39

گمشدہ مسجدِ اقصیٰ ملتی ہے!

گمشدہ مسجدِ اقصیٰ ملتی ہے!

حافظ یوسف سراج

سوال یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کون سی ہے؟ سرمئی گنبد والی یا سنہرے گنبد والی؟

 اس پر معرکہ آرا تحقیقات جاری ہیں اور مجھے وہ فوٹوکاپیاں یاد آ جاتی ہیں جنہوں نے ایک عرصہ ہم بچوں کا دل خوف سے بھر ے رکھا۔ وہی جس میں امام کعبہ ایک خواب دیکھتے ہیں، جس میں رسولِ کریم امام صاحب کو بتاتے ہیں کہ برائی بہت پھیل چکی اور اب قیامت بس آیا ہی چاہتی ہے،شاید چالیس روز میں۔ چنانچہ کرنے کا کام یہ ہے کہ اس پمفلٹ کی بہت سی فوٹو کاپیاں بانٹی جائیں۔ مزید یہ کہ اسے جھوٹ نہ سمجھا جائے کیونکہ فلاں فلاں مرد و عورت نے اسے جھوٹ سمجھا تو ان کی اتنی مرغیاں، اتنی بھینسیں یا اتنے عزیز و اقارب وفات پا گئے، یا گھر بیٹھے بیٹھے ہی ان کی جیب کٹ گئی، جبکہ اتنے لوگوں نے اسے صحیح سمجھا اور کاپی کروا کے بانٹا تو ان کے خالی کھیت میں بانس جتنے گنّے اگ آئے،دیکھتے ہی دیکھتے جن پر تربوز جتنے آم جھولنے لگے اور انہیں اضافی رقم بھی ملی۔

مسجدِ اقصیٰ کے بارے میں پھیلائی جانے والی وارننگ بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ایک عبارت سی بنا لی گئی ہے، سوشل میڈیا پر بڑی آسانی سے جسے کسی بھی ایسی بحث میں چپکا دیا جاتا ہے کہ دیکھیں جی یہ ‘میڈیا وار’ کا دور ہے۔ کفار ویسے تو سازشیں کرتے ہی رہتے ہیں مگر کبھی وہ بہت خفیہ سازش بھی کرتے ہیں اور یہ تو کفار کی بڑی عظیم الشان سازش ہے۔ دیکھیے، آپ کو سنہرے گنبد والی عمارت کو مسجد اقصیٰ کہہ کے دکھایا، بہلایا اور ٹرخایا جا رہا ہے، جو شاید چک جھمرہ میں کہیں واقع ہے تا کہ آپ کو بالکل پتہ نہ چل سکے کہ اصل مسجدِ اقصیٰ کون سی ہے اور کہاں ہے؟ کوشش ان لعین کفار کی یہ ہے کہ سنہرے گنبد والی تصویر عام کر کے آپ کو اچھی طرح گمراہ کر دیا جائے۔ جب آپ تسلی بخش حد تک گمراہ ہو چکیں تو پھر اصل مسجدِ اقصیٰ کو گرا دیا جائے اور آپ کو بس سنہرے گنبد والی مسجد دکھا کے کہا جائے کہ یہ دیکھو مسجد تو موجود ہے!

ایک اچھے بھلے ادارے کی کتاب میں لکھا دیکھا کہ لیجیے یہ ہے اصل مسجدِ اقصیٰ کی نادر و نایاب تصویر۔ یاخدا! اب بھلا اس میں تصویر کے نادر ہونے کی کیا بات ہے؟ آپ نیٹ پر سرچ کریں ایسی بے شمار تصویریں آپ کے سامنے پھیل جائیں گی، جو چاہیے دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کیجیے اور قوم کو حساسیت میں مبتلا کیجیے۔

خیر، معاملے کی وضاحت کے لیے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی، بہتوں کو اطمینان ہوا، ایک صاحب نے البتہ مجھ پر میری گمراہی آشکار کرنے کی ٹھان لی۔ عرض کیا، ہم تو ٹھہرے عجمی کم ازکم عربوں کو تو اصل مسجد کا پتا ہونا چاہیے۔ دیکھیے سعودیوں نے اپنے ریال پر مسجد اقصیٰ کی سنہرے گنبد والی تصویر لگا رکھی ہے اور ان کا شاہی پریس ریالوں پر دھڑا دھڑ یہی تصویر چھاپ رہا ہے۔ سوچیے کیا انہیں اصل مسجد کی ایک بھی نادر و نایاب تصویر نہ مل سکی؟ وہ بھائی صاحب کہنے لگے سعودری ریال پر تصویر چھپنے سے حقیقت بدل نہیں سکتی۔ عرض کیا، یہ ایک حوالہ تو ہے، خیر، آپ الجزیرہ ٹی وی کی 47 منٹ کی وہ ڈاکیومینٹری دیکھ لیجیے جو ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور جس میں ناصرف فلسطینی آفیشلز کا بلکہ یہودیوں کا بھی موقف خود ان کی اپنی زبانی موجود ہے۔ کہا گیا یہ سب یہود کی سازش ہے۔ عرض کی، بہت خوب! لیکن آپ اس سازش سے کم از کم مسجدِ اقصیٰ کے عزت مآب امام ڈاکٹر عکرمہ صبری صاحب کو ضرور آگاہ فرما دیجیے کہ وہ ایک پاکستانی ٹی وی پر اس موقف کی نفی کر رہے تھے۔ کم از کم مسجدِ اقصیٰ کے امام کو تو یہ تحقیق معلوم ہو نی چاہیے۔

بات یہ ہے کہ 571ء میں مکہ میں اللہ کے آخری رسول ﷺ نے جنم لیا۔ ان پر قرآن اترا تو اس میں اس عبادت خانے کو ’مسجد‘ کہا گیا حالانکہ یہی قرآن یہود کی عبادت گاہوں کے لیے کئی دوسرے لفظ اختیار فرماتاہے۔ اب مسجد کا مطلب ہے، سجدہ کرنے کی جگہ اور یہود کی عبادت میں سجدہ موجود ہی نہیں تو معبد نہیں یہ مسجد ہے۔ صحیح بخاری کے مطابق اسے تعمیرِ بیت اللہ کے 40 سال بعد تعمیر کیا گیا۔ درست ترین موقف کے مطابق سیدنا آدمؑ نے، پھر انبیا اس کی تعمیر کرتے رہے۔ اس مسجد کا احاطہ 1 لاکھ چوالیس ہزار مربع میٹر ہے۔ ا س کی چار دیواری یا تو موجود رہی یا اس کے نشانات قائم رہے۔ اس کی حدود میں کبھی کمی بیشی نہیں ہوئی۔ 15ہجری میں خلیفہ عمرؓ نے فلسطین فتح کیا تو ان کے ساتھ موجود صحابہ میں ایک جید اور ثقہ تابعی کعب الاحبار بھی تھے۔ یہ یہود کے جید عالم تھے اور خلافتِ ابو بکر میں مسلمان ہوگئے تھے۔ خلیفہ عمرؓ نے ان سے مشورہ کیا کہ اس کھلے صحن میں کہاں نماز ادا کی جائے؟ انھوں نے مشورہ دیا کہ اگر سابقہ شریعتوں سے ہم آہنگ ہونا ہے تو یہ جو قبۃ الصخرہ ہے، اس کے پیچھے مصلیٰ بنا لیں کیونکہ یہود اسی کی جانب رخ کر کے عبادت کرتے تھے۔

حضرت عمرؓ ٹھہرے ایک ہی ثقہ آدمی، یاد ہے نا انھوں نے تو حجر اسود سے کہہ دیا تھا کہ دیکھ حجر اسود! بھئی تُو جنت سے ضرور آیا ہے، پر ہماری بھی سُن ! ہم تجھے نفع و نقصان میں مؤثر بالکل نہیں سمجھتے، چومتے بس اس لیے ہیں کہ یہ ہمارے رسول ﷺ کی سنت ہے۔ تو حضرت عمرؓ نے کعب سے کہا، ہم تو وہی طریقہ اختیار کریں گے، جو اللہ کے رسول ﷺ کی سنت ہے۔ یعنی مسجد کے اگلی طرف عمارت بنا کے وہاں نماز پڑھنا اور باقی کو صحن چھوڑ دینا۔ اس اگلے حصے میں سیدنا عمر ؓ نے نماز ہی نہیں پڑھی، لکڑی کی ایک عمارت بھی بنوا دی۔ عبدالملک بن مروان کا عہد آیا تو اس نے لکڑی کی بنی اس مسجد ِ عمر کی عمارت کو پختہ کروا دیا اور صحن میں ادھر ادھر اور بھی کئی عمارتیں کھڑی کر دیں۔ یہ سنہرے رنگ والا گنبد بھی بنوایا۔ جو صحنِ مسجدکے تقریباً وسط میں واقع ہے اور آج کل خواتین یہاں نماز اد اکرتی ہیں۔ اب ہمارے اللہ کے بندے کہتے ہیں کہ جہاں جہاں تو عمارت ہے اور عمارت بھی وہ جسے سیدنا عمرؓ نے بنوایا، وہ تو اصلی مسجدِ اقصیٰ ہے البتہ باقی صحن اور اس کی عمارتیں مسجدِ اقصیٰ نہیں۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ فلسطینیوں کا مسجد کے پورے حصے پر قابض رہنا یہود کی سازش ہے۔

بندگانِ خد ! سازش تو یہ ہوگی کہ آپ ڈیڑھ لاکھ مربع میٹر سے چند ہزار مربع میٹر پر قناعت کرلین اور مزے کی بات یہ کہ یہوداس مسجدِ عمر، جو مسجدِ قبلی بھی کہلاتی ہے، کا تقاضا ہی نہیں کرتے۔ان کے مزعومہ ہیکل کا آغاز اس مسجد کو چھوڑ کر اگلے حصے سے ہوتاہے یعنی یہ موقف تو یہود کے عین حق میں ہے۔ فلسطینی البتہ ڈٹے ہیں کہ کسی طرف سے بھی وہ مسجد کا ایک انچ بھی نہ دیں گے۔ صحن، اس کی عمارتیں اور قبۃ الصخرہ تو کجا، وہ کہتے ہیں کہ صحن میں لگے درخت بھی مسجد کی طرح مقدس ہیں۔

بہرحال، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ جتنی عمارتیں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں ہیں، سبھی مسجدِ اقصیٰ کا حصہ ہیں۔ مجموع الفتاویٰ میں یہی ابنِ تیمیہ نے بھی فرمایا ہے۔ ویسے میں سوچتا ہوں کہ اپنے خون سے مسجد اقصیٰ کا دفاع کرنے والے اور مسجد پر اپنے بیٹے قربان کرنے والے فلسطینیوں کو اگر معلوم ہو کہ آدھی سے زیادہ مسجد تو ہمارے بعض تحقیق کار محض تحقیق کی جھونک ہی میں یہود کو دے چکے ہیں تو ان پر کیا گزرے گی؟ میرا خیال ہے کہ ہمیں کم ازکم فلسطینیوں کو ضرور آگاہ کر دینا چاہیے کہ انہیں کتنی مسجد کے لیے لڑنا چاہیے اور کتنی مسجد ازراہِ تحقیق ہمیں چھوڑ دینی ہے!

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں