کہ ہم بیٹے کیوں نہیں جنتیں۔  اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ ہم تو وہی لیتی ہیں جو ہمیں دیا جاتا ہے۔

 قرآن اس افسوس  ناک کیفیت کو اس طرح بیان کرتا ہے:

اور جب کسی کو لڑکی خبر ملتی ہے تو اس  کا چہرہ سیاہ ہوجاتاہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ۔ اور دی ہوئی خبر سے بوجہ عار لوگوں سے چھپتا پھرتاہے (سوچتاہے) آیا اسے ذلت کے باوجود زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے ؟([36])

 عورت سے نفرت اور بیزاری اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ ایک شخص کے گھر لڑکی پیدا ہوئی تو اس نے اس گھر کو ہی منحوس  سمجھ کر چھوڑ دیا۔([37])

قبیلہ بنی تمیم  کےایک رئیس قیس  بن عاصم نے آٹھ لڑکیوں کو زندہ درگور کیا تھا جب وہ مسلمان ہوا تو اس گناہ کی تلافی آٹھ اونٹوں کی قربانیوں سے کی۔([38])

لونڈیوں سے عصمت فروشی کا کام لیا جاتا تھا۔ مدینہ کا ممتاز سردار عبد اللہ بن ابی سلول جسے عرب کا تاج پہنایا جانے والا تھا لونڈیوں کی عصمت فروشی کا بڑا تاجر تھا۔([39])

مرد کے لئے عورتوں کی کوئی قید نہ تھی ۔بھیڑ بکریوں کی طرح جس طرح جی چاہتا باندھ لیتا اور پھر حسب مرضی ان سے سلوک روا رکھتا۔ عصمت فروش، عصمت ریزی اور فسق وفجور  پر عورت کو مجبور کیا جاتا تھا۔

اسلام کی آمد سے قبل عورت اگر مرد کو کوئی مشورہ دینے کی جسارت کر بیٹھتی تو اسے مرد اپنی عظیم ہتک خیال کرتا تھا۔ مرد جس طرح چاہتا عورت سے سلوک کرتا اور اگر وہ اس کو آزاد نہ کرنا چاہتا تو گھر سے اس طرح نکالتا کہ کہ نہ تو اسے  آزاد کرتا  اور نہ گھر میں لا کر بساتا۔ قرآن  کریم کی یہ آیت ایسے ہی موقع کے لئے اتر ی ہے:

بالکل ہی ایک کی طرف مائل ہو کر دوسری کو ادھر لٹکتی ہوئی نہ چھوڑو۔([40])

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

“ولله إن كنا في الجاهلية ما نعد للنساء أمرا حتى أنزل الله تعالى فيهن ما أنزل وقسم لهن ما قسم”([41])

بخدا! ہم دور جاہلیت میں عورتوں کو کوئی  حیثیت ہی نہیں دیتےتھے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے ان کے بارے میں اپنی ہدایات نازل کیں اور ان کے لئے جو کچھ حصہ مقرر کرنا تھا مقرر کیا۔

ایک شخص نے نبیﷺ کو اپنے جاہلیت کے زمانہ کا واقعہ سنایا کہ

میری ایک بچی تھی اور  مجھ سے بہت مانوس بھی تھی جب کبھی میں اسے بلاتا تو بے اختیار  مسرت سے میرے پاس آجاتی چنانچہ ایک دن میں نے اسے آواز دی تو وہ میرے پیچھے پیچھے دوڑی آئی میں اسے اپنے ساتھ لے گیا اور قریب کے ایک کنویں میں جھونک دیا  اور وہ اس وقت بھی ابا  جان ابا  جان ہی کہتی رہی۔ واقعہ سن کر نبیe کی آنکھیں اشکبار ہوگئی یہاں تک ریش مبارک تر ہوگئی۔([42])

کہ جب زندہ گاڑھی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس جرم میں قتل کی گئی۔ ([43])

اس کی تین صورتیں اہل عرب میں رائج تھیں:

ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“أحدها أن يأمر امرأته إذا قرب وضعها أن تطلق بجانب حفيرة، فإذا وضعت ذكرا أبقته وإذا وضعت أنثى طرحتها فى الحفيرة” ([44])

کہ ان میں سے ایک یہ تھا کہ مرد اپنی بیوی کو وضع حمل کے وقت حکم دیتا کہ کسی گڑھے کے کنارے چلی جاؤ چنانچہ وہ گڑھے کےکنارے بچہ جنتی۔ اگر بیٹا ہوتا تو اسے زندہ رکھتی اگر بیٹی ہوتی تو اسے گڑھے میں پھینک دیتی ۔

وہ  مزید لکھتے ہیں:

“ومنهم من كان إذا صارت البنت سداسية قال لأمها، طيبها وزينتها لأزور بها أقاربها، ثمّ يبعد بها في الصحراء حتى يأتي البئر فيقول لها انظري فيها ويدفعها من خلفها ويطهها”([45])

دوسرا طریقہ یہ تھا کہ جب بیٹی  چھ سال کی ہو جاتی تو مرد اس کی ماں سے کہتا، اس کو بناؤ سنوارو ، میں اس کو لے کر اس کے رشتہ داروں سے ملنے جا رہا ہوں ، وہ اسے  لےکر  دور صحر اء میں لے جاتا یہاں تک کہ ایک کنویں پر آتا اور بیٹی سے کہتا کہ کنویں میں دیکھو، جب وہ کنارے پر  آ کر کنویں میں جھانکتی تو اس کو پیچھے سے دھکا دے دیتا۔

تیسری صورت یہ تھی کہ جب بیٹی پیدا ہوتی تو گھر میں آنا جانا بند کر دیتے ، ان کی  چہیتی بیگم ان کو چڑیل کی مانند ڈراؤنی  نظر آنے لگتی ہے۔([46])

عورت بیوی کی حیثیت میں سب سے مظلوم تھی معاشرت میں ان کی حیثیت گھر کے مال و اسباب کی سی تھی۔ مرد کی شادیوں کی کوئی حد نہ تھی۔ مرد جتنی عورتیں چاہتے اپنے نکاح میں رکھتے۔ وہیب اسدی نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے عقد میں دس بیویاں تھیں۔([47])

اسی طرح طلاق پر بھی کوئی پابندی  نہیں تھی ۔ مرد جب چاہتا اور جتنی مرتبہ چاہتا طلاق دیتا اور عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لیتا۔([48])

جب تک خاوند زندہ رہتا وہ اس کے ماتحت رہتی خاوند کے انتقال کے بعد اس کے ورثاء  کا اس پر مکمل  حق ہوتا ، چاہتے تو  خود ہی اس سے شادی کر لیتے اور چاہتے تو کسی دوسرے سے شادی کر دیتے اور وہ اس میں بھی آزاد تھے کہ اس کی شادی ہونے ہی نہ دیں۔([49])

بیوہ کے مال پر قبضہ کرنے کے لئے یہ اسے دو بارہ ازدواجی زندگی ہی سے محروم کر دیتے، بعض اوقات  کسی کم سن لڑکے کے بڑے ہونے تک ان کا نکاح روکے رکھتے تاکہ وہ اس سے شادی کر سکے۔([50])

قمار بازی میں عورتوں تک کی بازی لگا دیتے تھے۔

سوتیلی ماں سے شادی ان کے نزدیک معیوب نہیں تھا ۔

علامہ ابو بکر جصاص رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

“وقد كان نكاح إمرأة الأب مستفيضاً شائعا فى الجاهلية”([51])

کہ سوتیلی ماں سے نکاح جاہلیت میں عام تھا۔

اگر اتفاق سے کوئی حسین وجمیل  اور صاحب ثروت یتیم لڑکی کسی شخص کی سر پرستی میں آ جاتی تو خود ہی اس سے نکاح کر لیتا اور  مہر بھی ٹھیک سے ادا نہ کرتا۔([52])

وراثت میں عورت کا کوئی حصہ نہ تھا جنگ احد کے بعد کا واقعہ ہے کہ ثابت بن قیسt کی بیوی نے نبیe سے آ کر شکایت کی۔ جنگ احد میں ثابتt شہید ہو گئےہیں ان کی دو بچیاں ہیں لیکن ثابتt کے بھائی نے ان کے پورے مال پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کے بچیوں کے لیے کچھ نہیں چھوڑا ہے بتائیے ان کی شادی کیسے ہو؟ ([53])

شوہر آقا  کی حیثیت رکھتا تھا اپنی منکوحہ بیوی سے کہتا کہ تو پاکی حاصل کرنے کے بعد فلاں مرد کے پاس  چلی جا اور اس سے فائدہ حاصل کر۔ اتنی مدت شوہر  اپنی عورت سے علیحدہ رہتا جب تک اس عورت کو غیر مرد کا حمل ظاہر نہیں ہو جاتا ایسا  جاہلیت میں اس لیے کرتے کہ لڑکا نجیب پیدا ہو۔([54])

مندرجہ بالا اقوال و بیانات سے یہ حقیقت نکھر کر نظر و بصر کے سامنے آتی ہےکہ مختلف  تہذیبوں میں عورت کی حالت نا گفتہ بہ تھی ،اس کی معاشی معاشرتی ، سیاسی ، سماجی حیثیت  صفر تھی اورعملا ًاسے انسانیت کے دائرے سے خارج سمجھا جاتا تھا۔

[1]       صحابیات از نیاز فتح پوری : ص 10

[2]       ماہنامہ بتول 1959 : ص 10

[3]       اسلام اور عورت از عبد القیوم  ندوی:ص 40

[4]    تمدن عرب از ڈاکٹر گستا ولی بان : ص 55

[5]    صحابیات : ص 11

[6]   تاریخ اخلاق یورپ، (اردو) مترجم عبد الماجد: ص 220

[7]    عورت اسلامی معاشرے میں از جلال الدین  انصر عمری : ص 4

[8]   “The Sprit of Islam” By Syed Amir Ali,: P 233

[9]    تمدّن عرب از ڈاکٹر گستاولی بان : ص  458

[10]  معارف القرآن از مفتی محمد شفیع : 1 / 548

[11]  عورت اسلامی معاشرے میں :ص 4

[12]  اسلام اور عورت از عبد القیوم : ص 25

[13]  عورت انسانیت کے آئینے میں از عبد الرحمان خان : ص 91

[14]  پردہ  از مولانا ابو الاعلی مودودی : ص 22، 23

[15]  عورت انسانیت کے آئینے میں :ص  88

[16]   اسلام اور مذاہب عالم از مظہر الدین صدیقی : ص 208

[17]   تاریخ ایران از بدخشانی مقبول بیگ : ص 190

[18]   اسلام کا معاشرتی نظام از ڈاکٹر خالد علوی : ص 12

[19]  The Sprit Of Isalm p:227

[20]   عورت انسانیت کے آئینے میں : 93

[21]   خاتون اسلام کا دستور حیات از عبد القیوم ندوی : ص 47

[22]  تمدن عرب : ص  373

[23]  عورت اسلام کی نظر میں  از احمد علی سعید : ص 39

[24]   عورت اسلامی معاشرے میں  : ص 11

[25]  عورت انسانیت کے آئینہ میں : ص 96

[26]  عورتوں کی محکومیت از افتخار شیروانی  : ص 11 ، 12

[27]  عورت اسلامی معاشرے میں : ص 28

[28]   خاتون اسلام از وحید الدین خان : ص  81 ، 82

[29]  خاتون اسلام: 59،60

[30]  پردہ : ص 31

[31]  پردہ : ص 64

[32]  خاتون اسلام  : ص 55 ، 56

[33]  Wives of the prophet, Fida Hassan Malik,  P.17

[34]  اسلام میں عورت کی قیادت : ص 46

[35]  سیرۃ النبی  از شبلی  نعمانی: 4 / 297

[36] سورة النحل، 16 : 58۔59

[37]  تفسير مفاتيح الغيب : 20 / 435

[38]  سیرۃ النبی :  6 / 237

[39]  ایضاً :  6 / 415

[40] سورة النساء، 4 : 129

[41]  صحیح المسلم : کتاب الطلاق ، باب في الإیلاء واعتزال النساء وتخییرهن، 1479

[42]  سنن الدارمي: باب ما کان عليه الناس قبل مبعث النبي … ، 2

[43] سورة التکویر، 81 : 8۔9

[44]  فتح الباري شرح صحیح البخاری لابن حجر العسقلاني : 10‎‎‎ / 408

[45]  فتح الباري شرح صحيح البخاري لإبن حجر العسقلاني: 10/ 408

[46]  تدبر قرآن: 6 / 215

[47]  سنن أبوداؤد: کتاب الطلاق، باب في من اسلم وغیره نساء اکثر من أربع ، 2241

[48]  سنن أبوداؤد: کتاب الطلاق، باب في نسخ المراجعة بعد التطلیقات الثلاث ، 2195

[49]  صحیح البخاري: کتاب التفسیر ، سورة النساء، باب قوله لایحل لکم أن ترثوا النساء کرها ، 4579

[50]  تفسیر ابن کثیر: 1 / 465

[51]  أحکام القرآن : 2 / 148

[52]  صحیح البخاري: کتاب التفسیر، سورة النساء، باب(وإن خفتم ألا تقسطوا فی الیتمیٰ) ، 4574

[53]  جامع الترمذي : سنن أبوداؤد، کتاب الفرائض، باب ما جاء فی میراث الصلب ، 2891

[54]  اسلام کا نظام عفت وعصمت: ص 34

Hits: 60

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں