41

صحابہ کرام اور اُمّہات المومنین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبّت اور اُن کا دِفاع ضروری کیوں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عرضِ مُترجم

الحمد لله وكفىٰ وسلامٌ على عباده الذين اصطفىٰ، أمابعد:

صحابہ کرام وصحابیات رضی اللہ عنہم وہ نفوس قدسیاں ہیں جنہیں رسول اکرمﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے،یہی اس امّت کے رعیل اوّل ہیں،یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اکرمﷺ سے ڈائرکٹ خالص کتاب وسنّت کی تعلیم حاصل کی اور دنیا کے سامنے اسے صاف شفا ف آئنہ کی طرح پیش کیا جو ہرطرح کی رطب ویابس سے پاک وصاف ہے۔اوراس  دین کی نشرواشاعت اور اس کی حفاظت  کےسلسلے میں انہوں نے   ہرطرح کی جانی ومالی قربانیاں پیش کیں ،اور آپ ﷺ کا دشمنان اسلام سے مکمل طور پر دفاع کیا،اوررضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کے لقب سے سرفراز کئے گئے،اورتمام کے تمام ثقاہت وعدالت جیسے وصف سے متصف ہوئے، اوران سے محبت کرنا اور ان کی طرف سے دفاع کرنا ایمان  کا جزء وحصہ قرار پایا،لیکن افسوس! کہ بہت سارے کلمہ گو حضرات صحابہ وصحابیات کی قدرومنزلت   سے ناواقف ہیں،اور انہیں سب وشتم،اور طعن وتشنیع  کا نشانہ بناتے ہیں ۔بنابریں ضرور ی سمجھا گیا کہ اس سلسلے میں ایسا کتابچہ پیش کیا جائے جس میں ان کے مقام ومرتبہ اور قدرومنزلت کو اجاگرکیا گیا ہو،ان کے حقوق وواجبات کو بیان کیا گیا ہو،اور ان کے خلاف باطل شبہات وغلط پروپیگنڈوں کا علمی ومُسکت جواب دیا گیا ہو۔

 زیر نظر عربی رسالہ( الصَّحابة وأمّهاتُ المؤمنين لِمَ نُحبّهم ونُدافع عَنْهُم؟)’’ صحابہ کرام اور اُمّہات المومنین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبّت اور اُن کا دِفاع ضروری کیوں؟‘‘ شیخ علی  بن عبد اللہ بن محمّد العمّاری۔حفظہ اللہ۔ کی عمدہ  پیشکش ہے جس میں صحابہ کرام وصحابیات رضی اللہ عنہم اجمعین کا مختصرتعارف اور ان کے مناقب وفضائل کوبیان کیا گیاہے، نیز ان کے حقوق کا تذکرہ کرکے ،ان سے محبّت رکھنے اور ان کی طرف سے دفاع  کرنےکو جزء ِ ایمان قرار دیا گیا ہے۔

اسلام ہاؤس ڈاٹ کام کے شعبہ ٔ ترجمہ وتالیف   نے افادۂ عام کی خاطراسےاردو قالب میں ڈھالاہے،حتیٰ الامکان ترجمہ کو درست ومعیاری بنانے کی کوشش کی گئی ہے،اور مؤلّف کے مقصود کا خاص خیال رکھا گیا ہے،اور آسان عام فہم زبان اور شُستہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے تاکہ عام قارئین کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہو،مگرکمال صرف اللہ عزوجل کی ذات کا خاصہ ہے، لہذا کسی مقام پر  اگر کوئی سقم نظر آئے تو ازراہ ِکرم خاکسار کو مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ اس کی اصلاح کی جاسکے۔

ربّ کریم سے دعا ہے کہ اس کتاب  کو لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے،اس کے نفع کو عام کرے،والدین اور جملہ اساتذۂ کرام  کے لئے مغفر ت وسامانِ آخرت بنائے،اورکتاب کے مولّف،مترجم،مراجع،ناشر،اور تمام معاونین کی خدمات کو قبول کرکے ان سب کے حق میں صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔

وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم

.  (طالبِ دُعا:abufaisalzia@yahoo.com)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی نبیّنا وقدوتنا محمد بن عبد اللہ  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلّم،أمابعد:

ہر قسم کی تعریف صرف اللہ کے لئے ہے،اور درود وسلام کے نذرانے ہوں ہمارے نبی وقائد محمد بن عبد اللہ ﷺ ،ان کے خاندان اور ان کے اصحاب پر۔

حمد وصلاۃ کے بعد:

سوال: بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم صحابہ کرام اور امّہات المومنین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت اوران کا دفاع کیوں کرتے ہیں؟

جواب دینے سے پہلے ہم صحابی کی تعریف بتا دینا مناسب سمجھتے ہیں:

صحابی کی تعریف: صحابی وہ  شخص ہے جس نے رسولﷺ کی زندگی میں آپﷺ سے حالتِ اسلام میں مُلاقات کی ہو اور پھر  اسلام کی حالت میں ہی وفات پایا ہو۔(دیکھیے:الإصابۃ في تمییز الصحابۃ لابن حجر،۱؍۸)

اُمّہات المومنین سے مُراد: رسول اکرمﷺ کی بیویاں ہیں،جن کو اللہ رب العالمین نے امہات المومنین سے متّصف کیا ہے ،جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ۗ﴾[الأحزاب:6]

’’پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیاده حق رکھنے والے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں‘‘ [سورہ احزاب:۶]

امّہات المومنین(ازواجِ مطہّرات) کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:

۱۔خدیجہ بنت خویلد ۲۔سودۃ بنت زمعہ۳۔عائشہ بنت ابی بکر الصدیق التیمیہ۴۔حفصہ بنت عمرالخطاب العدویہ۵۔زینب بنت خزیمہ الہلالیہ۶۔اُم سلمہ(ہند بنت ابی امیہ بن مغیرہ المخزومیہ)۷۔زینب بنت جحش الأسدیہ۸۔جویریہ بنت الحارث الخزاعیہ۹۔ریحانہ بنت زید بن  عمروالقرظیہ ۱۰۔اُمّ حبیبہ(رملہ بنت ابی سفیان الأمویہ) ۱۱۔صفیّہ بنت حي بن اخطب النضیریہ۱۲۔ میمونہ بنت الحارث بن حزن الہلالیہ۔

ان میں رسول اکرمﷺنے (۹) بیویوں کو زندہ چھوڑ کروفات پائی،اور وہ یہ ہیں:

(سودہ، عائشہ، حفصہ، اُم سلمہ،اُم حبیبہ، زینب بنت جحش،جویریہ، صفیّہ، میمونہ) رضی اللہ عنہن اجمعین۔

اب ہم حُبّ ِ صحابہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ رب العالمین نے قرآن کریم میں متعدّد جگہوں پر نبیﷺ کے صحابہ کرام کی  مدح وثنا کی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾[الأنفال:62-63]

’’اسی نے اپنی مدد سے اور مومنوں سے تیری تائید کی ہے،ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے تو اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتا ہے تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتا۔ یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے وه غالب حکمتوں والاہے‘‘۔ [سورہ انفال:۶۲۔۶۳]

﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّـهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾[الأنفال:64]

’’اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو جو تیری پیروی کر رہے ہیں ‘‘[سورہ انفال:۶۲۔۶۳]

﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَـٰئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ﴾[الأنفال:72]

’’جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راه میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے ان کو پناه دی اور مدد کی، یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں‘‘[سورہ انفال:۷۲]

 ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّـهِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ﴾[التوبة:20-22]

’’جو لوگ ایمان لائے، اورہجرت کی، اور اللہ کی راه میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا وه اللہ کے ہاں بہت بڑے مرتبہ والے ہیں، اور یہی لوگ مراد پانے والے ہیں انہیں ان کا رب خوشخبری دیتا ہے اپنی رحمت کی اور رضامندی کی اور جنتوں کی، ان کے لئے وہاں دوامی نعمت ہے وہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اللہ کے پاس یقیناً بہت بڑے ثواب ہیں ‘‘[سورہ توبہ:۲۰۔۲۲]

﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾[التوبة:100]

’’اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے‘‘[سورہ توبہ:۱۰۰]

﴿لَّقَدْ رَضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا﴾[ الفتح:18]

’’ یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی ‘‘[سورہ فتح:۱۸]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’پس اللہ کی طرف سے رضا قدیم صفت ہے، اوراللہ صرف ایسے بندے سے راضی ہوتا ہے جس کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ رضا کے آداب پورا ادا کرے گا،اور جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگیا اس سے کبھی ناراض نہیں ہوتا‘‘۔(دیکھیے: الصارم المسلول علی شاتم الرسول،ص:۵۷۲)۔

اور اللہ تعالیٰ نے  ارشادفرمایا:

﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا﴾[الفتح:29]

’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اﺛر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے، مثل اسی کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وه موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑےثواب کا وعده کیا ہے ‘‘[سورہ فتح:۲۹]

اورفرمایا:﴿لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَـٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾[الحديد:10]

’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وه (دوسروں کے) برابر نہیں، بلکہ ان سے بہت بڑے درجے کے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے۔ ہاں بھلائی کا وعده تو اللہ تعالیٰ کاان سب سے ہے جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے ‘‘[سورہ حدید:۱۰]

﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ﴾[الحشر:8]

’’)فیء کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وه اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز لوگ ہیں ‘‘[سورہ حشر:۸]

﴿يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّـهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ ۖ نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾[التحريم:8]

’’جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور ایمان والوں کو جو ان کے ساتھ ہیں رسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا۔ یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمیں کامل نور عطا فرما اور ہمیں بخش دے یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے‘‘[سورہ تحریم:۸]

سُنّت سے (صحابٔہ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام ومرتبہ):

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:

 (لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ).

’’میرے صحابہ کو بُرا مت کہو،میرے صحابہ کو بُرامت کہو، قسم ہے اس  ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جا ن ہے اگر تم میں سے کوئی شخص اُحد  پہاڑ کے برابر سونا( اللہ کی راہ میں) خرچ کرے، تو وہ اُن کے مُد(سیربھر) یا آدھے مُد کے برابر بھی نہیں ہوسکتا‘‘۔(اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے)۔

اور صحیحین (بخاری ومسلم) میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

(خَیرُ النّاسِ قَرْنی،ثُمّ الذِینْ  یَلونَھم، ثُم الذین  یلونَھم)

’’بہترین لوگ میرے زمانے والے ہیں،پھراس کے بعد کے زمانے والے، پھر اس کے بعد کے زمانے والے‘‘۔

اور ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا:

(النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتْ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ )

’’ستارے آسمان کے محافظ(بچاؤ) ہیں،جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پربھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آجائے گی(یعنی قیامت آجائے گی اور آسمان بھی پھٹ کرخراب ہوجائے گا) ،اور میں اپنے اصحاب کا محافظ (بچاؤ) ہوں،جب میں چلاجاؤں گا تو میرے اصحاب پربھی وہ وقت آجائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں)،اور میرے اصحاب میری امّت کے محافظ(بچاؤ) ہیں،جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امّت پر وہ وقت آجائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی اختلاف وانتشار وغیرہ)‘‘۔(اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے)۔

عبد اللہ بن مغفل مزنی سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:(اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي ، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي ، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ ، فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي ، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ عزّوجلّ ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ)

’’میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! میرے بعد ان کو(طعن وتشنیع کا )نشانہ نہ بنانا(یاد رکھو) جس نے ان سے محبّت کی،پس میری محبّت کی وجہ سےاُس نے اُن سے محبّت کی۔جس نے اُن سے بغض رکھا پس میرے بغض کی وجہ سے اُن سے بُغض رکھا، اور جس نے اُن کو اذیّت دی پس اُس نے مجھے اذیّت دی ،جس نے مجھے اذیّت دی اس نے اللہ کو اذیّت دی،اورجس نے اللہ کواذیّت دی پس قریب ہے کہ وہ اس کو اپنی گرفت میں لے لے‘‘(اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے)۔

اور نبیﷺ نے فرمایا:

(لَا تَسُبّوا أصْحَابي فَمَنْ سَبَّهُم فعَلَيْهِ لَعنةُ اللهِ والملائكةِ والنّاسِ أجمَعين، لَا يَقبل اللهُ مِنه صَرْفاً ولا عَدْلاً)

’’میرے صحابہ کو گالی مت دو،جس نے انہیں گالی دی اس پر اللہ کی،فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہو، اللہ ایسے شخص سے نہ تو فرض قبول کرے گا نہ تو نفل‘‘[اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے)([1])

اور صحیحین (بخاری ومسلم) میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے انصار صحابہ کرام کے بارے میں فرمایا:

(لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ ،وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ ،وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ)

’’انصار سے صرف مومن ہی محبّت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا،پس جو شخص ان سے محبّت کرے گا اس سے اللہ محبّت کرے گا اور جوان سے بغض رکھے گا اللہ اس سے بغض رکھے گا‘‘۔

اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

(إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ ،فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَاصْطَفَاهُ  لنفسه، فابتعثَهُ بِرِسَالَتِهِ ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ قُلُوبِ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءُ نَبِيِّهِ يُقَاتِلُونَ عَلى دِينِهِ ،فما رأى المسلمونَ حسناً فهو عند الله حسنٌ ، وما رأوا سيئاً فهو عِندَ الله سَيّء).

’’اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں میں دیکھا تو ان میں محمد(ﷺ) کے دل کو سب سے بہترپایا،اس لیے انہیں اپنے لیے چُن لیا اور انہیں منصبِ رسالت سے سرفراز کیا، اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں دیکھا تو صحابہ کرام(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے دلوں کو سب سے بہتر پایا،اس لیےانہیں نبی کا وزیر بنادیا،جواُس کے دین کی خاطر جنگ کرتے ہیں،تو یہ مسلمان[یعنی صحابہ کرام] جس چیزکو اچھا سمجھیں وہ اچھی ہے اور جس چیز کو برا سمجھیں وہ بری ہے‘‘۔(مسند احمدح:۳۴۶۸)۔

اور عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

(مَنْ كَانَ مُسْتَنًّا فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ ، أُولَئِكَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا خَيْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ ، أَبَّرَهَا قُلُوبًا ،وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا ، وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا ، قَوْمٌ اخْتَارَهُمُ اللَّهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَقْلِ دِينِهِ ، فَتَشَبَّهُوا بِأَخْلاقِهِمْ وَطَرَائِقِهِمْ فَهُمْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانُوا عَلَى الْهُدَى الْمُسْتَقِيمِ …الخ)

’’جو شخص راہ اختیار کرنا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ اُن کی راہ پر چلے جو فوت ہوچکے،وہ اصحاب محمد ہیں جو اس امّت کے بہترین لوگ تھے،جو دل کے کھرے،علم کے گہرے،تکلّف سے پاک،وہ قوم جس کو اللہ نے اپنے نبی کی صحبت اوردین کو منتقل کرنے کے لئے انتخاب کیا،لہذاتم ان کے اخلاق اور طریقوں کی پیروی کرو،پس وہ اصحابِ محمدﷺ ہیں جوراہِ مستقیم پر گامزن تھے…الخ ‘‘۔(اسی طرح ابونعیم ؒ نے اپنی کتاب “الحلیۃ: ۱؍۳۰۵،۳۰۶ “میں ذکرکیا ہے)۔

عقیدہ طحاویہ۲؍۶۸۹،میں قاضی ابن ابی عزالدمشقیؒ صحابہ کرام کے بارے میں فرماتے ہیں :

(وَنُحبُّ أصحابَ رسولِ الله ولَا نُفرِّطُ في حُبّ أحدٍ مِنهُمْ، ولَا نَتبرّأ مِنْ أحد مِنهم، ونُبغض مَنْ يبغضهم، وبغير الخيرِ يذكرهُم، ولَا نَذكُرهم إلَابعَفوٍ، وحُبّهم دينٌ، وإيمانٌ، وإحسانٌ، وبُغضهم كُفرٌ،ونفاقٌ،وطغيانٌ)

 ’’ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبّت کرتے ہیں اور ان میں سے کسی کی محبّت میں غلو نہیں کرتے اور نہ ان میں سے کسی سے براءت ظاہرکرتے ہیں اور ہم ان لوگوں سے بغض رکھتے ہیں جو صحابہ سے بغض رکھتے ہیں ،اور جب بھی ہم صحابہ کا تذکرہ کرتے ہیں خیرکے ساتھ ہی کرتے ہیں ، ان سے محبت   رکھنا دین،ایمان اور احسان کی علامت ونشانی ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر،نفاق اورسرکشی ہے‘‘۔

تما م صحابہ کرام عادل وثقہ ہیں،اور ان کی عدالت کے بارے میں سوال کرنا جائز نہیں:

امام نوویؒ فرماتے ہیں:

’’صحابہ کرام سب کے سب عادل ہیں، چاہے وہ فتنہ میں مبتلاہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں،اور اس چیز پر باوثوق و معتمد علماء کا اجماع ہے‘‘۔(التقریب مع التدریب ص:۲۱۴)

ابن الصّلاح ؒ فرماتے ہیں:

’’اس بات پر اُمّت کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ کرام،اور اُن میں فتنوں میں مبتلاہونے والے عدول ہیں‘‘۔(الحدیث والمحدّثون ۱۲۹؍۱۳۰)

خطیب بغدادی ؒ نے یہ باب قائم کیا ہے:

’’جو کچھ اللہ اوراس کے رسول کی طرف سے صحابہ کرام کی تعدیل میں آیا ہے ،اُن کی (عدالت وثقاہت) کے بارے میں سوال کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے،لیکن اُن کے علاوہ (تابعین وغیرہ) میں(عدالت کا تثبّت ) واجب ہوگا‘‘۔(الکفایۃ :ص۴۶)۔

صحابہ میں سے کسی ایک کو بھی گالی دینا یا اُن کی عزّت وشان میں کمی کرنا جائز نہیں:

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے صحابہ کرام کے تئیں واجبات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:

’’اہل سنّت والجماعت کے اصولوں میں سے اصحابِ رسولﷺ کے بارے میں اپنی زبانوں اور دلوں کا محفوظ رکھنا ضروری ہے ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول میں ان کے بارے میں فرمایا ہے:

﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ﴾[الحشر:10]

’’اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال، اے ہمارے رب بے شک تو شفقت ومہربانی کرنے والاہے‘‘[سورہ حشر:۱۰]ِ(دیکھیے: شرح العقیدہ الواسطیہ ص۱۸۴)

ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’اللہ عزّوجل نے اصحابِ محمد ﷺ کے لئے بخشش کی دُعا کا حکم دیا ،جبکہ وہ جانتا ہے کہ صحابہ کرام آپس میں جنگ کریں گے‘‘(الصارم المسلول لابن تیمیہ ص۵۸۴)۔

ابن عمررضی اللہ عنہما نے فرمایا:

’’محمد(ﷺ) کے اصحاب کو گالی مت دو،کیونکہ ان میں سے کسی ایک صحابی کی گھنٹہ بھر کی عبادت تم میں سے کسی ایک کی ساری زندگی کے عمل سے بہترہے‘‘۔(اس کی سند صحیح ہے،اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ،اور ابن ابی عاصم نے اسے اپنی کتاب’’السُنّۃ‘‘میں ذکر کیا ہے)۔

اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ: لوگ اصحاب رسول ﷺ ،حتیٰ کہ ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما کے بارے میں باتیں کرتے ہیں،تو انہوں نے فرمایا:

’’اس پر کیا تعجّب کرتے ہو!؟ ان کےعمل  (کا سلسلہ) منقطع ہوگیا ہے،لہذا اللہ نے چاہا کہ ان (کے عمل کا)اجروثواب ختم نہ ہو‘‘۔(منہاج السنّہ النبویہ۲؍۲۲)

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

’’جس نے نبیﷺ کے اصحاب میں سے کسی ایک کو یا ابوبکر یا عمریا عثمان یا علی یا معاویہ یا عمروبن العاص(رضی اللہ عنہم اجمعین) کو گالی دی،پس اگراس نے کہا کہ: یہ لوگ گمراہ اور کافر تھے تواس کا کہنے والا قتل کیا جائے گا ،اور اگر اُس نے انہیں اس (کفروگمراہی) کے علاوہ لوگوں کی گالیوں کی طرح گالی دی تو سخت سزا دیا جائے گا‘‘۔ (الشفا في حقوق المصطفی قاضی عیاض ،ص۲۹۹)۔

ابوبکرمروزی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

’’میں نے ابوعبداللہ (احمد بن حنبلؒ) سے پوچھا: ابوبکر،عمراور عائشہ کو گالیاں دینے والے کے بارے میں آپ کا کیاخیال ہے؟ فرمایا: ’’میں  نہیں سمجھتا کہ وہ اسلام میں (باقی) ہے‘‘۔(السنّہ للخلّال ۳؍۴۹۳)

ابوزرعہ رازیؒ نے فرمایا:

’’جب تو کسی شخص کو اصحاب رسولﷺ میں سے کسی کی تنقیص بیان کرتا دیکھے توجان لے کہ وہ مُلحِد (بےدین)ہے‘‘(الکفایہ في علم الروایہ،ص۹۷)۔

امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا:

’’جب تم کسی آدمی کو اصحاب رسولﷺ کی بُرائی کرتا دیکھو تواسلام کے بارے میں اسے متّہم قراردو‘‘۔(شرح اصول اعتقاد اھل السنۃ والجماعۃ  للالكائي ۷؍۱۲۵۲)

صحابہ کرام کے مابین رونما ہونے والے اختلافات سے خاموشی اختیارکرنا ،صحابہ کے حقوق میں سے ہے:

اہل  سنّت والجماعت کا یہ مذہب ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے،کیونکہ (اُن میں سے) دُرستگی پرپہچنے والے کے لئے دوگُنا اجرہے،اور بطور اجتہاد غلطی ہوجانے پر ایک اجرہے۔

اے مسلمان! یا د رکھ بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ آپ سے آپ کے عمل کے بارے میں پوچھے گا:

﴿كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ﴾[المدثر:38]

’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے‘‘[سورہ مدثّر:۳۸]

اور جولوگ گزرگئے ہیں ان کے عمل کے بارے میں تم سے ہرگز نہیں سوال کیا جائے گا،اور نہ ہی تم سے پوچھا جائے گا کہ کون حق ودرستگی پرتھا اور کون غلطی پر!! جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾[البقرة:134]

’’یہ جماعت تو گزر چکی، جو انہوں نے کیا وه ان کے لئے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لئے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے‘‘۔

یہ ہیں عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ جب ان سے علی ومعاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان ہونے والی لڑائی کے بارے میں پوچھا گیا جیسا کہ علامہ قرطبیؒ کی(احکام القرآن ۱۶؍۱۲۲) میں آیا ہے تو انہوں نے فرمایا:

’’اس خون سے اللہ نے میرے ہاتھ کو پاک رکھا ہے تو کیا میں اپنی زبان کو پاک نہ رکھوں؟‘‘۔

پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’اصحاب رسول کی مثال آنکھوں کی طرح  ہے،اور آنکھوں کا علاج ان کو نہ چھونا ہے‘‘۔۱.ھ

اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا جیسا کہ (کتا ب السُنّہ للخلال ۲؍۴۶۰) میں آیا ہے:

کہ علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے باہمی اختلافات کےبارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:

’’میں اُن کے بارے میں اچھا ہی کہوں گا اللہ ان سب پر رحم فرمائے‘‘۔

اور یہ (بات) اہل سنّت کے (بعض) علماء کی طرف سے صحابہ کے مابین ہونے والے اختلافات کے بارے میں اپنی تصنیفات میں اظہار خیال کرنے اور ان کی صحیح توجیہ پیش کرنے اور ان کے تئیں کج رَو لوگوں کے شبہات کے ازالہ کرنے سے متصادم نہیں ہے۔

اُمّہات المومنین رضوان اللہ علیہن  کو گالیاں دینا یا اُن کی شان میں کمی کرنا کیسا ہے!؟

بلا شبہ نبیﷺ کی بیویوں پرلعنت کرنا،انہیں طعن وتشنیع کرنا بہت بڑی جرح ہے اور گناہ کبیرہ ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّـهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا﴾[ الأحزاب:57]

’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسوا کن عذاب ہے‘‘۔[سورہ احزاب:۵۷]

اورعائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا ہے:

(لا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ)

’’عائشہ۔ رضی اللہ عنہا ۔کے بارے میں مجھے تکلیف نہ دو‘‘(اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے)۔

اور جس نے نبیﷺ کی بیویوں کو گالیاں دیں اس کے بارے میں قاضی ابویعلیٰ کہتے ہیں:

’’جس نے عائشہ ۔رضی اللہ عنہا۔ پر اس چیز کی تہمت لگائی جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بری قراردیا ہے،تواس نے بلاخلاف کفرکیا ،اور اس بات پر کئی علماء نے اجماع نقل کیا ہے،ا ور بہت سے ائمہ کرام نے اس حکم کی وضاحت فرمائی ہے‘‘۔ (دیکھیے: الصارم المسلول علی شاتم الرسول ،ص۵۶۵،۵۶۶)

قاضی عیاض نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے ذکر کیا کہ انہوں نے فرمایا:

’’جس نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو گالی دی اسے قتل کردیا جائے،کہا گیا کیوں؟ فرمایا: جس نے ان پر تہمت لگائی اس نے قرآن کریم کی مخالفت کی‘‘۔

اور ابن شعبان نے امام مالک سے نقل کیا: یہ اس لئے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يَعِظُكُمُ اللَّـهُ أَن تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾[النور:17]

’’اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی بھی ایسا کام نہ کرنا اگر تم سچے مومن ہو‘‘[سورہ نور:۱۷]،پس جس نے ایسا کیا اس نے کفرکیا‘‘۔ا.ھ(دیکھیے: الشفا في حقوق المصطفیٰ ،ص۲۹۹)۔

یہ،اور ہر مسلمان(اس بات کو بخوبی) جان لے کہ:

صُحبت کی فضیلت اُن تمام صحابہ کرام کے لئے ثابت ہے جو اہل سنّت کے نزدیک متفقہ طور پر کئے گئے  صحابی کی تعریف کے ضمن میں داخل ہوئے۔

اور یہ بدترین جہالت میں سے ہے جسے معاصرین اہل بدعت فروغ دے رہے کہ وہ صحابہ کے مفہوم کو ایک خاص گروہ یا ٹولی کے ساتھ محصور کررہے ہیں، اور یہ صحابہ سے حسد وبغض رکھنے والے خبیث رافضہ کی کاوش ہے جو بہت سارے صحابہ کرام کو صحابی کی تعریف سے نکالنا چاہتے ہیں۔

شیخ محدث سلیمان العلوان اپنی کتاب( الاستنفار للذب عن الصحابہ الأخیار،ص۲۰) میں فرماتے ہیں:

’’بعض خواہش پرستوں کا یہ گمان ہے کہ صرف مہاجرین وانصار کے لئے ہی صحبت(صحابی ہونے کا وصف) صحیح ہوگا ،اور اس وقت ان کے بعد آنے والوں کی عدالت اسی چیز کے ذریعہ ثابت ہوگی جس سے ان کے علاوہ تابعین  وتبع تابعین کی عدالت ثابت ہوتی ہے، اور یہ (خیال) غلط ہے، کیونکہ اسے اہل سنّت میں سے کسی نے نہیں کہا ہے‘‘۔ ا.ھ۔

اسی طرح معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے اس دلیل کی بنیاد پرحسد کرنا یا انہیں ہدف تنقید بنانا کہ انہوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے جنگ کی،یا فتح مکہ کے سال اسلام لائے ،یا وہ جنگ حنین کے بعد مرتد ہوگئے درست وجائزنہیں ہے، اور نہ ہی اہل علم میں سے کسی نے یہ بات ذکر کی ہے کہ معاویہ ۔رضی اللہ عنہ۔جنگ حنین کے بعد مرتد ہوگئے تھے،کیونکہ معاویہ بن ابی سفیان ۔رضی اللہ عنہ۔کی فضیلت ،اور ان کے سچّے اسلام اور اُن کی امانت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے، اور معاویہ رضی اللہ عنہ غزوہ حُنین  میں شریک رہے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے باقی صحابہ کے ساتھ اُن کا تزکیہ فرمایا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّـهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ ۙ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ ثُمَّ أَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ﴾[التوبة:25-26]

’’یقیناً اللہ تعالیٰ نے بہت سے میدانوں میں تمہیں فتح دی ہے اور حنین کی لڑائی والے دن بھی جب کہ تمہیں اپنی کثرت پر ناز ہوگیا تھا، لیکن اس نے تمہیں کوئی فائده نہ دیا بلکہ زمین باوجود اپنی کشادگی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر مڑ گئےپھر اللہ نے اپنی طرف کی تسکین اپنے نبی پر اور مومنوں پر اتاری اور اپنے وه لشکر بھیجے جنہیں تم دیکھ نہیں رہے تھے اور کافروں کو پوری سزا دی۔ ان کفار کا یہی بدلہ تھا ‘‘۔[سورہ توبہ:۲۵۔۲۶]

اور معاویہ رضی اللہ عنہ (خوش نصیب) مومنین میں سے ایک ہیں کہ جن پر اللہ تعالیٰ نے سکینت نازل فرمائی ہے ،تو وہ سکینت الہی کے نزول کے بعد کیسے (دین سے) مرتد ہوسکتے ہیں؟۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَـٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾[الحشر:10]

’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وه (دوسروں کے) برابر نہیں، بلکہ ان سے بہت بڑے درجے کے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے۔ ہاں بھلائی کا وعده تو اللہ تعالیٰ کاان سب سے ہے جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے‘‘۔[سورہ حدید:۱۰]

اور معاویہ رضی اللہ عنہ ان (خوش نصیب) لوگوں میں سے ایک ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے جنّت کا وعدہ کیا ہے، کیونکہ انہوں نے حنین وطائف کے غزوہ میں مال خرچ کیا ہے اور ان میں لڑائی کی ہے۔

عبدالرحمن بن ابی عمیرہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:(اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ ) قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

’’اے اللہ! اسے ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعہ (لوگوں کو)ہدایت دے‘‘۔

(امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے)[ البتہ علامہ البانیؒ نے اسے مشکاۃ رقم (۶۲۳)  میں صحیح قرار دیا ہے ۔ م۔ر ]

اور کتاب (البدایہ والنہایہ لابن کثیر۸؍۱۳۴) میں آیا ہے کہ عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرّر کیا تو فرمایا:

’’معاویہ رضی اللہ عنہ کو صرف خیر سے یاد کیا کرو‘‘۔

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب جنگ صفّین سے واپس آئے تو فرمایا:

’’لوگو! معاویہ کی گورنر ی کو ناپسند مت کرو۔اگرتم نے انہیں کھو دیا تو تم دیکھو گے کہ سَر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کرگریں  گےجیسے حنظل (اندرائن ) کا پھل اپنے درخت سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتا ہے‘‘۔(دیکھئے: البدایہ والنہایہ لابن کثیر،۸؍۱۳۴)

اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا گیا ، کیا آپ جانتے ہیں کہ امیر المومنین معاویہ رضی اللہ عنہ صرف ایک ہی وتر پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ’’وہ فقیہ ہیں‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب فضائل صحابہ،باب ذکر معاویہ)۔

اور(کتاب السنۃ للخلال ۱؍۴۴۴) میں امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سے آیا ہے کہ: ’’معاویہ رضی اللہ عنہ کئی سال عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی سیرت پر عمل پیرا رہے لیکن وہ ان میں کوئی بھی عیب نہ پائے‘‘۔

ابن قدامہ المقدسی اپنی کتاب(لمعۃ الاعتقاد الہادی الی سبیل الرشاد،ص۳۳) میں کہتے ہیں کہ:

’’معاویہ ۔رضی اللہ عنہ۔ مومنوں کے ماموں،وحی الہی کے کاتب اور مسلمانوں کے خلفاء میں سے ایک خلیفہ تھے اللہ ان سب سے راضی ہو‘‘۔

محدّث شیخ سلیمان العلوان اپنی کتاب(الاستنفارللذب عن الصحابۃ الأخیار) میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں رقم طراز ہیں:

’’جوشخص اُن کے ایمان کی شہادت دینے کے بعد انہیں منافق سے متّصف کرتا ہے وہ اُن پر بہت بڑا بہتان لگاتا ہے اور  واضح گناہ کا مرتکب ہوتاہے، ایسے شخص کو توبہ کا حُکم دیا جائے گا،اگروہ توبہ کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ حاکمِ وقت پر علماء کے صحیح قول کے مطابق اس  کا قتل کرنا واجب ہے‘‘۔۱ھ.

اور ربیع بن نافع حلبی(ت ۲۴۱ھ) کہتے ہیں:

’’اصحابِ محمد ﷺ کے لئے معاویہ رضی اللہ عنہ ایک پردے کی حیثیت سے تھے ،پس جب کوئی اس پردہ کو کھول دیتا ہے تو ماورائے پردہ کے متعلق وہ جَری ہوجاتا ہے‘‘۔(دیکھیے: البدایہ والنہایہ ۸؍۱۳۹)

رسول اکرم ﷺ کے اصحاب اور آپ کی ازواج مطہرّات سے محبّت کرنے والے مسلمان  بھائی ،اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو یا د کر:

﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ﴾[الحشر:10]

’’اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال، اے ہمارے رب بیشک تو شفقت ومہربانی کرنے والا ہے‘‘[سورہ حشر:۱۰]

پس تو ایسے ہی بننے کی کوشش کراور جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رسول اکرمﷺ کی صحبت اور جنّت میں آپﷺ کی رفاقت کا شرف بخشاہے تو بھی اُن کے لئے رضی اللہ عنہم اور رحمہم اللہ  کے(دعائیہ کلمات) کہتے رہ، اور ان گمراہ لوگوں کے راستے پرچلنے سے اجتناب کر،جورب العالمین کی سیدہی راہ  اور رسول اکرمﷺ کے اسوہ حسنہ کی مخالفت کرتے ہیں۔

اے مسلمان بھائی!

اس بات کو اچھی طرح جان لے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  اور امّہات المومنین رضی اللہ عنہن آسان(دین) حنیف پر کار بند تھے،اور وہ اپنے سینوں میں صرف وفا،بھلائی اور خیرخواہی کے سوا کچھ نہیں رکھتے تھے:’’ان سے صرف مومن ہی محبّت کرتے ہیں ،اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھتے ہیں، جواُن سے محبّت کرے گا اللہ اُس سے محبّت کرے گا،اور جو اُن سے بغض رکھے گا اللہ اُس سے بغض رکھے گا‘‘( مصنّف ابن ابی شیبہ۷؍۵۴۱)۔

اور درود وسلام ہو نبی مختار پر،ان کے نیک صحابہ پر ،اُن کی ازواجِ مطہّرات پر،اور قیامت تک ان سب کی راہ پر چلنے والوں پر۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بروز جمعہ بوقت فجر

۲۱؍جمادی الاولیٰ؍۱۴۳۳ھ

علی بن عبد اللہ بن عبداللہ بن محمد العمّاری

[1]) ) ملاحظہ:(مصنف نے اس حدیث کی نسبت بخاری ومسلم کی طرف کی ہے لیکن کافی تلاش کے بعد یہ روایت  بخاری ومسلم  میں  نہ مل سکی،البتہ اس طرح کی روایت  تاریخ بغداد تحقیق بشار (۱۶؍۳۵۸:ح۷۵۰۹ میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،اسی طرح (المعجم الکبیر للطبرانی ۱۲؍۱۴۲؍ح۱۲۷۰۹) میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے جسے علامہ البانی ؒ نے شواہد کی بنیاد پر صحیح کہاہے(دیکھئے: السلسلۃ الصحیحہ ۵؍۴۴۶؍ح۲۳۴۰)،جبکہ بہت سارے علماء نے اس حدیث کی سند کی صحت کے بارے میں کلام کیا ہے، واللہ اعلم بالصواب  م۔ر)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں