35

کیا مسجدِ اقصیٰ مذہبی مسئلہ نہیں ؟

کیا مسجدِ اقصیٰ مذہبی مسئلہ نہیں ؟

یوسف سراج

آج مجھے دعا کرنے دیجئے کہ میں اپنی بات آسانی سے کہہ سکوں اور یوں کہہ سکوں کہ وہ میرے موقف کی ترجمانی تو کرے ، البتہ دل کے قریب میرے محترم برادر کی جبین پر شکن اور دل پر خراش نہ ڈالے۔ دراصل محدود صحافتی زندگی میں جن چند ایک اہلِ قلم نے میرے دل میں اپنا احترام پیدا کیا ، مکرم آصف محمود صاحب بھی انھی میں سے ایک درخشندہ صاحبِ قلم ہیں۔ کم لوگ ہوتے ہیں جو بہت قلیل عرصے میں اپنے کام میں ایسا نام پیدا کر دکھاتے ہیں، جیسا ہمارے ممدوح نے کیا، اور اس سے انکار بھی اردو صحافت سے نا آشنائی کہلائے گا کہ اردو کالم نگاری میں اس پختہ فکر کالم نگار کی حیثیت بہ عنوانِ انفرادیت روز افزوں ہے۔ تین چیزیں آنجناب کے کالم کی ساخت اور شناخت ہیں۔ بے لاگ طنزیہ کاٹ ، منطقی اسلوبِ بیاں اور پر درد شیوا بیانی۔

پچھلے دنوں مسجدِ اقصیٰ پر آپ نے یکے بعد دیگرے دو قیمتی کالم رقم فرمائے۔ پہلا کالم، موجودہ دور میں جمیع امتِ اسلام کے اجتماعی مفاد و عناد کی حمایت میں یک آواز کھڑے ہونے کے بجائے ، مسلمان ریاستوں کے اپنے نجی مفادات ، اہداف اور ترجیحات کے اسیر ہو جانے کی تلخ کہانی کہتا تھا۔ کچھ شک نہیں کہ عصرِ موجود کے اس سفاک جبر کے حضور مسلمان ریاستیں سرکاری سطح پر خواہی نخواہی اپنا سر جھکا چکیں۔ عالمی سیاست کے نقشے میں آج محمدِ عربیؐ کی امت کا منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ دل بھلے سارے عالمِ اسلام کے ایک ساتھ دھڑکتے ہوں۔ ان کا کلمہ و قبلہ ، خیر و شر کے پروانے، طاقت و توانائی کے پیمانے اور ان کے سود و زیاں کے خزینے و خزانے بھی بھلے کتنے ہی ایک کیوں نہ ہوں۔ یہ البتہ تلخ حقیقت کہ عالمی ایجنڈے کی سحر کاری نے عملاً اب عالم ِ اسلام کو ایک ہونے کا محض اقرار و اعتراف کرنے کی جرأت سے بھی محروم و مجبور کر دیا ہے۔ چھوٹے چھوٹے علاقائی و مقامی مسائل کی اس قدر گھمبیر اور بوجھل بیڑیاں ان مسلمان ریاستوں کے نازک پاؤں میں ڈال دی گئی ہیں کہ جنھیں کاٹ پھینکنا کم از کم اس وقت موجودہ حکمرانوں کی حوصلہ مندی سے ممکن نظر نہیں آتا۔ دراصل یہ اقدام جس سر فروشانہ ولولے اور حوصلے کا متقاضی ہے ، حقائق کی ہولناکی سے لرزاں ہمارے نازک اندام حکمران ابھی وہ صلاحیت اپنے اندر نہیں پاتے۔ یہاں تک تو درد مشترک اور یہاں تک تو بجا ، اسی کالم میں مگر ہمارے مکرم برادر مسئلہ فلسطین کو ہمارے مسئلہ ؐکشمیر جیسا ہی ایک مسئلہ بھی قرار دے جاتے ہیں، آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ عام تحریک ِ آزادی سے ہٹ کر مسجدِ اقصیٰ کی کوئی اضافی مذہبی اہمیت و فضیلت ہر گز نہیں ہوتی۔

مثلاً آپ لکھتے ہیں:

’’نصِ شرعی میں کہیں نہیں لکھا کہ فلسطین کی تحریک تو بہت افضل ہے اور کشمیر کے لہو کی کوئی قیمت نہیں ، ایسا بھی نہیں کہ کشمیر کا مسئلہ تو محض زمیں کا مسئلہ ہو اور فلسطین کا مسئلہ خالص مذہبی مسئلہ ہو۔‘‘ آپ کے مزید پیش کردہ دلائل کا خلاصہ یوں ہے۔

1۔ فلسطین سے محبت یا وابستگی کسی نصِ شرعی کا تقاضا نہیں۔ بطور قبلۂ اول مسجدِ اقصیٰ سے ہماری وابستگی آیت ِ قرآنی کی رو سے درست نہیں کہ خود قرآن نے بیت اللہ کا ذکر مسلمانوں کے لیے ’ تمھارا قبلہ ‘ کہہ کر اور مسجدِ اقصیٰ کو ’ان (اہلِ کتاب) کا قبلہ کہہ کر ذکر کیا ہے۔ (یعنی ہمارے مکرم برادر کے مطابق اس آیت کی رو سے بطور قبلۂ اول مسجدِ اقصیٰ پر مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہونا چاہئے۔)

2۔ مسجدِ اقصیٰ کی فتح کے بعد سیدنا عمرؓ نے مسجدِ اقصیٰ کو جنوبی کونے میں محدود کر کے گویا یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل کر دیا۔(یعنی مزید اس پر مسلمانوں کا حق نہ رہا؟)

3۔ ابنِ تیمیہ نے لکھا ، مسجدِ اقصیٰ کا صرف وہی حصہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے، جسے سیدنا عمر نے مسلمانوں کی عبادت کیلئے مخصوص کیا۔ اس کے علاوہ باقی کسی حصے کو دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں۔ ابنِ عمرؓ بھی یہاں تشریف لائے تو صرف مسجدِ اقصیٰ تشریف لے گئے انھوں نے قبہ کو کوئی تعظیم نہیں دی۔

4۔ ابنِ تیمیہ لکھتے ہیں اور سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی نے بھی لکھا کہ دنیا میں کوئی حرم نہیں بیت المقدس نہ کوئی اور، سوائے دو حرموں (مکہ اور مدینہ کے )۔

5۔ قبۃ الصخرہ کو ولید بن عبدالملک کے دور میں اہمیت دی گئی۔ اسے حرم قرار دیا گیا۔ ابنِ زبیر کی وجہ سے اہل شام کو بیت اللہ کے حج سے روک کر اسی قبے کی طرف متوجہ کر دیا گیا۔

لہذا! 

ان دلائل کے نتیجے میں فاضل برادر نے نتیجہ یہ نکالا کہ ’’ اب ہماری کشمیر کی تحریک ِآزادی کو آپ (فلسطینی) جس نظر سے دیکھیں گے، آپ کی تحریکِ آزادیٔ فلسطین کو بھی ہم اسی نظر سے دیکھیں گے۔‘‘ البتہ ایک گونہ رعایت بھی آپ نے برتی ، رقم فرمایا،’’ ہم چونکہ اس خطے سے ہیں، جہاں سے میرِ عرب کو ٹھنڈی ہوا آئی سو ہم مجبوراً شاید اس اصول پر عمل نہ کر سکیں کہ عربوں جیسے سخت دل شاید کبھی نہ ہو سکیں۔‘‘

پہلا سوال ، کیا واقعی یہ دعویٰ درست ہے کہ کسی نصِ شرعی میں مسجدِ اقصیٰ یا فلسطین کی کوئی اضافی مذہبی اہمیت و فضیلت موجود و مذکور نہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ ہر گز یہ دعویٰ درست نہیں۔ لیکن آپ پہلے نصِ شرعی کا مفہوم جان لیجئے۔ نصِ شرعی سے مراد قرآن مجید یا حدیث رسول کا من و عن text ہوتا ہے۔ یعنی ایسی واضح بات جو عین قرآن یا حدیث کے اپنے الفاظ میں مذکور ہو، اس کے لیے ہمیں کسی استدلال و اجتہاد یا اقوال و قیاس وغیرہ سے کا م نہ لینا پڑتا ہو۔ ویسے تو اہلِ ایمان کی تسلی و تشفی کے لیے ایک نصِ شرعی بھی کا فی و شافی ہوتی ہے تاہم ہم دیکھتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ و فلسطین کی فضیلت میں ایک آدھ نہیں متعدد نص ہائے شرعی موجود اور روزِ روشن کی طرح واشگاف عیاں ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید کی 8 آیات صریحا سرزمینِ فلسطین کے متعلق ہیں۔ مثلاً سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر(1)سورۂ انبیا کی آیت نمبر(81) ، سورۂ انبیا ہی کی آیت نمبر(71) ، سورۂ سبا کی آیت نمبر(18) ، سورۂ التین کی آیت نمبر (1تا3) ، سورۂ بقرہ کی آیت نمبر(58) ، سورۂ مومنون کی آیت نمبر(50) اور سورۂ المائدہ کی آیت نمبر (21)۔مذکورہ تمام آیات میں کہیں صریحا اور کہیں علامات کے ذریعے اس مقدس سر زمین کا تذکرہ کیا گیا، تسلی کے لیے تفاسیر دیکھی جا سکتی ہیں۔

پھر یہ تو ایک ناظرہ خواں بھی جانتا ہے کہ پندرھویں پارے اور سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں صریحاً اس مبارک مسجد ، یعنی مسجدِ اقصیٰ کا نام لیا گیا ہے ، یہی نہیں اس مسجد کے گرد و نواح کو بھی دائرۂ برکت میں سمیٹ لیا گیا ہے ، یہاں تک کہ محمد کریم ؐ کو مکہ سے یہاں لایا گیا تا کہ آپ یہاں بکھرے نورانی انوار دیکھ لیں۔ اب ظاہر ہے ، یہ قرآن ہے ، کسی سکالر کی بات یا کسی مفکر کی فکر نہیں۔ اس سب سے بھی اگر مسجدِ اقصیٰ کی خصوصیت و فضیلت ثابت نہیں ہوتی تو پھر وہ کیسے اور کہاں سے ثابت ہوگی؟ پیش کردہ آیات اگر نصِ شرعی نہیں تو پھر آخر نصِ شرعی ہم کسے کہیں گے؟ پھر قرآن مجید میں مذکور بیشتر انبیاءِ کرام کی حیاتِ مقدسہ ، مساعی مبارکہ کی سر زمین بھی یہی سر زمیں ہے ،قصہ یہ ہے کہ جب جب انبیا کے حالات آپ پڑھیں گے یہ سر زمیں اپنی پوری خصوصیت سے آپ کے سامنے آ کھڑی ہو گی۔ (باقی آئندہ)

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں