32

رشتوں سے بچاؤ کی ٹیکنالوجی

رشتوں سے بچاؤ کی ٹیکنالوجی

محمد عاصم حفیظ

ہمیں اپنی معاشرتی روایات اور رشتے ناتوں سے محروم کرنے کے لیے کیا کیا جتن کئے جا رہے ہیں، اس کی حالیہ مثال عالمی میڈیا پر ایک پاکستانی لڑکی کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو گیم کی پذیرائی ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ گرافک ڈیزائنر نشراح امریکہ میں زیر تعلیم ہے۔ اس نے ایک ایسی ویڈیو گیم بنائی گئی ہے جس میں لڑکیوں کو شادی کے رشتے لانے والی خواتین سے بچنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس گیم کامرکزی کردار ایک لڑکی ہے جو مختلف طریقوں سے شادی کے رشتے لانے والوں سے بچتی ہے۔ گیم بنانے کا مقصد میڈیا کو بتاتے ہوئے نشراح کا کہنا تھا کہ وہ اس کے ذریعے پاکستانی لڑکیوں کو ” باشعور” بنانا چاہتی ہیں تاکہ وہ ارینج میرج کے ” عذاب” سے بچ سکیں۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ یہ ویڈیو گیم ذاتی تجربات کی بنیاد پر بنائی ہے۔

 پاکستانی معاشرے میں جوان ہوتی لڑکیوں کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ مختلف تقریبات میں اور قریبی رشتہ دار ان کی شادی کے لیے رشتے لاتے ہیں۔ ان رشتہ لانے والوں سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نشراح کو ارینج میرج یعنی گھر والوں کی مرضی سے ہونے والی شادی سے شدید نفرت ہے اور وہ صرف اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے یہ ویڈیو گیم بھی اسی مقصد کے لیے بنائی ہے کہ ارینج میرج کے خطرے سے دوچار لڑکیاں رشتوں سے بچنے کی پریکٹس کریں اور صرف محبت کی شادی ہی کریں۔

بی بی سی اور دیگر عالمی نشریاتی اداروں نے اس پاکستانی لڑکی کی ویڈیو گیم کو خصوصی کوریج دی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس کا چرچا ہے۔ یہ ویڈیو گیم کتنی لڑکیوں کو ارینج میرج سے بچا کر محبت کی شادیاں کرانے میں کامیاب ہوتی ہے؟ اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس سے ایک خاص سوچ کی عکاسی ضرور ہوتی ہے کہ ہمارے معاشرے کو کن خطرات کا سامنا ہے۔

بعض عناصر ہماری نوجوان نسل اور خصوصاً لڑکیوں کو بڑوں کی مرضی سے ہونے والی شادی سے بغاوت کا درس دینا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے میڈیا کے ساتھ ساتھ دیگر ذرائع کو بھی استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ اس طرح کی وڈیو گیمز متعارف کرائی جا رہی ہیں، جنہیں کسی بھی عمر کے بچے اور نوجوان کھیل سکتے ہیں۔ اس طرح کھیل ہی کھیل میں ان کی ذہنی تربیت کی جا رہی ہے۔ اس ویڈیو گیم میں ٹاسک کچھ اس طرح کے ہی ہوں گے۔ یعنی کوئی خالہ، پھپھو یا کوئی رشتہ دار خاتون گھر میں رشتہ لیکر آئے تو اس سے کس طرح بچنا ہے۔ مختلف طریقوں سے اس رشتے کو مسترد کرنا ہے۔

آپ تصوّر کریں کہ جب کوئی لڑکی اس گیم کی عادی ہو اور اسے وہ سارے داؤ پیج بھی آتے ہوں جن سے کسی اپنے کو کیسے دھوکہ دینا ہے حتیٰ کہ اپنے والدین کو بھی۔ کیا اس کے حقیقی زندگی پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے؟ مغربی دنیا کارٹونز اور ویڈیو گیمز میں دہشت گرد کو داڑھی اور پگڑی یا ٹوپی کے ساتھ پیش کرکے ہمارے بچوں کی ذہن سازی کر رہی ہے جبکہ ارینج میرج سے بچاؤ کی ایسی ویڈیو گیمز کے ذریعے اب رشتوں کے تقدّس اور فیملی سسٹم کو یکسر تباہ کرنے کی تیاریاں ہیں۔ دوسری جانب مغربی میڈیا کی جانب سے اس قسم کی ویڈیو گیمز کی تشہیر سے بھی بہت سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔

ہمارا مذہب شادی بیاہ کے معاملے پر سختی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا، مانا کہ معاشرے میں کچھ ناخوشگوار واقعات بھی ہوجاتے ہیں جن کی تعداد بہت کم ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دن رات محنت مشقت کرکے پالنے والے اور حفاظت کرکے وسائل فراہم کرنے والے والدین اگر اپنے بچوں کے لیے خوب دیکھ بھال کے کوئی رشتہ تلاش کرتے ہیں تو یقیناً یہ سب قابل قدر ہے نا کہ جدت اور نام نہاد آزادی کے نام پر اس کو مذاق بنا دیا جائے۔ ہر رشتہ بُرا ہی نہیں ہوتا اور نہ ہی محبت کی شادی کرنیوالا ہر جوڑا سکھ پاتا ہے۔ والدین اور رشتہ داروں کی محبت ٹھکرا کرجذباتی فیصلے بعض اوقات زندگی بھر کا روگ بھی بن جا تے ہیں۔ رشتوں سے بچنے کی نہیں بلکہ فیملی سسٹم کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ انسان مشین نہیں احساسات بھرے جسم کا نام ہے۔ جسے زندگی میں کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی موڑ پر رشتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں