44

شیخ رشید حافظ عبدالکریم کو کتنا جانتے ہیں؟

شیخ رشید حافظ عبدالکریم کو کتنا جانتے ہیں؟

یوسف سراج

ڈیرہ غازی خاں کے سیاسی جلسے میں شیخ رشید نے وفاقی وزیرِ مواصلات ڈاکٹر حافظ عبدالکریم پر نازیبا جملوں سے یلغار کی۔ جن سے ممکن ہے ، شرافت کو خیر باد کہہ چکے بعض مخالفین کے سفلی جذبات کی کچھ تسکین ہوگئی ہو، حلقے کے لوگوں کا البتہ اس سے دل دکھا۔ ظاہر ہے، اس جلیل آدمی کا بھی، مواصلات کا وزیر تو جو اب بنا ہے اور سیاست میں آئے بھی جسے زیادہ عرصہ نہیں بیتا، جنوبی پنجاب کی تاریکیوں میں تعلیم اور خدمت کے چراغ جلاتے مگر جسے ایک زمانہ بیت گیا ہے۔

صد شکر کہ مروجہ سیاستدان وہ نہیں۔ اصلاً وہ ایک متوازن دینی سکالر اور حلقے کی معروف سماجی شخصیت ہیں۔ سیاستدان ہوتے تو شیخ رشید کو شیخ رشید ہی کے سکوں میں کامل ادائیگی کرتے۔ اس پر انھیں قدرت بھی ہے۔ ایک زمانے سے یہ شخص مگر اپنی گویائی اپنے عمل کو فروخت کر چکا۔ حافظ عبدالکریم انھی شاذ لوگوں میں سے ایک شخص ہے ، نام سے نہیں ،جن کو کام سے نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ جملے باز شیخ رشید کو تو خیر دشنام طرازی میں عار ہی کیا تھا، گمان مگر یہ کہ شیخ رشید نے اس شخص کو بطور انسان ہر گز نہیں جانا۔ مثلاً نام تک لینے میں اس شخص کی زبان کو کتنی ہی لڑھکنیاں کھانی پڑیں۔ کبھی فضل کریم کہا ، کبھی کچھ اور پکارا کیے اور بالآخر تقریر روک کے نام پوچھا۔ گویا کسی نے ڈیوٹی لگائی تھی کہ ایک شخص پر یلغار کرنا ہے اور آپ نے یہ فرض نبھایا؟ بندۂ خدا بغضِ نواز میں اس نجیب آدمی کو برا کہے بغیر تقریر اگر آپ پر اترتی نہ تھی تو اور نہیں تو اس کا نام ہی یاد کر آتے۔ شیخ رشید بھی لیکن کچھ زیادہ غلط نہ تھے، کہ جب طبیعت مچل ہی اٹھے تو ہدف کا نام یا کام جاننے سے کیا فرق پڑ سکتا ہے؟ ویسے بھی مروجہ بازار ِ سیاست میں دشنام دینے کیلئے کسی شخص کی اتنی خامی بھی کیا کم ہے کہ وہ مخالف پارٹی سے تعلق رکھتا ہو۔ پھر شیخ رشید کے لیے یہ شخص محض کسی عام مخالف پارٹی کا فرد ہی تو نہ تھا۔ آخر وہ اُس ن لیگ کا وزیر تھا ،کہ جس ن لیگ کے شیخ موصوف متروک سکے ہو چکے ؎

گو واں نہیں ، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں

کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی

قصور ن لیگ کا بھی کم نہیں ، وقتِ جدائی آخر اس مردِ رشید نے حبِ نواز کے جام لبوں تک لانے کے لیے کیا کیا پاپڑ نہ بیلے تھے؟ادھر سے مگر پھر بھی درِ قبولیت وا نہ ہوسکا تھا، اب اس پر آدمی مشتعل نہ ہو تو کیا ہو؟ چنانچہ درد کے ایسے لمحوں میں شیخ کا فراواں غصہ واجب التسلیم اور ان کا اشتعال قابلِ فہم ہونا چاہئے۔ سوال مگر پھر وہی کہ کیا شعلہ گفتار شیخ رشید حافظ عبدالکریم کو جانتے بھی ہیں، یعنی علاوہ اس کے کہ وہ ن لیگ کے تازہ وفاقی وزیر ہیں؟

خوش گفتار، شائستہ اطوار اور سر زمینِ قرآن سے علومِ اسلامیہ میں ڈگری لے کے آنے والا، اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ڈاکٹریٹ کی سند کمانے والا یہ شخص بلوچ قبیلے کا فرزند ہے۔ کردار کے بغیر محض نسب کس کام کا؟ قبیلے اور نسب کی نجابت لیکن اس کے لہجے اور عمل میں برابر بولتی ہے۔ ذاتی نجابت بھی چلئے درست، یہ شخص مگر دل میں انسانیت کا درد بھی رکھتا ہے۔ اہلِ علاقہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ حافظ عبدالکریم ایک شخص نہیں ، ایک این جی او کا نام ہے ۔ معیاری سہولیات کے ساتھ طالبات کی دینی و عصری مفت تعلیم کا وسیع و عریض انسٹیٹیوٹ اس نے سیاست میں آنے سے برسوں پہلے کھڑا کیا اور غربت و پسماندگی نصیب جنوبی پنجاب میں انڈس یونیورسٹی کے نام سے شاندار دانش گاہ تعمیر کی۔ پچاس لاکھ مرلہ جیسی بیش قیمت زمین پر واقع کئی ایکڑوں پر محیط یہ ایک وقف پراجیکٹ ہے۔ بڑے شہروں کے مقابلے میں جہاں تین درجے کم فیسیں وصول کرکے اس پسماندہ خطے کے طلبا کو اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہے۔

اس شخص کی کامیابیاں ایک سنجیدہ مطالعے کی متقاضی ہیں۔ سیاست اس کے لئے آسان نہ تھی۔ نسل در نسل سیاست پر مسلط وڈیروں کے مقابل آنے کی جرات کر گزرنا بھی کم ازکم اس ملک میں کبھی کسی نو وارد کے لئے آسان نہیں رہا۔ گھر سے جیت کے نکلتے با اثر سیاسی وڈیروں کی سر برآوردہ شخصیت صدرفاروق لغاری کے مقابل یہ مگر اپنی نیک نامی لے کے نکلے اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق کامران بھی ٹھہرے۔ ایک نو وارد کی برتری مگر ٹھنڈے پیٹوں کیونکر برداشت ہوتی؟ تب انتخابی نتیجہ روک دیا گیا اور کئی دنوں بعد فیصلہ لغاریوں کے حق میں سنا دیا گیا۔ 2013کے الیکشن میں یہ دھونس مگر نہ چل سکی۔ اس بار جیتے بھی وہی ، اعلان بھی انھی کا ہوا۔ وہ مذہبی امور سے متعلق ہوئے اور گردن تک کرپشن میں دھنسے سفرِ حج کو شفاف اور سہل کر گزرے۔اب مواصلات کی وفاقی وزارت ان کے پاس ہے۔

ایسے نجیب شخص کو دشنام دینے پر ظاہر ہے ،شیخ رشید پر حیرت ہی کی جا سکتی ہے ، افسوس ،ایک عالم شخص کی داڑھی تک بھی زبانِ طعن دراز کر ڈالی گئی۔ حیرت ہوتی ہے، آیا یہ وہی شیخ رشید ہیں جو ختم نبوت کے معاملے پر اسمبلی میں دہائی دیتے پائے گئے؟ کیا انھیں علم نہیں کہ اس داڑھی کی نسبت بھی اسی ختم نبوت سے ہوا کرتی ہے؟

کچھ دن ہوتے ہیں ، نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں شیخ رشید نے مکر م ارشاد عارف کے ایک پرانے کالم کا حوالہ دیا۔ جو انھیں بہت خو ش آیا تھا۔ عرض ہے کہ وہ سیدی ارشاد عارف کا ایک اور پرانا کالم بھی کہیں سے ڈھونڈ کے مطالعہ فرمائیں ، وہ کالم کہ اسی حافظ عبدالکریم کے رفاہی ادارے دیکھ آنے کے بعد اس جید کالم نگار نے رقم فرمایا تھا۔ اداروں کے سلیقہ مند ایثار کا بھی جس میں تذکرہ تھا اور سیاست میں ایک دانشمند شخصیت کی آمد پر خوشگوار تاثرات کا بھی جس میں اظہار تھا۔

حرفِ آخر یہ کہ تنقید سے کوئی شخص ماورا نہیں۔ کاش مگر یہ تنقید دانش مندانہ جانکاری اور انسانی شرافت کے دائرے میں رہا کرے۔یہی مگر نہیں ہوتا اور اب تو گالی کے لیے دلائل بھی مہیا ہونے لگے ہیں ، جو بجائے خود عقل کو گالی دینے کا کام ہے۔ آدمی سوچتا ہے کاش ! وہ وقت بھی آئے کہ مخالفت اور سیاست گالی کے بغیر بھی ہو سکے!

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں