110

بھلے لوگوں کی صفات

 بھلے لوگوں کی صفات

مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ فیصل بن جمیل الغزاوی

جمعۃ المبارک 4 ربیع الثانی 1439 ہ بمطابق 22 دسمبر 2017

 ترجمہ محمد عاطف الیاس

پہلا خطبہ

اللہ رب العالمین کے لیے بے انتہا، پاکیزہ  اور  بابرکت تعریف ہے۔ بالکل ویسی تعریف جیسی ہمارے رب کو پسند ہے اور جس سے وہ راضی ہوتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ دنیا وآخرت میں ساری تعریف اسی کے لیے ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ دین رحمت اور ہدایت کے ساتھ مبعوث کیے گئے تھے۔ اللہ کی رحمتیں برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر پاکیزہ اور نیک اہل بیت پر، آپ ﷺ کی بیویوں امہات المومنین پر، تمام صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

بعدازاں! اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! اور جب تک تم اللہ کے پاس نہیں پہنچتے اس وقت تک اللہ کے دین پر قائم رہو۔ فرمانِ الہی ہے:

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (آل عمران)

اے مسلمان بھائیو!

بھلا ہونا، اہل ایمان کی صفت ہے، جس سے ان کی بھلائی، اچھے اوصاف  اور بہترین اخلاق ظاہر ہوتے ہیں۔ ہم میں سے ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسے بھلا کہا جائے اور برائی سے متصف ہونے کو ہر کوئی نا پسند کرتا ہے، بلکہ ہر کوئی یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ برے لوگوں سے دور رہے اور بھلے لوگوں کے قریب رہے۔ اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اچھے لوگ کون ہیں اور ان کی صفات کیا ہیں؟ انہیں ممتاز کرنے والی چیز کون سی ہے اور وہ کس طرح رہتے ہیں؟

اللہ کے بندو!

میں آپ کے سامنے چند آیات اور چند احادیث رکھتا ہوں جن میں ان سوالوں کا جواب مل جائے گا۔

امام احمد کی کتاب مسند الامام احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت منقول ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے! مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے۔ وہ بھلی چیز کھاتی ہے اور اچھی چیز ہی پیدا کرتی ہے۔ جہاں بھی جاتی ہے، نہ کوئی چیز توڑتی ہے اور نہ کوئی چیز خراب کرتی ہے۔

اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے اس مومن کی مثال بتائی ہے کہ جس کے اندر تمام بھلی صفات پائی جاتی ہیں اور جو ظاہری طور پر اسلام کے اخلاق اپنائے ہوئے ہے۔ بتایا کہ مومن شہد کی مکھی جیسا ہے جو اللہ تعالی کے حکم سے مختلف پھلوں سے کھاتی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’ہر طرح کے پھلوں کا رس چوسو۔‘‘ (النحل)

وہ جو چیز بھی بناتی ہے، بہت خوب بناتی ہے۔ اس کے جسم سے کوئی ناپاک چیز نہیں نکلتی۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اِس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے۔‘‘ (النحل)

مومن بھی ایسا ہی ہوتا ہے، بھلے کام کرنے والا، اچھے اخلاق والا اور نیکی میں سبقت لے جانے والا۔

اے مسلم معاشرے کے لوگو!

بھلا مسلمان وہ ہوتا ہے جو خود پاکیزہ ہوتا ہے اور جسے اللہ تعالی کی طرف سے پاکیزگی عطا کی گئی ہوتی ہے۔ وہ ہر برائی، کمی، گناہ اور  جہالت  سے پاکیزہ رہنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ اسی طرح وہ علم و حیا اپناتا ہے اور اچھے اخلاق پر قائم رہتا ہے۔ وہ اپنے نفس کی اصلاح، بہتری اور پاکیزگی میں لگا رہتا ہے۔ اس طرح اس کا دل اللہ تعالیٰ کی پہچان سے، اسکی زبان اللہ کے ذکر اور حمد و ثنا کے بیان سے اور اس کے اعضاء اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری سے بھلے ہو جاتے ہیں۔

امام احمد اور دیگر علمائے حدیث روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا: ایک روز عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے حضور حاضر ہونے کے لیے اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا:

اسے اجازت دے دو! پاکیزہ اور پاکیزہ کیے جانے والے کو خوش آمدید! یعنی جو خود پاکیزہ ہے اور جسے اللہ تعالی نے پاکیزگی عطا فرمائی ہے۔

اے مسلمانو!

مسلمان ہر معاملے میں بھلا ہوتا ہے، اپنے معاملات میں اور اپنے لین دین میں، اپنے آنے جانے میں اور اٹھنے بیٹھنے میں، وہ اپنی زندگی میں بھی بھلا ہوتا ہے اور اپنی موت کے بعد بھی بھلا ہوتا ہے۔ اگر مسلمان کی روح کے متعلق بات کی جائے تو مسلمان کی روح بھی بہت بھلی ہوتی ہے۔

عبداللہ بن خبیب اپنے والد اور وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہم ایک جگہ بیٹھے تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے۔ آپ ﷺ کا سر مبارک گیلا تھا۔ ہم نے آپ ﷺ کو دیکھا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں آج بہت اچھے اور پاک لگ رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جی میں ٹھیک ہوں! الحمد للہ!

 پھر لوگ بات چیت میں مصروف ہوگئے اور مالداری کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مالداری کا پرھیزگار کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا، مگر اس کے لیے صحت مال سے زیادہ بہتر ہے۔ اچھا نفس مل جانا بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

جی ہاں! اللہ کے بندو! نفس کی پاکیزگی بہت بڑی نعمت ہے۔

امام بخاری نے اپنی کتاب میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جب تم سو جاتے ہو تو شیطان آپ کے سرہانے 3 گرہیں باندھ دیتا ہے۔ ہر گرہ کو وہ تھاپتا رہتا ہے کہ ابھی رات بہت لمبی ہے، ابھی سوتا رہ۔ جب تم آنکھ کھول کے اٹھ جاتے ہو تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وضوء کرتے ہو تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اورجب نماز ادا کرتے ہو تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ پھر تم بڑے توانا اور پاکیزہ نفس کے ساتھ اٹھتے ہو۔ اگر تم یہ تینوں کام نہ کرو تو تم سستی کے بھرے اور انتہائی برا نفس لے کر اٹھتے ہو۔

امام ابن حجر رحمہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کی نماز میں نفس کی پاکیزگی کا سامان ہوتا ہے۔

امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں:

بوجھل اور سستی سے بھرا نفس اسی کا ہوتا ہے جو نماز ضائع کرتا ہے یا اس کے وقت سویا رہتا ہے۔ فرض نماز کے لئے یا رات میں نفل کی ادائیگی کے لیے اٹھنا جس شخص کا معمول ہو، پھر کسی دن اس کی آنکھ نہ کھلے اور وہ سویا رہ جائے تو احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ اسے اس کی نماز کا اجر بھی مل جاتا ہے اور نیند اللہ کی طرف سے اس کے لئے ایک تحفہ بن جاتی ہے۔

میرے بھائیو!

مومن کلمہ طیبہ کو بھی دہراتا رہتا ہے، وہ اپنی زندگی میں اور موت کے وقت اسے بار بار زبان پر لاتا رہتا ہے۔ کلمہ طیبہ کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت، جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ اِن سے سبق لیں۔‘‘ (ابراہیم: 24۔ 25)

کلمہ طیبہ سے مراد لاالہ الاللہ ہے۔ تو اے مسلمان! اس کلمہ طیبہ سے خوش ہو جا! اسے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا لے اور اسے ہمیشہ یاد رکھ۔ کیونکہ جس کی زندگی کے آخری الفاظ لا الہ اللہ ہوں وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ تو موت تک اللہ تبارک وتعالیٰ سے ثابت قدمی کا سوال کرتا رہ۔

فرمان الٰہی ہے:

’’ان کو پاکیزہ بات قبول کرنے کی ہدایت بخشی گئی اور انہیں قابل تعریف الہ کا راستہ دکھایا گیا۔‘‘ (الحج: 24)

یعنی اللہ تعالی نے اہل ایمان کو بھلے بول سکھائے ہیں، سب سے اچھا بول الہ الاللہ ہے۔ اور اس کے بعد سب سے افضل الفاظ وہ الفاظ ہیں جن میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے اور جن میں اللہ کے بندوں کے ساتھ نرمی ہوتی ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:

’’اُس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ صرف پاکیزہ قول ہے، اور عمل صالح اس کو اوپر چڑھاتا ہے۔‘‘ (فاطر: 10)

اس آیت میں پاکیزہ بول سے مراد تلاوت، تسبیح، حمدوثنا اور ہر وہ پاکیزہ قول جو انسان اپنے منہ سے نکلتا ہے۔ یہ سب بول اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور وہ ذکر کرنے والے کے حق میں گواہی دیتے ہیں۔

اہل ایمان ایک دوسرے کو سلام کرنے میں بھی پہل کرتے ہیں کیونکہ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے عطا کردہ بہترین طریقہ ملاقات ہے اور اسے اللہ تبارک وتعالیٰ نے پاکیزہ بھی کہا ہے۔ کیونکہ یہ اس کلام کا حصہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں بڑا محبوب ہے، اس سے انسانوں میں خوشی اور محبت اور مودت عام ہوتی ہے۔

اللہ کے بندو!

بھلے مرد اور بھلی عورتیں ایک دوسرے کا خیال کرتے ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں جوان ہی جیسے کام کرتے ہیں۔ فرمان الہی ہے:

’’پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔‘‘ (النور: 26)

تو بھلے مرد اور بھلی عورتیں، بھلے الفاظ اور بھلے کام، سب ایک دوسرے کے لئے مناسب ہوتے ہیں اور ہم آہنگ ہوتے ہیں۔

بھلے بول بھی افضل اور بہترین بول ہوتے ہیں۔ تو نبی ﷺ کی وصیت پر عمل کیجئے۔ فرمان نبوی ہے:

لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور بھلا بول بولو۔ اسے امام طبرانی نے حضرت علی رضی اللہ تعالئ عنہ سے روایت کیا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی بشارت بھی یاد رکھیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

جنت میں کچھ ایسے گھر ہیں کہ جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے۔ یہ سن کر ایک اعرابی اٹھا اور اس نے سوال کیا، اے اللہ کے رسول! یہ گھر کس کے ہونگے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے لیے جو بھلا بول بولے، لوگوں کو کھانا کھلاتا رہے، کثرت سے روزے رکھتا رہے اور رات میں جب لوگ سو رہے ہو تو وہ قیام کرتا رہے۔ اسے امام ترمذی نے سیدنا علی رضی اللہ ہو تعالئ عنہ سے روایت کیا ہے۔

مومن اس چیز کا بھی خاص خیال کرتا ہے کہ اس کی کمائی پاکیزہ اور بھلی ہو۔

امام مسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ ہو تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اے لوگو! اللہ بڑا پاکیزہ ہے اور وہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو بھی وہی حکم دیا ہے جو اس نے رسولوں کو دیا ہے۔ فرمایا:

’’اے پیغمبرو، کھاؤ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح، تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خوب جانتا۔‘‘ (المومنون :51)

اسی طرح فرمایا:

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم حقیقت میں اللہ کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں اُنہیں بے تکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔‘‘ (البقرہ: 172)

پھر آپ ﷺ نے اس شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کر رہا ہے، جس کے کپڑے بھی گرد آلود ہیں اور جس کے بال بھی بکھر چکے ہیں، جو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہا ہے کہ اے میرے رب! اے میرے رب! مگر اس کا کھانا بھی حرام میں سے ہے اور اس کا پینا بھی حرام میں سے ہے اور اس کا لباس بھی حرام میں سے ہے اور وہ پلا بڑھا بھی حرام مال سے ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: بھلا ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہو؟

امام قرطبی علی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

اللہ تعالی نے انبیاء کو اور مومنین کو برابر مخاطب کرتے ہوئے حلال کھانے کا اور حرام سے بچنے کا حکم دیا اور پھر آیت کے آخر میں سب کو یہ کہتے ہوئے خبردار کیا کہ میں آپ کے کاموں کو خوب جانتا ہوں!

اللہ کے رسولوں پر رحمتیں اور سلامتی ہو، اگر ان کے ساتھ یہ معاملہ ہے تو پھر ہمارا معاملہ کیسا ہوگا!

اہل ایمان کوشش کرتے ہیں کہ ان کا صدقہ بھی نیک اور بھلی کمائی میں سے ہو۔ فرمانِ الہی ہے:

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اُس سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے، تو تم ہرگز اُسے لینا گوارا نہ کرو گے الّا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ تمہیں جان لینا چاہیے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے۔‘‘ (البقرہ : 267)

اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ صدقہ دیتے وقت بھلی کمائی میں سے دیں اور ناجائز کمائی سے صدقہ نہ دیا جائے بلکہ نیک کمائی سے صدقہ دیا جائے تو وہ بہت بھلا ہے چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ ہو تعالئ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اللہ تعالی پاکیزہ مال ہی قبول کرتا ہے، تو جو اپنے پاکیزہ مال سے صدقہ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے، چاہے وہ صدقہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، وہ اللہ تعالی کے ہاتھ میں یوں بڑھتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے جانور یا پودے کو پالتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی کھجور ایک پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

اے میرے بھائیو!

مومن کی بھلائی کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں سے ملتا جلتا ہے اور ان کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، ایسا کرنا بھی نیکی ہے اور ایسا کرنے والا ایک بھلے کام میں مصروف رہتا ہے۔

امام ترمذی کی کتاب میں آنے والی حدیث میں آتا ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی تیمارداری کے لیے جاتا ہے، اسے اللہ کی طرف سے پکارنے والا پکارتا ہے: کہ جا! تیرا بھلا ہو اور تیرا راستہ بھی آسان ہو اور تجھے جنت میں اچھا مقام نصیب ہو!

امام طیبی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے حوالے سے فرماتے ہیں:

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے تیمارداری کرنے والے کی دنیا کی اور آخرت کی بھلائی کیلئے دعا کرتے ہیں۔

میرے بھائیو!

لوگوں کے دلوں میں خوشی پیدا کرنا بھی بھلے لوگوں کی علامت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے جو لوگوں کے حقوق مکمل حد سے زیادہ ادا کر دیتے ہیں، فرمایا:

اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں جو حق ادا کر دیتے ہیں اور دوسروں کے دل میں خوشی ڈالتے ہیں، اسے امام طبرانی نے سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

دل کی طرف جانے والا مختصر ترین راستہ بھلے بول کا راستہ ہے۔ فرمان نبوی ہے:

آگ سے بچنے کی کوشش کرو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے سے، اور جو یہ بھی نہ کرسکے وہ بھلے بول ہی کے ذریعے آگ سے بچنے کی کوشش کرے۔ اسے امام بخاری نے عادی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اللہ کے بندو! مومن اپنے لباس میں اور اپنی ظاہری شکل و صورت میں بھی بھلا ہوتا ہے۔ وہ سفید کپڑے پہنتا ہے۔ فرمان نبوی ہے:

سفید کپڑے پہنا کرو اور مردہ لوگوں کو سفید رنگ کا کفن پہنایا کرو، کیونکہ سفید رنگ کے کپڑے پاکیزہ اور بہتر ہوتے ہیں۔

اسے امام نسائی نے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ ہو تعالئ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اس حدیث میں آپ ﷺ نے سفید رنگ کو بھلا اس لئے کہا کیونکہ ان سے تواضع اور نرمی نظر آتی ہے، تکبر اور خود پسندی سے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔

چونکہ سفید لباس میں بہت بھلائی ہے تو اسے بڑے بڑے اجتماعات میں پہننا سنت ہے، جیسے جمعہ کے وقت، یا مسجد میں جاتے وقت۔ اسی طرح میت کو سفید رنگ کا کفن پہنانا بھی سنت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اور میت کو سفید رنگ کا کفن بنایا کرو۔

مومن اپنے جسم کی پاکیزگی کا خاص اہتمام کرتا ہے۔ وہ اپنے منہ کے اندرونی حصے کو بھی مسواک سے صاف اور پاکیزہ کرتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے:

مسواک کرنے سے منہ بھی پاک ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی راضی ہو جا تا ہے۔ اسے امام نسائی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ ہو تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔

منہ کو اس لئے بھی پاکیزہ کرنا ضروری ہے کہ یہ ذکر اور مناجات کی جگہ ہے۔ مسلمان نبی ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے اپنے جسم پر خوشبو بھی لگاتے ہیں۔

انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ آپ صلی علیہ وسلم ایک خاص سکے سے خوشبو لگایا کرتے تھے۔

سکے سے مراد مختلف خوشبوؤں سے جمع کی گئی کی خوشبو بھی ہوسکتی ہے اور ایک خاص برتن بھی ہو سکتا ہے جس سے آپ ﷺ خوشبو لگایا کرتے تھے۔

اے میرے بھائیو! اس طرح اللہ تعالی نے بڑے لوگوں کو پاکیزہ کیا ہے، انہیں اچھائی اور بھلائی نصیب فرمائی ہے۔

میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ ہم سب کو بھلے نفس والا بنائے اور ہماری زندگی کو بھی بھلا بنا دے!

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اپنے لئے اور آپ کے لیے اللہ سے معافی مانگتا ہوں!

دوسرا خطبہ:

تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے جس نے اپنی اتباع کرنے والوں اور خوشنودی کے متلاشیوں کی زندگی بہت بھلی بنا دی ہے۔ اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو اللہ کے بندے اور چنیدہ رسول پر، امام المتقین پر، اور مخلوق میں بہترین ہستی پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر آپ صلی اللہ وعلی وسلم کی آل پر اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام پر۔

بعدازاں!

مومن اپنی زندگی بڑی خوشی اور ثابت قدمی سے جیتا ہے، کیونکہ اس کا دل اطمینان سے اور نفس سکون اور سینہ ٹھنڈک سے بھرا ہوتا ہے۔ وہ بہترین اور بھلی زندگی گزارتا ہے۔ اہل ایمان کے ساتھ اللہ تعالی کا یہی وعدہ ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشر طیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔‘‘ (النحل: 97)

نیک زندگی گزارنے کے بعد اللہ تعالی اہل ایمان کو بھلی موت نصیب فرما تا ہے اور انہیں پاکیزہ موت نصیب فرما تا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’ اُن متقیوں کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں جب ملائکہ قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں “سلام ہو تم پر، جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ (النحل: 32)

یعنی فرشتے انہیں کہتے ہیں کہ تم شرک سے پاکیزہ ہو کر آئے ہو، تمہارے کام اور تمہارے بول بہت اچھے ہیں۔ چناچہ انہیں بہت بھلی موت نصیب ہوتی ہے اور روح بڑی آسانی سے نکل جاتی ہے، انہیں روح نکلنے کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی، موت کی شدت انہیں تنگ نہیں کرتی اور وہ عذاب قبر سے محفوظ رہتے ہیں۔ انہیں فرشتے خوش آمدید کہتے ہیں اور کہتے ہیں: تم پر سلامتی ہو، تاکہ ان کے دل مطمئن ہو جائیں۔ پھر انہیں بشارت دیتے ہیں کہ داخل ہو جاؤ جنت میں اپنے اعمال کی وجہ سے۔

مومن پاکیزہ روح کو موت کے وقت بشارت دی جاتی ہے، وہ بڑی آسانی سے نکل جاتی ہے اور اسے پکارا جاتا ہے۔

امام ابن ماجہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ ہو تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

میت کے پاس فرشتے آتے ہیں، اگر وہ نیک ہو تو فرشتے کہتے ہیں: اے پاکیزہ روح! جو پاکیزہ جسم میں ہے! آسانی سے نکل جا اور سکون و چین سے خوش ہو جا اور جان لے کہ تیرا رب تجھ سے ناراض نہیں ہے، جب تک وہ مکمل طور پر نکل نہیں جاتی اس وقت فرشتے یہی کہتے رہتے ہیں۔ پھر اس روح کو آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے، اوپر لے جانے کی اجازت مانگی جاتی ہے تو پوچھا جاتا ہے یہ کون ہے؟ طب بتایا جاتا ہے کہ یہ فلان ہے! استر فرشتے کہتے ہیں پاکیزہ جسم سے آنے والی پاکیزہ روح کو خوش آمدید، آگے چلی جا اور بہترین جائے مقام سے خوش ہو جا اور جان لے کے تیرا رب تجھ سے ناراض نہیں ہے۔ جب تک وہ روح اس آسمان تک نہیں پہنچ جاتی جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ ہے تب تک اسے یہی کہا جاتا رہتا ہے۔

مومن کو کتنی بھلی موت ملتی ہے اور کتنا بہترین پھل ملتا ہے! ہم اللہ تعالی کے فضل وکرم کا سوال کرتے ہیں۔

قیامت کے دن جنت کے دروازوں میں سے بھلے لوگوں کو پکارا جائے گا اور کہا جائے گا:

’’سلام ہو تم پر، بہت اچھے رہے، داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ کے لیے۔‘‘ (الزمر: 73)

پھر انہیں جنت میں وہ نعمتیں ملیں گی جو کبھی ختم نہ ہوں گی۔ فرمان الہی ہے:

’’پھر جن لوگوں نے دعوت حق کو مانا اور نیک عمل کیے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لیے اچھا انجام ہے۔‘‘ (الرعد: 29)

اس آیت سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں جنت میں طوبا نام کا ایک درخت نصیب ہوگا اور یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ انہیں جنت میں بہت بھلی چیزیں ملیں گی، جیسے ہمیشہ کی زندگی، لازوال عزت اور فقر و فاقہ سے پاک بے نیازی۔

اللہ اکبر! رب کعبہ کی قسم! یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں اور ان کے پاس اللہ تعالی کی بے انتہا نعمتیں ہوں گی۔ فرمان الہی ہے:

’’ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ان سدا بہار باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوگی یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (التوبہ : 72)

اس آیت پر غور کیجیے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو بہت بھلی جگہ عطا فرمانے والا ہے۔ جو دیکھنے میں بھی بھلی ہیں اور ان میں رہنا بھی بھلا ہے اور ان کی زندگی بھی بہت بھلی ہے۔ اس میں بہترین زندگی کی ساری چیزیں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ اس سے بہتر زندگی کی تمنا کوئی کر ہی نہیں سکتا۔

اے میرے بھائیو!

جنت میں پاکیزہ اور نیک لوگوں کے ساتھ ان کا امام اور سردار، اشرف المخلوقات، خاتم الانبیاء ﷺ بھی ہوں گے۔ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان! جب آپ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے آکر آپ ﷺ کو بوسہ دیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! زندگی میں بھی آپ بھلے تھے اور موت کے بعد بھی آپ بہت بھلے ہیں۔ اس رب کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اللہ تعالی آپ کو دہری موت کبھی نہ دے گا۔ اسے امام بخاری نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب انہوں نے آپ ﷺ کو غسل دیا تو وہ آپ کے جسم سے وہ چیز نکالنے کی کوشش کرنے لگے جو میت کے جسم سے نکالی جاتی ہے مگر آپ ﷺ کا جسم انتہائی پاکیزہ تھا۔ اس پر سید علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا: آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور موت کے بعد بھی انتہائی پاکیزہ ہیں۔ اسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

یہ تھے ابو القاسم، ابو عبداللہ، بھلے اور پاکیزہ، جن کا نفس، زبان، افعال، اخلاق سب بھلے تھے۔ جو بہترین زندگی گزارنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپکی زندگی اتنی بھلی تھی کہ انبیاء کے سوا کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہو سکتی۔

تو نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرو، ان کی راہ پر چلو، ان کی شریعت پر عمل کرو۔ پاکیزہ زندگی گزارو تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔

اللہ کے حکم کو بجالاتے ہوئے نبی کریم ﷺ پر درود و سلام بھیجو اور خاص طور پر جمعہ کے دن کثرت سے درود و سلام بھیجا کرو۔ فرمان الہی ہے:

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ (الاحزاب: 56)

اے اللہ محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح رحمت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمت فرمائی تھی یقینا تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ اے اللہ محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح برکت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکت فرمائی تھی یقینا تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔

اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما اے اللہ کفر اور کافرین کو رسوا فرما اے اللہ اپنے دین کتاب سنت رسول ﷺ اور اپنے نیک اور مومن بندوں کی مدد اور نصرت فرما

اے اللہ ہر جگہ ہمارے مسلمان بھائیوں کی مدد فرما اے اللہ تو ان کا معاون اور مددگار بن جا ان کا محافظ اور تائید کرنے والا بن جا۔

اے اللہ ہمیں ہمارے ملکوں اور شہروں میں امن نصیب فرما ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما ہمارے حکمران کو اپنے سے ڈرنے والا اور پرہیز گار بنا اسے اپنے دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما اے پروردگار عالم! ہمارے حکمران کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے اور اسے نیکی اور بھلائی کی طرف لے جائے۔

اے اللہ ہمارے کمزور اور مجاہد بھائیوں کی مدد فرما جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں، اے اللہ ان کے دلوں کو مضبوط بنا ان کو ثابت قدمی نصیب فرما ان کے دشمن کو رسوائی اور شکست سے دوچار فرما

اے اللہ مسجد اقصیٰ کو ظالموں کے ظلم سے محفوظ فرما اور اسے آزادی نصیب فرما

االلہ جو اسلام اور مسلمانو اور ان کے دین اور ان کی مقدسات کے بارے میں برا ارادہ رکھے طور سے اس کی چال میں ہی ہلاک فرما اور اے عزت اور طاقت والے! اس کے اوپر اپنا عذاب نازل فرما!

اے اللہ ہر جگہ ہمارے کمزور بھائیوں کی مدد فرما فلسطین شام عراق یمن برما اور ہر جگہ پر ان کی مدد فرما اے اللہ ان کی احوال درست فرما ان کے دشمن کو ہے طاقت اور عزت والے ہلاک فرما۔

اے اللہ ہم تم سے بھلائی کا سوال کرتے ہیں برائی سے دور رہنا مانگتے ہیں اے اللہ ہم تجھ سے نیک اور بھلی اور پاکیزہ زندگی مانگتے ہیں اے اللہ ہم کھلے اور چھپے فتنوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں

وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

Hits: 6

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “بھلے لوگوں کی صفات

اپنا تبصرہ بھیجیں