39

علم اور استاد کی فضیلت

علم اور استاد کی فضیلت

مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد معیقلی حفظہ اللہ

جمعۃ المبارک 23 محرم الحرام 1439ھ بمطابق 14 اکتوبر 2017ء

ترجمہ: محمد عاطف الیاس                                نظر ثانی: عبد القیوم عبد الستار

 فضیلۃ الشیخ ماہر معیقلی حفظہ اللہ  نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس کا عنوان تھا: ’’علم اور استاد کی فضیلت‘‘ جس میں آپ نے علم کی فضیلت کے متعلق بات کی اور بتایا کہ علم کو لوگوں میں پھیلانا چاہیے۔ پھر آپ نے استاد اور تربیت دینے والے کے بلند مرتبے کی طرف اشارہ کیا اور معاشرے کی اصلاح میں استاد کے کردار پر گفتگو کی۔

پہلا خطبہ

الحمد للہ!  تعریف اللہ ہی کے لیے ہے کہ جس نے قلم کے ذریعے سکھایا ہے اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ  کو ناخواندہ لوگوں میں مبعوث فرمایا۔فرمانِ الٰہی ہے:’’جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ [آل عمران: 164] اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

بعدازاں! اے مؤمن معاشرے کے لوگو!

اللہ سے یوں ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ دین کی مضبوط رسی کو تھامے رکھو۔فرمانِ الٰہی ہے:’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ [آل عمران: 102]۔

اے امت اسلام!

اللہ تعالیٰ نے علم اور اہل علم کا مقام بہت بلند فرمایا ہے۔ ان کے مرتبے اور ان کی قدر کو بڑھایا ہے۔ عزیز ترین عزت والے الٰہ کا فرمان ہے: ’’تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے، اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے‘‘ [المجادلہ: 11]۔

اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرمایا ہے کہ اہل علم اور جاہل لوگ کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ فرمایا:’’اِن سے پوچھو، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں۔‘‘ [الزمر: 9]

اسلام کے آنے سے پہلے عرب ایک گمنام امت تھے کہ جن کا دنیا میں کوئی کردار نہ تھا، جن کا کوئی ہدف یا زندگی کا مقصد نہیں تھا۔ وہ جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے، ان میں خرافات رائج تھے اور ان عصبیت اور قبائلی تعصب ان کی وحدت کو پاش پاش کیے جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت، فضل، کرم نوازی اور کمال احسان فرماتے ہوئے اپنے پیارے اور چنیدہ رسول کو مبعوث فرما دیے، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف اور دنیا کی تنگی سے آخرت کی کشادگی طرف نکال لیا۔

نبی کریم ﷺ نے بھلے اخلاق کی تکمیل فرمائی۔ آپ بہترین معلم اور ساتھ ہی ساتھ مربی، پاکیزہ کرنے والے اور رہنمائی فرمانے والے تھے، کیونکہ اگر علم کو تربیت اور پاکیزگی سے علیحدہ کر دیا جائے تو وہ لوگوں کے لیے دنیا وآخرت میں وبال بن جاتا ہے۔’’درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر  مبعوث کیا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ [آل عمران: 164]

نبی ﷺ تعلیم اور تربیت دینے میں انتہا درجہ نرم اور رحم دل تھے۔ آپ آسانیاں پیدا کرنے والے اور بشارتیں دینے والے تھے۔

صحیح مسلم میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا کہ: ’’اے نبیؐ، اپنی بیویوں سے کہو، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ اور دار آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے۔‘‘ [الأحزاب: 28 ، 29]  تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ ﷞ سے آغاز کیا اور انہیں ان دو چیزوں میں ایک چیز اختیار کرنے کا کہا۔ تو سیدہ ﷞ نے فرمایا: بلکہ میں اللہ، اس کے رسول اور آخرت کی زندگی کو اختیار کرتی ہوں اور میں آپ سے یہ بھی درخواست کرتی ہوں کہ آپ جو بات مجھ سے پوچھی ہے وہ اپنی کسی دوسری بیوی سے نہ پوچھیے گا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو بیوی بھی مجھ سے مانگے گی میں اس کو یہی کہوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ڈھٹائی کرنے والا اور دوسروں پر حملہ کرنے والا نہیں بنایا بلکہ مجھے معلم اور آسانیاں پیدا کرنے والا بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔‘‘

معاویہ بن حکم ﷜ نماز سکھانے میں نبی ﷺ کا طریقہ نقل فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے نماز کے دوران گفتگو کر لی تھی، فرماتے ہیں: ’’میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان! میں نے ان سے اچھا استاد کبھی نہیں دیکھا۔ خدا کی قسم! انہوں نے نہ میرے ساتھ سختی کی، نہ مجھے مارا، نہ مجھے برا بھلا کہا۔ بس انہوں نے اتنا ہی کہا: ’’یہ جو ہماری نماز ہے، اس میں لوگوں کےساتھ بات کرنا درست نہیں ہے۔ اس میں صرف تسبیح اور تکبیر کی جاتی ہے اور قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے۔‘‘‘‘ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا: ’’اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔‘‘ [الأنبياء: 107].

نبی کریم ﷺ تعلیم وتربیت میں نرمی، آسانی اختیار کرتے تھے اور علم سیکھنے والوں کے ساتھ محبت کرتے تھے۔

سنن ابو داؤد میں صحیح سند کے ساتھ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل ﷜ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ’’معاذ! اللہ کی قسم! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ کسی نماز کے بعد یہ کہنا کبھی نہ بھولنا: اے اللہ! ذکر، شکر اور اچھی عبادت میں میرا ساتھ دے۔‘‘

تعلیمی ماحول جتنا پر امن ہو گا اتنا ہی طالب بے خوفی اور بغیر جھجک کے کھل کر ان چیزوں کے متعلق بات کر سکے گا جو اسے سمجھ نہیں آئیں یا جن کا اسے علم نہیں ہے۔

“مسند احمد” میں ہے: ایک سُلَیم نامی شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! معاذ بن جبل ﷜ ہمارے پاس اس وقت آتے ہیں جب ہم دن بھر کے کام سے تھک کر سو چکے ہوتے ہیں۔ وہ آکر نماز کے لیے بلاتے ہیں تو ہم نکل آتے ہیں اور پھر وہ لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’معاذ! فتنے باز نہ بنو! یا تو میرے ساتھ نماز پڑھو، یا پھر اپنی قوم کو مختصر نماز پڑھاؤ۔‘‘

پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سلیم! تجھے کتنا قرآن آتا؟‘‘ اس نے کہا: اللہ مجھے جنت دے اور جہنم سے بچائے! بخدا مجھے آپ کی طرح آواز کو خوبصورت بنانا تو نہیں آتا نہ ہی معاذ ہی کی طرح پڑھنا آتا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہم بھی تو قرآن کریم کی تلاوت کر کے اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال ہی کرتے ہیں اور جہنم سے پناہ ہی مانگتے ہیں۔‘‘

اے خواتین وحضرات اساتذہ! ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ استاد کا اپنے شاگردوں پر بہت بڑا اثر ہوتا ہے اور استاد جتنا نبی کریم ﷺ کا پیروکار اور اچھا نمونہ ہو گا اتنا ہی شاگردوں پر اثر بھی زیادہ ہو گا۔

صحیح مسلم میں آتا ہے کہ ’’جو دین اسلام میں کوئی نیکی رائج کرتا ہے تو اسے اپنی نیکی کا ثواب بھی ملتا ہے اور قیامت تک ایسی نیکی کرنے والوں کا ثواب بھی ملتا ہے، اور نیکی کرنے والوں کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں ہوتی۔‘‘

اے خواتین وحضرات اساتذہ!

نبی کریم ﷺ سے بلند مرتبہ تو کسی کا نہیں ہو سکتا۔ آپ ﷺ اولادِ آدم کے سردار ہیں، پروردگار عالم کے خلیل ہیں، سب سے پہلے قابل قبول سفارشی ہیں، جن کے لیے جنت کے دروازے سب سے پہلے کھولے جائیں گے، وہی حوض کوثر والے ہیں اور قابل تعریف مقام والے۔ لیکن اس سب کے باوجود آپ ﷺ سے بڑھ کر کوئی تواضع والا بھی نہیں ہے۔

سیدنا انس ﷜ صحابہ کرام کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ان کے نزدیک رسول اللہ ﷺ سے زیادہ محبوب اور کوئی نہ تھا۔ مگر جب آپ ﷺ آتے تو وہ کھڑے نہ ہوتے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کام آپ ﷺ کو ناپسند ہے۔‘‘

صحیح مسلم میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جو اللہ کےلیے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ اس کا مرتبہ بڑھا دیتا ہے۔‘‘

نبی کریم ﷺ کے طریقے میں بات چیت، سوال اور بھلے طریقے سے بحث مباحثہ بھی شامل تھا۔

سنن ترمذی میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’کیا آپ کو معلوم ہے کہ مفلس کون ہے؟‘‘ صحابہ کرام نے عرض کی: ہمارے یہاں تو مفلس وہ ہوتا ہے کہ جس کے پاس نہ مال ہو اور نہ ساز وسامان۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میری امت کا مفلس وہ ہے کہ قیامت کے دن بہت سی نمازیں، روزے اور صدقات کر کے آتا ہے، اور ساتھی ہی کسی کو برا بھلا کہہ کر، کسی کی عزت پر حملہ کر کے، کسی کا مال کھا کر، کسی کا خون بہا کر، کسی کو مار کر آتا ہے۔ یہ بھی اس کی نیکیوں کا ایک حصہ لے لیتا ہے اور وہ بھی اس کی نیکیوں کا ایک حصہ لے لیتا ہے۔ جب اس کی نیکیاں ختم ہو جاتی ہیں اور لوگوں کے حقوق ادا نہیں ہوئے ہوتے تو اصحاب حق کے گناہ لے کر اس سے پر ڈال دیے جاتے ہیں اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جاتا ہے۔‘‘

اے مؤمنو! کامیاب استاد وہ ہے جو شاگردوں کے ساتھ تعامل کرتے وقت ان کے احوال کو مد نظر رکھے۔

نبی ﷺ بھی اپنے صحابہ کے احوال کی خیال کرتے تھے۔ ہر شخص کو وہ نصیحت کرتے تھے جو اس کے لیے مناسب ہوتی۔ کسی کو تقویٰ کی نصیحت کرتے، کسی کی بھلے اخلاق اپنانے کی تلقین فرماتے، کسی کو غصہ نہ کرنے کی اور کسی کو بڑے ہی احسن انداز میں یہ نصیحت فرماتے ہیں کہ دو بندوں کا امیر بھی نہ بننا۔ اور کسی کو فرماتے ہیں: ’’اپنے زبان کو ذکر الٰہی سے تر رکھو!‘‘

صحیح مسلم میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا: ’’تم جہنم کے ایک اولے کو لے کر اپنے ہاتھ میں پہن لیتے ہو؟!‘‘ جب آپ ﷺ تشریف لے گئے تو لوگوں اس شخص سے کہا: اپنی انگوٹھی اٹھا لو، اس سے کچھ اور فائدہ حاصل کر لینا۔ اس نے کہا: نہیں! خدا کی قسم! میں اسے نہ اٹھاؤں گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے پھینک دیا تھأ۔

میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان! وہ لوگوں کے ساتھ ویسا معاملہ فرماتے تھے جو ان کے لیے مناسب ہوتا، شخصی اختلافات کو مد نظر رکھتے۔ سمجھ دار اور دانشمند مربی وہ ہوتا ہے جو تعلیم وتربیت میں حالات وواقعات سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ کسی موقع کا فائدہ اٹھانا یا کسی عارضی ماحول سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کے دلوں میں اتر جانا اچھے مربی کا خاصا ہے۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم سیدنا عمر فاروق ﷜ کی حدیث آتی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس چند قیدیوں کو لایا گیا۔ قیدیوں میں ایک عورت بھی تھی جو کسی کو تلاش کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ اسے ایک بچا ملا۔ اس نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور پھر اسے دودھ پلایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’آپ کیا سمجھتے ہو؟ کیا یہ عورت اپنے اس بچے کو آگ میں پھینک سکتی ہے؟‘‘ ہم نے کہا: نہیں! خدا کی قسم! اگر وہ اسے آگ سے بچا سکتی ہو تو ضرور بچائے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ اپنے بندوں پر اس عورت سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

اے تربیت دینے والے خواتین وحضرات!

غلطیوں کو درست کرنے میں نبی کریم ﷺ کا ایک منفرد طریقہ تھا۔ وہ غلطی کی جگہ کی تعیین فرماتے‎، لوگوں کی عزت کا خیال رکھتے۔ کسی کو بدنام نہ کرتے اور کسی کے ساتھ سختی بھی نہ فرماتے۔ فرماتے: ’’کچھ لوگ فلاں اور فلاں کام کیوں کرتے ہیں۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے کبھی کسی کو نہ مارا تھا۔ ہاں! جب جہاد کرتے تو پھر خوب قتال فرماتے ۔ اپنی ذات کےلیے آپ ﷺ نے کسی سے کبھی بدلہ نہیں لیا۔ ہاں! جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی تو اللہ کے لیے بدلہ لیتے۔

کامیاب معلم وہ ہے جو تمام تر توانائیاں تعلیم میں خرچ کرتا ہے۔ جو اپنے شاگردوں کو بوجھ اٹھانے اور ذمہ داریاں پوری کرنا سکھاتا ہے، انہیں دکھ بانٹنا اور مدد کرنا سکھاتا ہے، تعمیر وترقی کی راہ دکھاتا ہے۔ جو اپنے شاگردوں کو اپنے ملک کا ایک نیک حصہ بناتا ہے، کیونکہ معاشرے کا کوئی بھی فرد بے قیمت نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ ضعیف اور مسکین بھی امت کی نصرت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

صحیح بخاری میں آتا ہے کہ سعد ﷜ نے یہ اظہار کیا کہ انہیں مقام ومرتبہ کے لحاظ سے، دلیری اور امیری میں کسی شخص پر فوقیت حاصل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہیں رزق اور نصرت تمہارے ضعیفوں ہی کی وجہ سے ملتی ہے۔‘‘

اے امت اسلام!

تعلیم وتربیت سب کی ذمہ داری ہے۔ فرمانِ نبوی ہے:’’سنو! تم سب ذمہ دار ہو اور سب سے ذمہ داری کی بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘

ہم نے نبی کریم ﷺ کے شاندار تعلیمی اصولوں میں محض چند ایک کا ذکر کیا ہے ورنہ سنت نبوی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تعلیم وتربیت کے عظیم مقصد کے لیے ہر سستی اور مہنگی چیز قربانی کی ہے اور یوں ایک منفرد اور بے مثال نسل تیار کر کے دکھائی ہے۔ ’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ [آل عمران: 110]

اللہ کے بندو! آج ہمیں رسول اللہ ﷺ کے میراث نبوت سے استفادہ کرنے کی کتنی ضرورت ہے! اولاد کی تربیت کرتے وقت ہمیں طریقہ نبوی پر چلنا چاہیے، وہی وہ پہلے معلم ہیں کہ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ دلوں کو زندگی بخشی، عقلوں کو منور فرمایا اور لوگوں اندھیروں سے اجالوں کی طرف نکالا۔ یہ ہیں اللہ کے رسول! وہ معلم کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور ارحم الراحمین سے ملاقات کے شوقینوں کے لیے بہترین نمونہ بنا کر مبعوث فرمایا۔

میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں: ’’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے‘‘ [الأحزاب: 21]۔

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کریم میں برکت عطا فرمائے۔ آیات اور ذکر حکیم سے نفع پہنچائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگیے۔ یقینًا وہ معاف فرمانے اور رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

الحمد للہ! ساری تعریفیں اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر، تابعین عظام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

بعدازاں! اے مؤمن معاشرے کے لوگو!

امام ترمذی نے اپنی کتاب میں صحیح سند کے ساتھ سیدنا امامہ باہلی ﷜ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ کے ہاں دو لوگوں کا ذکر کیا گیا۔ ایک عبادت گزار تھا او ردوسرا عالم۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’عالم عبادت گزار سے اتنا افضل ہے جتنا میں آپ میں ادنیٰ ترین شخص سے افضل ہوں‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ، اللہ کے فرشتے، زمین اور آسمان والے، حتیٰ کہ چیونٹی اپنے بل میں اور مچھلی تک لوگوں کو بھلائی سکھانے والوں کے لیے بھلی دعا کرتے ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ وہ  فرشتوں میں اپنے بندے کا ذکر فرماتا ہے۔

اے قابل قدر استاد!

آپ کا جو بھی تخصص ہو، چاہے آپ شرعی علوم کے استاد ہوں یا سائنسی علوم کے، آپ بڑے ہی نیکی میں مصروف ہیں، کیونکہ آپ حق کی طرف لوگوں کی رہنمائی کر کے نبی کریم ﷺ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔  آپ کا پیشہ عظیم ترین پیشہ ہے اور آپ کا اجر عظیم ترین اجر ہے۔

آپ کو اجر عظیم کی مبارک ہو، اور فرشتوں کے یہاں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی بھی مبارک ہو۔ جو شخص بھی انسانیت کو نفع پہنچانے والا علم سکھاتا ہے تو وہ لوگوں بھلائی ہی سکھا رہا ہوتا ہے اور دین اسلام نے بھی ہر طرح کا علم سیکھنے اور سکھانے کا حکم دیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ بھی ہر علم کو اس کے ماہر لوگوں کی طرف منسوب کرتے تھے۔

سنن ابن ماجہ میں صحیح سند کے ساتھ روایت ہے کہ انس بن مالک ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میری امت میں سب سے زیادہ 

رحمدل ابو بکر ہے، دین میں سب سے مضبوط عمر ہے، سب سے زیاہ حیا والا عثمان ہے، سب سے اچھا قاضی علی بن بی طالب ہے، کتاب اللہ کا سب سے اچھا قاری ابی بن کعب ہے، حلال اور حرام کو سب سے بہتر جاننے والا معاذ بن جبل ہے اور وراثت کے احکام کو سب سے بہتر جاننے والا زید بن ثابت ہے۔ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔‘‘

اے خواتین وحضرات اساتذہ! آپ کی ذمہ داری بڑی عظیم ہے اور آپ کے سر پر بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔ تو آپ ہدایت کے علم بردار بنو تاکہ آپ کے شاگرد راہ ہدایت پہچان سکیں۔ ان کے دلوں میں دین، ملک، ولی امر اور علماء کی محبت ڈالیے۔ انتہا پسندی، غلو، حد سے زیادہ نرمی اور ناسمجھی کے راستے میں ایک مضبوط رکاوٹ بن جاؤ۔’’اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک “امت وسط” بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔‘‘ [البقرة: 143]

اے امت اسلام!

معلم کی عزت سے بھی شاگردوں  پر بڑا مثبت اثر پڑتا ہے۔ بچوں کو استادوں کی عزت کرنا سکھانا چاہیے۔ ادب علم کی کنجی ہے اور زیادہ تعلیم کی نسبت ادب کی زیادہ ضرورت ہے۔

سلف صالحین بھی اسی راہ پر چلتے رہے ہیں۔

یہ ہیں ابن عباس ﷠ جو اپنے استاد زید بن ثابت کی اونٹنی کی لگام پڑ کر چلتے اور کہتے: ’’ہمیں اپنے علما اور بڑوں کی اسی طرح عزت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘

امام ابو حنیفہ ﷫ فرماتے ہیں: ’’میں نے اپنے استاد حماد ﷫ کے گھر کی طرف بھی کبھی پاؤں نہیں کیے اور جب سے وہ فوت ہوئے ہیں، میں نے ہر نماز میں اپنے والدین کے ساتھ ان کے لیے دعا ضرور کی ہے۔‘‘

امام شافعی ﷫ فرماتے ہیں: ’’میں امام مالک کے پاس ورقہ بھی نرمی سے پلٹتا تھا کہ کہیں انہیں اس کی آواز سے اذیت نہ پہنچے۔‘‘

امام احمد ﷫ امام شافعی ﷫کے شاگر تھے۔ ان کے متعلق ان کا بیٹا عبد اللہ بیان کرتا ہے: میں نے اپنے والد سے کہا: یہ شافعی کون تھا؟ میں نے آپ کو اس کے لیے بڑی دعا کرتے ہوئے سنا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’اے میرے بیٹے! شافعی دنیا کے لیے سورج کی مانند تھے، لوگوں کے لیے عافیت کی طرح تھے۔ 

ذرا سوچو! ان دونوں چیزوں کا کوئی نعم البدل ہے یا کوئی چیز ان نعمتوں کی جگہ لے سکتی ہے؟

سچ کہا عربی شاعر نے:

معلم اور طبیب دونوں

 

اس وقت تک مدد نہیں کرتے جب تک ان کی عزت نہ کی جائے۔

تو اگر طبیب کی گستاخی کی ہے تو اپنی بیماری پر صبر کرو،

 

اور اگر استاد کی گستاخی کی ہے تو اپنی جہالت پر صبر کرو۔

اے مؤمن معاشرے کے لوگو! خوب جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک بڑا ہی عمدہ حکم دیا ہے جس میں اس سب سے پہلے اپنا ذکر فرمایا ہے، فرمایا: ’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ [الأحزاب: 56]

اے اللہ! محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینًا تو بڑا قابل تعریف اور بڑرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینًا تو بڑا قابل تعریف اور بڑرگی والا ہے۔

اے اللہ! راضی ہو جا، چاروں خلفائے راشدین سے، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی اور دیگر صحابۂ کرام اور تابعین اور قیامت تک ان کے پیروکاروں سے۔ اپنی رحمت، کرم نوازی اور احسان سے ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔ تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکوں کو رسوا فرما! دین کی حدود کی حفاظت فرما! اس ملک کو اور تمام مسلمان ممالک کو امن، سکون اور چین نصیب فرما!

اے اللہ! سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما!

اے اللہ! پریشان مسلمانوں کی پریشانی دور فرما! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبت دور فرما! قرض دار مسلمانوں کے قرض ادا فرما! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما!

اے اللہ! خادم حرمین کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت پر جزائے خیر عطا فرما! اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جس سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔

اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! ہمارے ملک کی سرحدوں پر تعینات جوانوں کی مدد فرما! ان کی حفاظت فرما! ان کا مدد گار اور نصرت کرنے والا بن جا!

اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! ہمارا ہر گناہ معاف فرما! ہمارا ہر بیمار تندرست فرما! ہمارے ہر مصیبت زدہ کو عافیت نصیب فرما! ہمارے ہر گمراہ کو راستہ دکھا۔ ہمارے ہر میت پر رحم فرما!

اے اللہ! زندہ اور مردہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں، مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں  کو معاف فرما!

اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! تمام اساتذہ کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ انہیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرما! انہیں تعلیم، تربیت، نصیحت اور رہنمائی پر اجر عظیم عطا فرما!

’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر۔ اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے‘‘ (صافات: 180-182)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں