10

ان بھیڑ بکریوں کو بھی انسان سمجھا جائے!

ان بھیڑ بکریوں کو بھی انسان سمجھا جائے!

یوسف سراج

ایک شخص دربارِ رسالت میں اپنے بھائی کو لایا۔ عرض کی، حضور اسے سمجھائیے ، ہر وقت یہ آپ کی خدمت میں پڑا رہتا ہے۔ کسی وقت اٹھے اور کچھ کما کے بھی لائے۔ انداز ایسا تھا کہ وہ اپنے اس بھائی کو کم عقل سمجھتا تھا اور دنیا کی دولت کو ترجیح دیتا تھا۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، دائم یاد رکھو کہ ایسے ہی کمزوروں کی وجہ سے آسمان سے تمھارے لیے رزق اترتا ہے۔
ابھی بعثت کا اعلان نہ ہوا تھا، رسول اللہ ؐ نے عبداللہ بن جدعان کے گھر ،ایک معاہدے میں شرکت فرمائی۔ معاہدے میں شریک کئی سرداروں کے نام فضل ہونے کی وجہ سے سیرتِ طیبہ میں یہ معاہدہ حلف الفضول کہلایا۔ معاہدہ یہ تھا کہ اس کے بعد غریبوں ، کمزوروں اور مظلوموں کی داد رسی کی جائے گی۔ طاقتوروں سے انھیں ان کا حق دلایا جائے گا۔ ہوتا یہ تھا کہ مکے کے سردار اپنی طاقت کے زعم میں کمزوروں اور مسافروں سے سودا کرتے اور انھیں ان کا حق دینے سے مکر جاتے۔ یا ویسے ہی جس کا جی چاہتا حق دبا کے بیٹھ رہتے اور کوئی مظلوم کا ساتھ نہ دیتا۔ اس معاہدے میں اسی کا توڑ کیا گیا۔ بعثت کے بعد بھی رسولِ رحمت ؐ اس معاہدے کو یاد کیا کرتے اور فرماتے ، آج بھی اگر کوئی مجھے ایسے معاہدے کے لیے بلائے تو میں لبیک کہنے کو تیار ہوں۔ مظلوموں اور کمزوروں کے لئے رسول اللہ ؐ کے دل اور دہلیز کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے۔ مکہ میں مسلمان جب ابھی کمزور تھے ، ابو جہل نے ایک شخص کا حق مار لیا۔ تپتے موسم میں وہ ایک ایک دروازہ کھٹکھٹاتا رہا مگر کوئی بات سننے یا ساتھ دینے کو تیار نہ ہوا۔ کسی نے ازراہ ِمذاق مظلوم سے کہا ، محمدؐ کے پاس جاؤ ، وہ تمھیں تمھارا حق دلائیں گے۔ خیال تھا، مسلمان تو خود ابو جہل کے ستم سے پناہ مانگتے ہیں، کوئی کیسے اس کے ساتھ چلے گا، چلئے تماشا ہی سہی۔ سرکار مگر اس کے ساتھ ہو لیے اور ابو جہل کا دروازہ جا کھٹکھٹایا۔ وہ باہر نکلا تو آپ نے حکم دیا ، مظلوم کو اس کاحق دو۔ کانپتے ہاتھوں فی الفور اس نے حکم کی تعمیل کر ڈالی۔ بعد میں لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ اس وقت تمھیں ہو کیا ہو گیا تھا؟ اس نے کہا، محمدؐ اکیلے نہ تھے ، مجھے ان کے ساتھ خطرناک تیوروں والا ایک جتھہ بھی نظر آیا، جس سے میں گھبرا گیا۔ آپ کا ارشادِ گرامی ہے ۔ وہ شخص مجاہد فی سبیل اللہ اور شب زندہ دار کے مانند ہے ، جو کسی یتیم یا بیوہ کی مددکے لیے کوشاں رہے۔
افسوس ! اسلام کے سماجی انصاف اور معاشرتی عدل کے عملی اظہار کے لئے بنے پاکستان میں قانوں اور راحت صرف ثروت مند وں کے لیے ہے۔ غریب کو شاید اس دیس کی شہریت دینا ہی کافی سمجھ لیا گیا ہے، وہ بھی شاید اس لئے کہ کام کرنے کو کچھ ملازم بھی تو ہونے چاہئیں۔ اب دیکھئے ، پورے پاکستان میں یہ خبر گونجتی رہی مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ محض چار سو روپے رشوت نہ ہونے کے جرم میں خاتون کے شوہر کو انیس سال جیل میں پھینک دیا گیا۔ انصاف ہی نہیں ، کچھ بھی غریب آدمی کے لیے یہاں رہنے نہیں دیا گیا۔ مثلاً پوری تعلیم پرائیویٹ سیکٹر کو بیچ دی گئی۔ روزانہ کی دیہاڑی سے معاش کا کنواں کھود کر زندگی کی پیاس بجھانے والا کوئی شخص بھلا کیسے اپنی اولاد کو اتنی مہنگی تعلیم دلا سکتا ہے؟ نتیجہ یہ کہ فرعونی دور میں بسے بنی اسرائیل کی طرح غریب نسل در نسل اپنے آقاؤں کے لیے غلام پیدا کر رہا ہے۔ گھر کے برتن اور بچپن کی خواہشیں بیچ کر اور فاقے کاٹ کر اگر کوئی غربت کی اس دلدل سے نکلنے کی کوشش بھی کر بیٹھے تو ملازمت کے مرحلے پر رشوت اور سفارش کے عفریت اسے نگل جاتے ہیں۔
دراصل غریب پروری حکومتوں کی ترجیح کبھی رہی ہی نہیں ۔بہت معمولی مسئلے بھی حکومت حل کرنا ہی نہیں چاہتی۔ یعنی وہ جو محض اک نظر ڈالنے سے حل ہو سکتے ہیں۔ مثلاً لاہور کے باسی جانتے ہیں کہ جونہی کوئی ایک سے زیادہ چھٹیاں آتی ہیں۔ لاہور شہر خالی ہو کر سائیں سائیں کرنے لگتا ہے۔ پورے پنجاب اور خصوصاً جنوبی پنجاب کے پنچھی یہاں بنتے پلوں پر مزدوری کرنے آتے ہیں۔ کسی بھی تہوار پر جنھوں نے آخر اپنے گھروں کو لوٹ جانا ہوتا ہے۔ ایسے موقعوں پر سڑکوں پر انسانیت کی وہ تحقیر اور تذلیل دیکھنے کو ملتی ہے کہ پناہ بخدا! پردیسیوں کی اتنی بڑی تعداد جب یکبارگی گھروں کو لوٹتی ہے تومعمول کی ٹرانسپورٹ اس ریلے کو سنبھال نہیں سکتی۔ جانے والے مگر مجبور۔ نتیجہ یہ کہ بھیڑ بکریوں کی طرح بسوں میں انھیں ٹھونس دیا جاتا ہے ۔ اتنے ہی لوگ چھت پر بھی پیک کر دئیے جاتے ہیں۔ منظر یہ کہ کبھی تو بس بھی دکھائی نہ دے۔ رہی پولیس تو ایک چالان کر لینے کے بعد وہ ٹرانسپورٹروں کو مزید کیا کہہ سکتی ہے؟ مجبوری کا استحصال مگر یوں کہ کرائے میں بھی دو سے تین گنا تک اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ستم یہ کہ اس حیوانیت میں گر کر جانے سے بھی کچھ بے چارے رہ جاتے ہیں اور کچھ مثلاً عید کی شام یا اگلے دن گھر پہنچتے ہیں۔ حالیہ چھٹی پر ایک بار پھر یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ آدمی سوچتاہے ، کیا حکومت ان مواقع پر نگرانی نہیں کر سکتی۔ وہ خصوصی ٹرینیں نہیں چلا سکتی۔ کیا اس کے لیے بھی کسی بیرونی امداد کی ضرورت ہے یا یہ کرنے سے بھی جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہے؟ طریقہ تو یہ تھا کہ بڑے شہروں سے دور علاقوں میں بھی کما کھانے کی کچھ ہی سہی سہولیات پہنچا دی جاتیں تو بڑے شہروں پر آبادی کا ایسا دباؤ نہ بڑھتا کہ یہاں بے تحاشا وسائل خرچ کرنے پڑتے۔ یہ نہیں تو کم از کم مزدو ر کر دئیے گئے ان انسانوں کو جانوروں سے کچھ ہی سہی، بہتر حالت میں سفر ہی کی سہولت دے دی جائے۔ بھیڑ بکریوں کی زندگی جیتے ان جان داروں کو بھی کسی سطح کے انسان سمجھ لیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں