35

بینظیر بھٹو کے پُراسرار قاتل!

 
آج ہی کے دن‘ دس برس قبل بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تھا۔
آج کل سابق ڈی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ کی کتاب پڑھ رہا ہوں‘ جس میں ایک باب بینظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں بھی لکھا گیا ہے، جس کی تفتیش کھوسہ صاحب کر رہے تھے۔
طارق کھوسہ سے میری ذاتی ملاقات کبھی نہیں ہوئی۔ برسوں پہلے انہیں سینیٹ کمیٹی میں سینیٹرز کو بریفنگ دیتے دیکھا تھا۔ ایک صاحب نے طارق کھوسہ سے سخت سوال و جواب کر کے رعب جمانے کی کوشش کی تو طارق کھوسہ نے‘ جو اس وقت ایف آئی اے میں ڈپٹی ڈی جی تھے، رعب میں آنے سے انکار کر دیا تھا۔ سب سینیٹرز کو بڑے پُراعتماد انداز میں جوابات دیے تھے۔ وہ ایک یورپی ملک میں‘ ایک پاکستانی لڑکے کی جیل میں موت کی تحقیق کرنے گئے تھے کہ اس نے خودکشی کی تھی یا اسے جیل میں قتل کیا گیا تھا۔ وہ لڑکا اس وقت گرفتار ہوا تھا‘ جب وہ ایک اخبار کے دفتر میں گستاخانہ کارٹون بنانے والے کارٹونسٹ کو قتل کرنے کی نیت سے گیا تھا۔ 
اس کے کچھ عرصہ بعد میں نے سوئس سفارت خانے کا سکینڈل بریک کیا تھا۔ سفارت کار ایک گروہ کے ساتھ مل کر انسانی سمگلنگ کا دھندہ کر رہے تھے۔ وہ سکینڈل ایف آئی اے نے ٹیک اَپ کیا تھا۔ سکینڈل بریک ہونے کے بعد جہاں کچھ گرفتاریاں ہوئیں، وہیں سفارت خانہ بھی کچھ دن بند رہا۔ آخر سوئس وزیرخارجہ پاکستان آئیں اور بڑی کوششوں کے بعد وہ سفارت خانہ دوبارہ کھلا۔ سفارت خانے کے ایک دو سینئر افسران کو واپس سوئٹزرلینڈ بلا لیا گیاتھا۔ انہی دنوں میری طارق کھوسہ سے فون پر بات ہوتی تھی۔ اسی طرح میں نے ایف آئی اے کا ایک اور سکینڈل بریک کیا تھا جس میں ایک انسپکٹر کو ایف آئی اے حکام نے برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ میں نے وہ سٹوری فائل کی تو طارق کھوسہ ایکشن میں آئے۔ بہت کم افسران میں نے سروس میں ایسے دیکھے‘ جو محکمے کے اہلکاروں کو بچانے کی بجائے انصاف کا ساتھ دیں۔ عموماً افسران بالخصوص پولیس والے‘ اپنے قصوروار اہلکاروں کو بچانے لگ جاتے ہیں؛ تاہم کھوسہ صاحب نے خود فون کیا اور کہا کہ وہ انکوائری کریں گے۔ چند دن بعد کھوسہ صاحب نے فون کر کے بتایا کہ خبر درست ہے، انسپکٹر کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی۔ نہ صرف قصور واروں کے خلاف کارروائی کی گئی بلکہ انسپکٹر کو بحال بھی کیا گیا۔
یوں کھوسہ صاحب سے نہ مل کر بھی دل میں ان کے لئے عزت رہی کیونکہ اب ایسے ایماندار اور قابل افسران نہیں ملتے جو برسوں کی ملازمت کے بعد بھی عزت لے کر گھر جائیں۔ طارق کھوسہ اور میر زبیر محمود جیسے قابل احترام پولیس افسران اسی کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ کھوسہ یا میر زبیر وہ افسران تھے جو غلط کام پر حکمرانوں کو ”ناں‘‘ کرنے کی جرأت رکھتے تھے۔ حالیہ دنوں میں ایسی مثالیں آفتاب چیمہ، شارق کمال صدیقی اور محمد علی نیکوکارا کی شکل میں سامنے آئی ہیں۔
طارق کھوسہ کی کتاب پڑھنا شروع کی تو پہلے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے بارے میں باب شروع کیا۔
پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2009ء میں طارق کھوسہ کو ڈی جی ایف آئی اے لگایا تھا۔ کھوسہ نے چارج سنبھالا تو انہوں نے بینظیر بھٹو کیس کو اہمیت دی جو دو سال سے سرد خانے میں پڑا تھا۔ ملک کی سابق وزیراعظم ہونے کے باوجود جس طرح دن دہاڑے قتل کر دی گئی تھیں اور قاتلوں کا پتا نہیں چل سکا تھا وہ اسے ایف آئی اے کے لیے چیلنج سمجھتے تھے۔ یہ ایف آئی اے پر بہت بھاری ذمہ داری تھی جسے دو سال گزرنے کے باوجود پورا نہیں کیا گیا تھا۔ ایف آئی اے نے وزیرداخلہ رحمن ملک کو سمن جاری کر کے بلایا کہ وہ آئیں اور اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔ رحمن ملک نے ایف آئی اے کو بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔ انہیں پھر سمن جاری کیے گئے لیکن وزیرداخلہ بیان دینے کو تیار نہ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا سکیورٹی کا معاملہ وہ نہیں دیکھتے تھے۔ جب ایف آئی اے نے رحمن ملک کو دو تین بار سمن جاری کیے تو انہوں نے وزیرداخلہ کی حیثیت سے ان سے بریفنگ مانگ لی کہ ایف آئی اے کیا تفتیش کر رہی تھی۔
ڈی جی ایف آئی اے کی حیثیت سے طارق کھوسہ کی تحقیقات درست سمت میں جا رہی تھیں۔ ایف آئی اے کے دبئی اور امریکہ میں اہم ذرائع سے رابطے ہو چکے تھے‘ جو انہیں تمام تر خفیہ تفصیلات دینے کو تیار تھے کہ بینظیر بھٹو کے قتل پیچھے کس کا ہاتھ تھا اور یہ سازش کس نے کی تھی۔ ایف آئی اے کی تین ٹیمیں بنائی گئی تھیں۔ دو نے امریکہ، دبئی اور تیسری ٹیم کو ایک مدرسے میں بھیجا جانا تھا جہاں بینظیر بھٹو کے قاتلوں نے‘ راولپنڈی آنے سے قبل رات گزاری تھی۔
طارق کھوسہ لکھتے ہیں کہ جونہی پیپلز پارٹی حکومت کو پتا چلا کہ تین ٹیمیں تیار ہو کر امریکہ، دبئی اور اکوڑہ خٹک جا رہی ہیں تو انہیں ڈی جی ایف آئی اے کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
طارق کھوسہ آج تک حیران ہیں کہ جب وہ بینظیر بھٹوکے قتل کی سازش کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے تو انہیں پیپلز پارٹی حکومت نے کیوں ہٹا دیا؟ ڈی جی ایف آئی اے کو وزیرداخلہ رحمن ملک نہیں ہٹا سکتے تھے۔ یہ کام وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا تھا اور گیلانی صاحب اتنا بڑا فیصلہ اس وقت کے صدر‘ زرداری کی مرضی بغیر نہیں کر سکتے تھے۔ یوں جب ایف آئی اے سازش کے قریب پہنچ گئی تھی تو اس پرسرار قتل کی تفتیش رک گئی۔
پچھلے دنوں گریڈ بائیس کے ایک سرونگ پولیس افسر سے ملاقات ہوئی‘ جس نے ایف آئی اے کی بینظیر بھٹو کے قتل والی فائل‘ جو طارق کھوسہ کو ہٹائے جانے بعد ایف آئی اے کے افسران کی ٹیم نے تیار کی تھی، پڑھی ہوئی تھی ۔ جس پولیس افسر کو ایف آئی اے طارق کھوسہ کے بعد یہ کیس دیا گیا تھا، اس کی بھی ریپوٹیشن اچھی تھی؛ تاہم اس سینئر پولیس افسر کے بقول‘ اس انکوائری افسر نے چالان پیش کرتے وقت بینظیر بھٹو قتل کیس جتنا کمزور بنایا تھا، وہ حیران کن ہے۔
میرے جاننے والے اس پولیس افسر کے بقول‘ اس نے بینظیر کی پوری فائل پڑھی تھی اور وہ حیران تھا کہ جان بوجھ کر ایف آئی اے کی ٹیم نے ایسے گواہان مقدمے کا حصہ بنائے جن پر ایک سمجھدار پولیس افسر کبھی بھروسہ کرتا۔ خیر اس بات کو جاننے کی کوشش طارق کھوسہ کو ہٹائے جانے کے بعد کسی نے نہیں کی کہ سازش کے پیچھے کون تھا۔ وہ معاملہ کھوسہ صاحب کے ساتھ ہی ختم کر دیا گیا تھا۔
آج پھر گڑھی خدا بخش میں عوام کا ہجوم ہوگا، جلسہ عام ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے لیڈر جوشیلی تقریریں کریں گے، پھر سازشوں کے الزامات لگیں گے۔ ان نامعلوم قوتوں کو لعن طعن کی جائے گی جنہوں نے قتل کرایا۔ جذباتی تقریریں ہوں گی، آنکھوں میں آنسو ہوں گے، بتایا جائے گا کہ جو بچے کھچے قاتل تھے‘ وہ بھی رہا کر دیئے گئے۔ بینظیر بھٹو کے غم میں روتے لوگوں کو کوئی نہیں بتائے گا کہ یہ ہم ہی تھے جنہوں نے طارق کھوسہ کو عہدے سے ہٹایا‘ کیونکہ وہ سازش کے قریب پہنچ گئے تھے۔ کوئی نہیں بتائے گا کہ جس پولیس افسر کو ہم نے ایف آئی اے کی تحقیقات سونپی تھیں اس نے جان بوجھ کر متعدد غلطیاں کیں تاکہ رہے سہے قاتل بھی رہا ہو جائیں۔
آج کوئی نہیں بتائے گا کہ نو برس جب عدالت میں کیس چلتا رہا، اس وقت کچھ لوگ ایان علی کو چھڑانے میں مصروف تھے۔ زرداری صاحب اس وقت عاصم حسین کو چھڑانے میں لگے ہوئے تھے۔ پوری پیپلز پارٹی شرجیل میمن، ایان علی اور عاصم حسین کو سیاسی قیدی کا درجہ دلوانے کے لیے کوششیں کر رہی تھیں۔ کسی کو بینظیر بھٹو کا قتل یا اس کا مقدمہ یاد نہ تھا۔جب بقیہ مبینہ قاتل بھی بری ہوگئے تو اچانک ماتم شروع کر دیا گیا۔ اب زرداری صاحب اور لطیف کھوسہ بینظیر بھٹو کا کیس دوبارہ کھلوانا چاہتے ہیں حالانکہ جب طارق کھوسہ سازش ڈھونڈ رہے تھے تو فوراً انہیں ہٹا دیا گیا تھا۔ اب نو برس بعد پھر پی پی پی سازش ڈھونڈ رہی ہے اور پوچھ رہی ہے بی بی کے رہے سہے قاتل کیسے بری ہو گئے۔
عرض یہ ہے کہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کے چہرے چھپے رہنے میں ہی پیپلز پارٹی کا فائدہ ہے۔ ان چہروں سے نقاب اتر گیا تو نقصان ہی نقصان ہے اور سمجھدار سیاسی لوگ اپنا نقصان بھلا کب کرتے ہیں۔ سیاست کے سینے میں دل نہیں بلکہ مفادات ہوتے ہیں اور زرداری صاحب کی پیپلز پارٹی کا مفاد اسی میں ہے کہ بینظیر کے قاتلوں کے پیچھے چھپے پراسرار راز اور چہرے کبھی بے نقاب نہ ہوں!

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں