50

تاریخ دعوت و عزیمت (حصہ اول)

نام کتاب—–تاریخ دعوت و عزیمت (حصہ اول)

تصنیف —–مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

طباعت—–احمد برادرز پرینٹنگ پریس کراچی

ضخامت —–436صفحات

دیباچہ طبع دوم

(صفحہ نمبر 27 تک ہے)

تاریخ دعوت و عزیمت ’’حصہ اول‘‘ کے دوسرے ایڈیشن پر ناچیز مصنف کتاب اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور میں بہ ہزار زبان ثنا خواں اور سپاس گزار ہے۔ اس حصہ کے دوسرے ایڈیشن کی نوبت کئی سال کے وقفہ کے بعد آرہی ہے لیکن اس کی وجہ کاتبوں کی نایابی طباعت کی دشواریوں اور مصنف کی بڑھتی ہوئی مصروفیت کے سوا کچھ نہیں ورنہ یہ کتاب برصغیر ہند کےعلمی و دینی حلقوں میں جس طرح مقبول ہوئی اور جس طرح اہل علم ، اور اہل قلوب نے اس پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور اس کےپہلے ایڈیشن کے ختم میں جتنا طویل عرصہ گذر چکا ہے ، اس سب کا قدرتی تقاضا تھا کہ اس وقت تک اس کے متعدد ایڈیشن نکل چکے ہوتے لیکن اردوکتابوں کی طباعت میں اب جو دشواریاں پیدا ہو گئی ہین اور جن کا اندازہ کچھ مصنفین ہی کو ہے انہوں نے اس کتاب کی اشاعت دوم میں غیر معمولی تاخیر پیدا کر دی ہے، اس کے لئے مصنف کتاب متاسف بھی ہے اور معذرت خواہ بھی۔ کتاب کے مضامین و مواد میں تعداد و عنوانات کے لحاظ سے کوئی بڑا اضافہ نہیں ہوا لیکن جو کچھ ہوا وہ وقیع اور قابل لحاظ ہے اور اس سے کتاب کی قیمت و افادیت میں ضرور اضافہ ہوتا ہے ، ان میں دو اضافے ضرور قابل ذکر ہیں ، ایک عنوان فتنہ تاتار اور اسلام کی ایک نئی آزمائش کے تحت تاتاری حملہ اور اس کے اسباب کے مضمون کا اضافہ کیا گیا ہے ، اس میں (مصنف کی معلومات کی حد تک) اس وقت کے عالم اسلام کے اخلاقی معاشرتی دینی روحانی اور سیاسی حالات کا پہلی مرتبہ جائزہ لیا گیا ہے اور اس فتنہ عالم آشوب اور طوفان بلاخیز کے باطنی اور غیبی اسباب کو قرآن مجید کی مشعل ہدایت لے کر اور الٰہی قانون مجازاۃ کی مدد سے معلوم کرنے اور ان کو واضح کر نے کی کوشش کی گئی ہے،مواد اور وقت دونوں کی کمی اور مصنف کی بعض معذوریوں کی بنا پر اس باب میں اضافہ اور ترقی کی بڑی گنجائش ہے لیکن یہ ایک ابتدائی کوشش اور ایمانی فکر و نظر کا ایک نمونہ ہے جس کو بہت آگے بڑھایا جاسکتا ہے بایں ہمہ وہ اس موجودہ حالت میں بھی عبرت و بصیرت اور درس وموعظت سے خالی نہیں ، دوسرا اضافہ مقدمہ کتاب میں “دوسرے مذاہب کی تاریخ میں تجدید ی شخصیتوں کی کمی” کے زیر عنوان کیا گیا ہے ، جس میں مسیحیت اور ہندومت کی اصلاح و تجدید کے بارے میں کچھ نئے معلومات کا اضافہ کیا گیا ہے ، ان دو اضآفوں کے علاوہ اس نئے ایڈیشن میں صرف پہلے ایڈیشن کے اغلاط کی تصحیح اور قلیل التعداد جزوی ترمیمات ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مصنف کی یہ سعی مقبول ہو، اس سلسلہ کی ترتیب میں جو مقاصد پیش نظر رہے ہیں اور جن کا تذکرہ “پیش لفظ” میں کیا گیا ہے ، ان کی تکمیل ہو۔
وماتوفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب۔
ابوالحسن علی ندوی
دائرہ شاہ علم اللہؒ رائے بریلی
3صفر المظفر 1389ھ
31 اپریل 1969 ء دوشنبہپیش لفظ
حرم ۱۳۷۲ھ میں لکھنؤ میں جماعت دعوت اصلاح و تبلیغ کی طرف سے انتظام کیا گیا کہ رفقاء کے سامنے ضروری عنوانات اور پہلوؤں پر تقریریں کی جائیں اور ان کی واقفیت اور ذہنی تربیت کا سامان بہم پہونچایا جائے۔ ان تقریروں اور مضامین کا سلسلہ ایک ہفتہ جاری رہا۔ اس تربیتی ہفتہ میں ایک طویل اور مسلسل عنوان “اصلاح و تجدید کی تاریخ اور اس کی اہم شخصیتیں” تھا۔ یہ عنوان راقم سطور کے حصہ میں آیا تھا اور تقریباً ایک ہفتہ اس موضوع پر عرض کیا جاتا رہا۔ اس وقت صرف ایک مختصر یادداشت سامنے ہوتی تھی، جس میں کچھ عنوانات اور اشارے ہوتے تھے۔ احباب اس کا خلاصہ اپنے طور پر محفوظ کر لیتے تھے۔
بعد میں اشاعت کی نیت سے جب اس پر نظر ڈالی تو محسوس ہوا کہ یہ کام بڑی توجہ اور اطمینان سے کرنے کا ہے اور یہ ایک اہم تاریخی موضوع ہے، جس پر (ہمارے محدود علم کے مطابق) کوئی مفصل اور مکمل چیز موجود نہیں۔ اور یہ تاریخ اسلام اور ادبیات اسلامیہ کا ایک بڑا خلا ہے جس کو جلد پُر ہونا چاہیے۔ اس خلا کے موجود ہونے کی وجہ سے اچھے اچھے سنجیدہ حلقوں میں یہ خیال قائم ہو چکا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ میں اصلاح و تجدید اور انقلاب حال کی کوشش مسلسل اور غیر منقطع طور پر نہیں پائی جاتی، بلکہ اس میں بڑے طویل طویل خلا ہیں، جو صدیوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ کئی کئی سو برس کے بعد کچھ شخصیتیں ابھرتی رہی ہیں جنہوں نے حالات سے کشمکش کی اور جو فکری اور عملی حیثیت سے کوئی ممتاز مقام رکھتی ہیں، ورنہ عام طور پر متوسط درجہ کے لوگ نظر آتے ہیں جو فکری اور عملیحیثیت سے عہد انحطاط کی عام سطح سے بلند نہیں تھے اور جن کے علمی و عملی کارناموں میں کوئی جدت اور ندرت نہیں پائی جاتی صرف چند گنی چنی شخصیتیں (جن کی تعداد ۷-۸ سے زیادہ نہیں سمجھی جاتی) اس کلیہ سے مستثنیٰ ہیں۔
یہ بات دیکھنے میں بڑی معمولی معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے نتائج بڑے اہم اور دور رس ہیں۔ یہ اسلام کی اندرونی طاقت و صلاحیت سے ایک طرح کی بدگمانی اور مایوسی ہے جو ہر زمانہ میں ضرورت کے آدمی اور اہلِ دعوت و عزیمت کو پیدا کرتی رہی ہے اور جس کی نظیر کسی دوسرے مذہب اور قوم میں نہیں ملتی۔ یہ ایک احساس کمتری اور ذہنی شکست خوردگی ہے جس کی کوئی علمی بنیاد نہیں۔
لیکن یہ نتیجہ بے سبب نہیں، بدقسمتی سے تاریخ اسلام کے وسیع ذخیرہ میں یاتو وہ کتابیں ملتی ہیں، جن کو واقعات کی “فہرست” کہنا صحیح ہے اور جن کی مرکزی شخصیت بادشاہوں کی ذات ہے۔ یا چند نمایاں شخصیتوں کی سوانح (تراجم و تذکرے) مگر اسلام اور مسلمانوں کی کوئی مسلسل فکری اور اصلاحی تاریخ نہیں، جن میں ان تمام شخصیتوں کی تحریکوں کا تعارف ہو، جنہوں نے عالمِ اسلام پر گہرا اثر ڈالا ہے اور اسلام کی بروقت حفاظت یا تجدید و تقویت کی خدمت انجام دی ہے۔ غلط رحجانات کی اصلاح اور فتنوں کا سدِباب کیا ہے اور اسلام کی فکری اور عملی ذخیرہ میں کوئی قابل قدر اضافہ کیا ہے درحقیقت اسلام کے سلسلہ دعوت و اصلاح میں خلا نہیں۔ تاریخ اسلام کی ترتیب و تالیف میں خلا ہے۔ اس خلا کا پُر کرنا وقت کا ایک ضروری کام اور ایک اہم دینی و علمی خدمت ہے۔
اس کام کی تکمیل سے نہ صرف اصلاح و دعوت کی تاریخ مرتب ہو جائے گی، بلکہ ضمناً مسلمانوں کی فکری و علمی انحطاط و ارتقا کی تاریخ بھی وجود میں آ جائے گی۔
لیکن جب اس موضوع پر قلم اٹھایا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک مقالہ یا رسالہ کا مضمون نہیں ہے۔ یہ ایک اہم ضخیم تصنیف کا موضوع ہے۔ اس کے لئے تاریخ کو دوبارہ پڑھنا ہو گا اور اس کو ایک خاص انداز سے مرتب کرنا ہو گا۔ اس کے لئے صرف تاریخ عام کا جائزہ لینا کافی نہ ہو گا بلکہ مذاہب و فرق، علوم و فنون کی تاریخ اور تراجم و تذکرے کی کتابوں کو اس نظر سے دیکھنا ہو گا۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ مضمون جس سکون و اطمینان اور فرصت کا طالب ہے، وہ اسپریشان اوقات کی زندگی میں بہت کمیاب ہے ،پھر بھی ضرورت کے احساس نے اس موضوع پر قلم اٹھانے پر مجبور کیا اور طبیعت کی افتاد سرسری طور پر گذرنے سے مانع پو ئی ۔
یہ بات ناظرین کرام کے پیش نظر رہے کہ اس کتاب میں ہمیں اصطلاحی تجدید سے بحث کرنا نہیں ہے ، نہ ان اشخاص کا تعین کرنا ہے جو اس منصب کے اہل ہو سکتے ہیں اور جن کی وحدت ذات نے دینی انقلاب برپا کر دیا اور تجدید کے شرائط پورے کئے ،یہاں ہمیں اسلام کی تیرہ سو برس کی تاریخ میں اصلاح و انقلاب حال کی کو ششوں کے تسلسل کو دکھانا ہے اور ممتاز شخصیتوں اور تحریکوں کی نشان دہی کرنی ہے ، جنھوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق دین کے احیاء اور تجدید اور اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے کام میں حصہ لیا ہے اور جن کی مجموعی کوششوں سے اسلام زندہ اور محفوظ شکل میں اس وقت موجود ہے اور مسلمان اس وقت ایک ممتاز امت کی حیثیت سے نظر آتے ہیں اس مضمون میں متعدد ایسے اشخاص کا تذکرہ آئے گا جو انفرادی طور پر تو مجدد نہیں کہے جا سکتے مگر دین کی تجدید و احیاء اور اصلاح و انقلاب کے مجموعہ میں ان کا ضرور حصہ ہے اور مسلمان ان کے احسان سے کبھی سبکدوش نہیں ہو سکتے ۔
اس کتاب کی تالیف کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل باتوں کا لحاظ رکھا گیا ہے :
(1) کسی دعوت یا شخصیت کے حالات و مقصد معلوم کرنے کے لئے عموماً خود اس کی تصنیفات ،تحریروں اور اقوال سے مدد لی گئی ہے ،اگر اس میں پو ری کامیابی نہیں ہوئی اور خلا رہ گیا تو اس کے رفقاء و تلامذۃ اور معاصرین کی تصنیفات و بیانات کو ترجیح دی گئی ہے آخری صورت میں بعد کے مستند ماخذوں پر اعتماد کیا گیاہے اس بارے میں کسی زبان یا زمانہ کی تخصیص نہیں جہاں کوئی کام کی بات دیکھی گئی اخذ کی گئی اور اس کا حوالہ دے دیا گیا ۔
(2) شخصیتوں کی سیرت اور تذکرہ کے سلسلہ میں ان کے گرد و پیش اس زمانہ کی علمی و فکری سطح اور کام کے میدان کی وسعتوں کو بھی سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ان شخصیتوں کی صحیح عظمت اور ان کی کامیابی کی مقدار کا تعین ہو سکے اور اس دور اور ماحول کی کامیابی کے امکانات کا صحیح اندازہ کر کے ان کو تاریخ میں صحیح مقام دیا جاسکے کسی شخصیت کو اس کے ماحول سے نکال کر اپنے ماحول میں لا کر اپنے زمانہ کے پیمانوں اور تقاضوں اور اپنےذاتی رجحانات اور خواہشات کے معیار سے جانچنا پھر اس معیار کے لحاظ سے اس کی کوتاہیوں اور فروگذاشتوں کو نمایاں کرنا ظاہری نگاہ میں ایک بڑا تنقیدی کارنامہ معلوم ہوتا ہے ، جس سے کتاب سطحی النظر لوگوں کی نگاہ میں وزنی اور وقیع بن جاتی ہے ۔ لیکن اہل نظر سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بڑی ناانصافی اور کوتاہ نظری ہے ، اس لئے کہ آدمی اپنے زمانہ کی ضرورتوں اور تقاضوں اور اس عہد کے میدان ِعمل کے حدود کے لحاظ سے کامیاب و ناکامیاب کہا جا سکتا ہے ، ورنہ ہر عظیم سے عظیم شخصیت دوسرے زمانہ اور ماحول کے لحاظ سے اور مؤرخ کے رجحانات اور خیالات کے پیمانہ سے سخت ناکام ثابت کی جا سکتی ہے ، اور نہ صرف اسلامی تاریخ بلکہ انسانی تاریخ کی بھی کوئی شخصیت کامل اور معیاری قرار نہیں دی جا سکتی۔
(3) کسی صاحب دعوت ، یا مصنف اور مفکر کی کتابوں کے چند مختصر اقتسابات پیش کرنے پر اکتفاء نہیں کی گئی ہے کہ اس سے اس کے مقاصد ، اس کے علمی مرتبے اور اس کے ذہن کا اندازہ صحیح طور پر نہیں ہو سکتا اور قارئین اس کا لطف صحبت اور شرف ملازمت حاصل نہیں کر سکتے ، اس کتاب میں ممتاز صاحب دعوت ، مصلحین ، مصنفین ، اور اصحاب فکر کی تصنیفات و خطابات کے اتنے مختلف اور مبسوط اقتسابات دیئے گئے ہیں کہ پڑھنے والا محسوس کرے گا کہ اس کا کچھ وقت ان کی صحبت میں گزرا ہے اور اس کو اطمینان کے ساتھ دید و شنید کا موقع ملا ہے ۔ اس لئے خود مؤلف کتاب نے اپنے وقت کا ایک معتدبہ حصہ ان حضرات کی تصنیفات و مواعظ اور ان کے علمی و فکری آثار کے ماحول میں گزارا ہے اور کوشش کی ہے کہ ان کا تذکرہ اور تعارف کرانے کے زمانہ میں وہ اپنا خالص وقت اسی ماحول میں گزارے اور ان اثرات و کیفیات کو اپنے اوپر طاری ہونے کا موقع دے جو ان کے معاصرین اور ہم نشینوں پر طاری تھی ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ قارئین مختلف شخصیتوں کے بارے میں مؤلف کتاب کا قلبی رجحان معلوم کر سکیں گے ، اور ان کو زبان میں بھی تغیر اور صاحب ترجمہ کی زبان و ادب سے مناسبت نظر آئے گی ۔ یہ بات اگر کسی نقاد کی نگاہ میں قابل اعتراض اور کتاب کی کمزوری شمار کئے جانے کے قابل ہے ، اور اس کے نزدیک مؤرخ کو اپنے قلم کی طرح چوب خشک اور ناقل بے ضمیر ہونا چاہیے تو مصنف اس کمزوری کا اعتراف کرتا ہے اور اس کے لئے کسی معذرت کی ضرورت نہیں سمجھتا(۴) تاریخی شخصیتوں کے صرف علمی کمالات‘ تحقیقات اور تصنیفات کے اقتباسات پر اکتفا نہیں کیا گیا‘ بلکہ ان کی زندگی کے باطنی پہلو‘ تعلق مع اللہ اور اخلاقی خصوصیات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ اولاً تو یہ متقدمین اہلِ دعوت و اہلِ فکر کی مشترک خصوصیت ہے کہ وہ اپنے علمی کمالات اور عملی انہماک کے ساتھ عبادت و انابت الی اللہ کا ذوقِ خاص رکھتے تھے اور ان کی کامیابی و مقبولیت میں اس کو خاص دخل ہے اور اس کے تذکرہ کے بغیر ان کا تذکرہ نا مکمل رہتا ہے دوسرے اس ضخیم تصنیف اور تاریخ کے اس وسیع دفتر کے پڑھنے والے کا یہ حق اور اس کی محنت اور دقّت کا یہ خاموش مطالبہ ہے کہ وہ اس سے صرف تاریخی معلومات ہی اخذ نہ کرے بلکہ قلب و روح کی تازگی اور ذوقِ عمل کا حصہ بھی پائے۔
(۵) کسی شخصیت کے تعارف کے سلسلہ میں صرف اس کے فضائل و کمالات بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اگر اس کے منصف و محتاط معاصرین یا صاحبِ نظر متاخرین نے اس پر یا اس کی تصنیفات و افکار پر تنقید کی ہے تو اس کا بھی تذکرہ کر دیا گیا ہے اور اگر اس کا جواب دیا گیا ہے اور اس کی طرف سے دفاع کیا گیا ہے تو اس کو بھی پیش کردیا گیا ہے لیکن تاریخ کو ناقدانہ تالیف ثابت کرنے کے لیے بے حد ضرورت تنقید نقل کرنے کا اہتمام نہیں کیا گیا۔
یہ کتاب کی پہلی جلد ہے‘ پہلے خیال تھا کہ یہ جلد شیخ الاسلام ابن تیمیہ پر تمام ہوگی اس طرح اس حصہ میں پہلی صدی ہجری سے لے کر آٹھویں صدی ہجری تک کی تاریخ دعوت و عزیمت اور اصلاح و تجدید کی روداد آجاتی لیکن ابن تیمیہ کا تذکرہ (ان کے زمانہ کی اہمیت اور ان کے کام کی وسعت کی بنا پر) اتنا مبسوط ہو گیا کہ اس کو کتاب کا ایک مستقل حصہ بنانا پڑا جو اس سلسلہ کی دوسری جلد ہوگی‘ کتاب کا تیسرا حصہ (اور شاید چوتھا بھی) ہندوستان کے اہلِ دعوت و عزیمت کے ساتھ مخصوص ہوگا‘ جو پچھلی صدیوں میں عالم اسلام میں اصلاح و تجدید کے علمبردار اور فکر و تحقیق کا منبع و سرچشمہ تھے۔
آخر میں مؤلف کو صاف اعتراف ہے کہ اس کتاب کے لیے جتنی طویل مدّتِ تصنیف‘ جیسا سکونِ خاطر‘جتنا وسیع و عمیق مطالعہ اور جیسا وسیع اور متنوع علم درکار ہے، مصنف اس سے بہرہ مند نہیں، لیکن جو کچھ بھی اس عرصہ اور ان حالات میں ہو سکا اور جو ناظرین کے سامنے ہے وہ مصنف کی پریشان خاطری، انتشار ذہنی اور علمی بے بضاعتی کے پیش نظر محض تائید الہٰی اور توفیقِ خداوندی ہے۔ وماالنصر الا من عند اللہ۔
ابو الحسن علی ندوی
دائرہ حضرت شاہ علم اللہ رائے بریلی
۴ ربیع الاول ۱۳۷۴ھ

مقدمہ

اصلاح و تجدید کی ضرورت اور تاریخ اسلام میں ان کا تسلسل 

زندگی متحرک ہے اور تغیر پذیر ہے:

اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے، اور کامل و مکمل طور پر دنیا کے سامنے آچکا ہے، اور اعلان کیا جاچکا ہے کہ

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ (المائدہ-3)

ترجمہ: آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور دین کی حیثیت سے اسلام کو تمہارے لیے پسند کرچکا۔

ایک طرف تو اللہ کا دین مکمل ہے، دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ زندگی متحرک اور تغیر پذیر ہے، اور اس کا شباب ہر وقت قائم ہے۔

جاوداں، پیہم دواں، ہردم جواں ہے زندگی

اس رواں دواں اور سداجواں زندگی کا ساتھ دینے اور اس کی رہنمائی کے لئے اللہ تعالٰے نے آخری طور پر جس دین کو بھیجا ہے، اس کی بنیاد اگرچہ”ابدی عقائدوحقائق”پر ہے مگر وہ زندگی سے پُر ہے، اور حرکت اسکی رگ و پے میں بھری ہوئی ہے، اس میں اللہ تعالٰی نے یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ ہر حال میں دنیا کی رہنمائی کرسکے، اور ہر منزل میں تغیر پذیر انسانیت کا ساتھ دے سکے، وہ کسی خاص عہد کی تہذیب یا کسی خاص دور کا فن تعمیر نہیں ہے جو اس دور کی یادگاروں کے اندر محفوظ ہو اور اپنی زندگی کھوچکا ہو، بلکہ ایک زندہ دین ہے جو علم و حکیم صانع کی صنعت کابہترین نمونہ ہے۔
ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ﴿الانعام:٩٦﴾
یہ ہے اندازہ غالب اور علم رکھنے والے کا۔
صُنْعَ اللَّـهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ ۚ ﴿النمل:٨٨﴾
کاریگری اللہ کی جس نے ہر چیز کو محکم کیا۔
اُمتِ اسلامیہ کا زمانہ سب سے زیادہ پُر از تغیرات ہے
یہ دین چونکہ آخری اور عالمگیر دین ہے اور یہ امت آخری اور عالمگیر اُمت ہے اس لئے یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ دنیا کے مختلف انسانوں اور مختلف زمانوں سے اس امت کا واسطہ رہے گا اور ایسی کشمکش کا اس کو مقابلہ کرنا ہو گا، جو کسی دوسری امت کو دنیا کی تاریخ میں پیش نہیں آئی۔ اس امت کو جو زمانہ دیا گیا ہے، وہ سب سے زیادہ پُر از تغیرات اور پُر از انقلابات ہے اور اس کے حالات میں جتنا تنوع ہے، وہ تاریخ کے کسی گذشتہ دور میں نظر نہیں آتا۔
اسلام کے بقا اور تسلسل کے لئے غیبی انتظامات
ماحول کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے اور مکان و زمان کی تبدیلیوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے دو انتظامات فرمائے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان سے جناب رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو ایسی کامل و مکمل اور زندہ تعلیمات عطا فرمائی ہیں جو ہر کشمکش اور ہر تبدیلی کا باآسانی مقابلہ کر سکتی ہیں اور ان میں ہر زمانہ کے مسائل و مشکلات کو حل کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ دوسرے اس نے اس کا ذمہ لیا ہے (اور اس وقت کی تاریخ اس کی شہادت دیتی ہے) کہ وہ اس دین کو ہر دور میں ایسے زندہ اشخاص عطا فرماتا رہے گا جو ان تعلیمات کو زندگی میں منتقل کرتے رہیں گے۔ اور مجموعاً یا انفراداً اس دین کو تازہ اور اس امت کو سرگرم عمل رکھیں گے۔ اس دین میں ایسے اشخاص کے پیدا کرنے کی جو صلاحیت و طاقت ہے اس کا اس سے پہلے کسی دین سے اظہار نہیں ہوا۔ اور یہ امت تاریخ عالم میں جیسی “مردم خیز” ثابت ہوئی ہے دنیا کی قوموں اور امتوں میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ محض اتفاقی بات نہیں ہے۔ بلکہ انتظام خداوندی ہے کہ جس دور میں جس صلاحیت و قوت کے آدمی کی ضرورت تھی اور زہر کو جس “تریاق”کی حاجت تھی وہ اس امت کو عطا ہوا ۔
اسلام کے قلب و جگر پر حملے
شروع ہی سے اسلام کے قلب و جگر اور اس کےاعصاب پر ایسے حملے ہوئے ہیں کہ دوسرا مذہب ان کی تاب نہیں لا سکتا دنیا کے دوسرے مذاہب جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں دنیا فتح کرلی تھی اس سے کم درجہ کے حملوں کو سہ نہیں سکے اور انہوں نے اپنی ہستی کو گم کر دیا ،لیکن اسلام نے اپنے ان سب حریوفوں کو شکست دی ،اور اپنی اصلی شکل میں قائم رہا ایک طرف باطنیت اور اس کی شاخیں ،اسلامی روح،اور اسکے نظام عقائد کے لئے سخت خطرہ تھیں ،دوسری طرف مسلمانوں کو زندگی سے بے دخل کرنے کے لئے ،صلیبیوں کی یورش اور تاتاریوں کا حملہ بلکل کافی تھا ،دنیا کا کوئی دوسرا مذہب ہوتا تو وہ اس موقع پر اپنے سارے امتیازات کھو دیتا ،اور ایک تاریخی داستان بن کر رہ جاتا لیکن اسلام ان سب داخلی وخارجی حملوں کو برداشت کر لے گیا،اور اس نے نہ صرف اپنی ہستی قائم رکھی بلکہ زندگی کے میدان میں نئی نئی فتوحات حاصل کیں تحریفات و تاویلات ،بدعات ،عجمی اثرات،مشرکانہ اعمال،و رسوم ،مادیت،نفس پرستی،تعیشات،الحاد و لادینیت،اور عقلیت پرستی کا اسلام پر بار ہا حملہ ہوا اور کبھی کبھی محسوس ہونے لگا کہ شائد اسلام ان حملوں کی تاب نہ لاسکے اور ان کے سامنے سپر ڈالدے،لیکن امت مسلمہ کے ضمیر نےصلح کرنے سے انکار کردیا ،اور اسلام کی روح نے شکست نہیں کھائی ،ہر دور میں ایسے افراد پیدا ہوئے جنہوں نے تحریفات و تاویلات کا پردہ چاک کر دیا ،اور حقیقت اسلام اور دین خالص کو اجاگر کیا ،بدعات اور عجمی اثرات کے خلاف آواز بلند کی ،سنت کی پر زور حمایت کی عقائد باطلہ کی بے باکانہ تردید اور مشرکانہ اعمال و رسوم کے خلاف علانیہ جہاد کیا ، مادیت اور نفس پرستی پر کاری ضرب لگائی ،تعیشات اور اپنے زمانے کے “مترفین”کی سخت مذمت کی ،اور جابرانہ سلاطین کے سامنے(؎1متکبر دولت مندوں اور مستغنی آسودہ حال اور فارغ البال لوگوں کو قرآن مجید”مترفین”کے نام سے یاد کرتا ہے )

کلمہ حق بلند کیا ، عقلیت پرستی کا بت توڑا اور اسلام میں نئی قوت وحرکت اور مسلمانوں میں نیا ایمان اور نئی زندگی پیدا کردی ، یہ افراد دماغی علمی ، اخلاقی اور روحانی اعتبار سے اپنے زمانہ کے ممتاز ترین افراد تھے اور طاقتور اور دلآویز شخصیتوں کے مالک تھے ، جاہلیت اور ضلالت کی ہر نئی ظلمت کے لئے ان کے پاس کوئی نہ کوئی ید بیضاء تھا جس سے انہوں نے تاریکی کا پردہ چاک کردیا ، اور حق روشن ہو گیا،اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کو اس دین کی حفاظت اور بقاءمنظور ہے ، اور دنیا کی راہنمائی کا کام اسی دین اور اسی امت سے لینا ہے ، اور جو کام وہ پہلے تازہ نبوت اور انبیاء سے لیتا تھا اب رسول اللہ ﷺ کے نائبین اور امت کے مجددین ومصلحین سے لے گا
دوسرے مذاہب کی تاریخ میں تجدیدی شخصیتوں کی کمی
اس کے برخلاف دنیا کے دوسرے مذاہب میں ایسی ہستیوں کی نمایاں کمی نظر آتی ہے ، جو ان مذاہب میں نئی روح اور ان کے ماننے والوں میں نئی زندگی پیداکردیں ، ان کی تاریخ میں صدیوں اور ہزاروں برس کے ایسے خلاء نظر آتے ہیں ، جن میں اس دین کا کوئی مجدد دکھائی نہیں دیتا ، جو اس دین کو تحریفات وبدعات کے نرغہ سے نکالے ، اس کی حقیقت واضح کرے، اصل دین اور حقیقت ایمان کی طرف پوری قوت سے دعوت دے ، رسوم کے خلاف پرزور صدائے احتجاج بلند کرے ، مادیت ونفس پرستی کی تحریک ورجحانات کے خلاف جہاد کرنے کے لئے کمر بستہ ہو کر میدان میں آجائے ، اوراپنے یقین ، سچی روحانیت اور قربانیوں سے اس مذہب کے پیروؤں میں نئی روح اورنئی زندگی پیدا کردے
اس کی سب سے بڑی مثال مسیحیت ہے ، وہ اپنے عہد کے آغاز یعنی پہلی صدی مسیحی کے نصف ہی میں ایسی تحریف کا شکار ہوئی ، جس کی نظیر اس دور کی تاریخ مذاہب میں کہیں نہیں ملتی وہ ایک صاف اور سادہ توحیدی مذہب سے ایک ایسے مشرکانہ مذہب میں تبدیل ہو گئی جس کو یونانی اور بودھ افکار وخیالات کا مجموعہ کہا جاسکتا ہے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس کے سب سے بڑے داعی اور پیرو سینٹ پال (10/65ء ) کے ہاتھوں ہوا ۔ یہ تبدیلی دراصل ایک روح سے دوسری ، ایک شکل سے دوسری شکل اور ایک نظام سے دوسرے نظام کی طرف ایک ایسی جست یا چھلانگ کے مترادف تھی جس میںپہلی شکل سے صرف نام اور بعض رسوم کا اشتراک باقی رہ گیا تھا ، ایک مسیحی فاضل (Eroset De Bunsen) اس تغیر و انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے :
‘‘ جس عقیدے اور نظام کا ذکر ہمیں انجیل میں ملتا ہے ، اس کی دعوت حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے قول و عمل سے کبھی نہیں دی تھی ، اس وقت عیسائیوں اور یہودیوں و مسلمانوں کے درمیان جو نزاع قائم ہے اس کی ذمہ داری حضرت مسیح علیہ السلام کے سر نہیں ہے بلکہ یہ سب اس یہودی ، عیسائی بے دین پال کا کرشمہ ہے ، نیز صحف مقدسہ کی تمثیل و تجسیم کے طریقہ پر تشریح اور ان صحیفوں کو پیش گوئیوں اور مثالوں سے بھر دینے کا نتیجہ ہے ، پال نے اسٹیفن (stephen) کی تقلید میں جو مذہب ایسانی (essenio) کا داعی ہے ، حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ بہت سی بودھ رسوم وابستہ کر دیں ، آج انجیل میں جو متضاد کہانیاں اور واقعات ملتے ہیں ، اور جو حضرت مسیح علیہ السلام کو ان کے مرتبہ سے بہت فروتر شکل میں پیش کرتے ہیں ، وہ سب پال کے وضع کیے ہوئے ہیں ، حضرت مسیح علیہ السلام نے نہیں بلکہ پال اور انکے بعد آنے والے پادریوں اور راہبوں نے اس سارے عقیدہ ونظام کو مرتب کیا ہے جس کو آرتھوڈکس مسیحی دنیا نے اٹھارہ صدیوں سے اپنے عقیدہ کی اساس قرار دے رکھا ہے ۔’’ (islam or true christianity – p. 128)
مسیحیت نے طویل صدیوں تک اور آج بھی پال کی اس روح اور اس کے ورثہ کو سینہ سے لگائے رکھا ، اور اس پوری مدت میں مسیحی دنیا میں کوئی ایسا آدمی پیدا نہیں ہوا جو مسیحیت کے اس بیرونی مستعار اور غیر حقیقی نظام کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کرے ، اور اس نقطہ کی طرف واپسی کی کوشش کرے ، جس نقطہ پر حضرت مسیح علیہ السلام اور ان کے مخلص خلفاء اور متبعین چھوڑ کرگئے تھے ، صدیوں پر صدیاں بیت گئیں اور کوئی ایسا شخص پیدا نہ ہوا جو مسیحیت کے ان بیرونی اجزاء کو علیٰحدہ کرسکے ، آخرکار پندرہویں صدی عیسوی میں مارٹن لوتھر (m.luther) جرمنی میں پیدا ہوا اور اس نے بعض جزئی مسائل میں کچھ محدود قسم کی اصلاح کی ، یہ کوئی جوہری یا عمومی اصلاح نہ تھی اور نہ مسیحیت کے غلط رخ اور اس کے انحراف کے خلاف کوئی بغاوت ، گویا مسیحیت کی تاریخ کی تقریباً پندرہ صدیاں انقلاب انگیز بنیادی اور کامیاب اصلاح مذہب کی تحریکوں سے خالی رہیں ، اور اس عرصہ میں کوئی کوشش بھی پورے طور پر بار آور اور نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی ، مسیحی فضلاء کو بھی اس کا اعتراف ہے کہ اس طویل مدت میں مسیحی دنیا میں کوئی شخصیت یا تحریک رونما نہیں ہوئی جو مسیحت کی اصلاح یا تجدید میں نمایاں کامیابی حاصل کر سکے۔
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کا مقالہ نگار (J. BASSMULLINGER) لکھتا ہے :
“اگر ہم اس کے اسباب تلاش کریں کہ سولہویں صدی سے قبل اصلاح زہب (ریفارمیشن) کی کوششوں میں جزوی کامیابی بھی کیوں نہ ہوئی تو بلا کسی دشواری کے کہہ سکتے ہیں کہ سب سے بڑا سبب قرونِ وسطیٰ کے ذہن کی ماضی کی شالوں کی غلامی تھی۔ ( ENC. BRITTANICS-ED IX VOL. XX P.320, ARTICLE BY J. B. MULLINGER.)
دوسری جگہ لکھتا ہے :
“چرچ کے اصلاح کی کوئی جامع تجویز بروئے کار لانے کی ان کی مسلسل کوششوں کی ناکامی یورپین تاریخ کی ایک جانی بوجھی حقیقت ہے ۔ (ایضاً ص ۳۲۱)
یہی مقالہ نگار آگے لکھتا ہے :
“سولہویں صدی سے قبل اصلاح مذہب کی چند نہیں، متعدد اور بعض بہت یادگار قسم کی کوششیں کی جا چکی تھیں لیکن بلا استثنا ان سب کو کلیسا کی لعنت و ملامت کا شکار ہو جانا پڑا تھا۔” (ایضاً ص ۳۲۱)
اس کے بعد کوئی دوسرا شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو کلیسا کے خرافات و اوہام اور اس کی زبردستیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا اور کم از کم اتنا ہی کرتا جتنا لوتھر نے (اپنے مخصوس دائرہ عمل اور کمزوری کے باوجود) کیا تھا۔
غرض اس طرح مسیحت اس راستہ پر مسلسل چلتی رہی جس کو اس نے اپنے لئے انتخاب کیا تھا۔ یا زیادہ صحیح الفاظ میں اس کے سر تھوپ دیا گیا تھا۔ کلیسا کا اثر کم پڑ گیا اور بعد میں اس کا اقتدار بالکل ختم ہو گیا۔ یورپ میں مادّیت کی حکومت قائم ہوئی۔ اور اس نے اس اصل مذہب کی جگہ لے لی اور مغرب کے ہر مذہب کو اس نے اپنے پیچھے چھوڑ دیا اور مسیحت میں کوئی ایسا انسان پیدا نہ ہو سکا جو اس مادیت کا مقابلہ کرتا اور اس کو اپنے صحیح مرکز پر واپس لاتا، یا عیسائیوں میں اپنے مذہب پر اعتماد کو بحال کرتا۔ ان سب میں وہ روحانی و اخلاقی قوت پیدا کرتا جو ان کو مادّیت کے ان زبردست تھپیڑوں اور ایمان سوز ترغیبات کے سامنے ثابت قدم رکھ سکے، اور ان کو ایسی زندگی گزارنے پر مجبور کر سکے، جو علم و اخلاق اور صحیح عیسائی عقائد پر قائم ہو اور جہاں نئے زمانہ کے سوالات، عصر جدید کے مسائل کا حل، اس کی روشنی میں ممکن ہو۔ اس کے برعکس یہ ہوا کہ عیسائی مفکرین، مصنفین مسیحت کے مستقبل سے خود مایوس ہو گئے اور لادینی مادّیت کے مقابلہ میں ان کے اندر احساس کمتری پیدا ہو گیا۔
یہی قصہ مشرق کے مذاہب کے ساتھ بھی پیش آیا۔ ہندو مذہب بھی اپنی اصل راہ سے بالکل ہٹ گیا۔ اس نے اپنی سادگی اور خالقِ کائنات سے براہِ راست روحانی نسبت بالکل کھو دی، اخلاقی قوت بھی مفقود ہو گئی اور اپنی پیچیدگی کی وجہ سے وہ محض ایک دقیق اور غیر عملی فلسفہ بن کر رہ گیا۔ اور رفتہ رفتہ عقائد میں توحید خالص اور معاملات میں مساوات دونوں اہم چیزوں کا سررشتہ اس کے ہاتھ سے بالکل چھوٹ گیا۔ اور یہی وہ دو اہم بنیادیں تھیں، جن پر کوئی ایسا مذہب قائم ہو سکتا ہے، جس کی جڑیں باطن میں مضبوط ہوں، اور شاخیں ظاہر میں پھیلی ہوئی ہوں۔
اپنیشد کے مصنفین نے بہت کوشش کی کہ اس فساد کا تدارک کریں، چنانچہ انہوں نے ان رسوم کو جو ہندو مذہب اور ہندو سماج پر پوری طرح چھا گئی تھیں، مسترد کر دیا اور اس کی جگہ ایک ایسے فلسفیانہ اور تصوراتی نظام کو پیش کیا، جو کثرت میں وحدت کے نظریہ پر قائم تھا۔ یہ نئی تصویر ہندو مذہب کے علمی حلقوں میں تو ضرور پسند کی گئی، اس لئے کہ ان کا رحجان شروع ہی سے وحدت الوجود ہمہ اوست کی طرف تھا، لیکن عوام نے جن کی فکری سطح پست تھی، اور جو عملی نظام اور عملی تعلیمات کے خواہشمند تھے، اس بات کو قبول نہ کیا اور اس طرح ہندو مذہب رفتہ رفتہ اپنی قوت و تاثیر کھوتا رہا۔ اس کی طرف سے بے اعتمادی اور بے اطمینانی روز بروز بڑھنے لگی، ہندو سماج کی یہی بے اطمینانی اور بے چینی تھی جس نے آگے چل کر بودھ کی شخصیت میں جنم لیا۔ یہ مرحلہ چھٹی صدی قبل مسیح میں سامنے آیا۔
بودھ نے ایک نیا فکر یا ایک نیا مذہب (اگر اس موقع پر لفظ مذہب کا استعمال درست ہو) پیش کیا جو ترک دنیا، تہذیب نفس، خواہشات سے مقابلہ، رحم دلی و ہمدردی، خدمت و عمل اور رسوم و عادات اور طبقاتی کشمکشکی تردید و مخالفت پر قائم تھا، جو ہندو سماج میں آخر زمانہ میں بهت نمایاں ہو گئی تھی، یہ فکر یا یہ مذہب (بودھ مت کے لیے لفظ مذہب کے استعمال میں مجھے تردد اسلئے ہے کہ اس میں خالق اور مبدا و معاد کے سلسلہ میں کوئی عقیدہ یا نظریہ نہیں ملتا، اور اکثر مصنفین و مؤرخین کی یہی رائے ہے، دیکھئے انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا لفظ بودھ ( BUDDHA)) بہت سرعت کے ساتھ پهیلا، اور ایشیا کے جنوبی اور مشرقی حصہ پر جو بحر ہند اور بحر الکاہل کے درمیان واقع ہے، اس کا تسلط قائم ہوگیا _
لیکن کچھ ہی عرصہ کے بعد یہ زبردست مذہبی تحریک بھی اپنے راستہ سے ہٹ گئی، اور تحریف کا شکار ہو گئی، مورتیاں اور رسوم وغیرہ جن کے خلاف اس مذہب نے علم بغاوت بلند کیا تها، اس پر پھر سے حملہ آور ہوئے، یہاں تک کہ اس کے آخر دور میں وہ بھی شرک اور مورتی پوجا کا مذہب بن کر رہ گیا، جو اپنے پیشرو ہندو مذہب سے مورتیوں کی اقسام اور انکی تعداد کے سوا کسی اور چیز میں مختلف اور بہتر نہ تھا، اسکی اخلاقیات کو بھی زوال ہوا، افکار و خیالات میں پیچیدگی اور بڑه گئی، نئے نئے فرقے اور مذہبی گروہ قائم ہو گئے، پروفیسر ایشورا ٹوپا اپنی کتاب “ہندوستانی تمدن ” میں لکھتے ہیں:-
“بودھ مت کے سایہ میں ایسی حکومت قائم ہوئی، جس میں اوتاروں کی بھرمار اور مورت پرستی کا دور دورہ دکھلائی دینے لگا، سنگھوں کی فضا بدل رہی تھی، اس میں بدعتیں اور جدتیں یکے بعد دیگرے نظر آرهی تھیں”(ہندوستانی تمدن (اردو ) ایشورا ٹوپا )
پنڈت جواہر لال نہرو اپنی کتاب “تلاش ہند” DISCOVERY OF INDIA” میں بدھ مت کے بگاڑ اور تدریجی زوال کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:-
“برهمنیت نے بودھ کو اوتار بنایا، اور بودھ مت نے بھی یہی کیا، سنگھ بہت دولتمند ہوگئے، اور ایک خاص جماعت کے مفاد کے مرکز بن کر رہ گئے، اور ان میں ضبط و قاعده بالکل نہیں رہا، عبادات کے طریقوں میں سحر اور اوہام داخل ہو گئے، اور ہندوستان میں ایک ہزار سال تک باقاعدہ رائج رہنے کے بعد بودھ مت کا تنزل شروع ہوگیا، اس عہد میں اس کی جو مریضانہ کیفیت تھی، (MRS RMYS DAYIS) نے اس کا ذکر اس طرح کیا ہے:-
“ان مریضانہ خیالات کے گہرے سایہ میں آکر گوتم کی اخلاقی تعلیم نظر سے اوجھل ہو گئی، ایک نظریہ پیدا ہوا اور اس نے فروغ پایا، اس کی جگہ دوسرے نے لے لی، اور ہر ایک قدم پر ایک نیا نظریہ پیدا ہونے لگا، یہاں تک کہ ساری فضا میںذہن کی ان پُر فریب تخلیقوں سے گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا اور بانی مذہب کے سادہ اور بلند اخلاقی درس ان الہیاتی موشگافیوں کے انبار کے نیچے دب کر رہ گئے ۔
مجموعی حیثیت سے بودھ مت اور برہمنیت دونوں میں گراوٹ پیدا ہوگئی اور ان میں اکثر مبتذل رسوم داخل ہو گئیں دونوں میں امتیاز کرنا مشکل ہو گیا اس وسیع بودھ دنیا میں اور اس کی حکمرانی کی اس طویل مدت میں کوئی ایسا مصلح سامنے نہ آیا جو حقیقی بودھ مت کی طرف دعوت دے اور اس جدید اور منحرف مذہب کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کرے اور اس کا گذشتہ دور شباب اور اس کی گم شدہ سادگی اورصفائی پھر سے واپس لے آئے ۔
غرض قدیم ہندو مذہب ،بودھ مت کے سامنے بالکل پنپ نہ سکا یہاں تک کہ آٹھویں صدی مسیحی میں شنکر آچاریہ نے بودھ مت کی مخالفت اور قدیم ہندو مذہب کی اشاعت کا علم بلند کیا اور آخر کار اس کو اس ملک سے تقریباً باہر ہی کردیا یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کی حیثیت ہندوستان کے بہت سے مذاہب میں ایک قدیم روبزوال اور محدود مذہب کی رہ گئی ،شنکر آچاریہ نے اپنی ذہانت,مذہبی جرات اور جوشِ عمل سے یہ تو کیا کہ بودھ مت کو بالکل زندگی سے بے دخل کر دیا لیکن وہ اس باب میں کامیاب نہ ہوئے ( بلکہ اس کا انھوں نے سرے سے ارادہ ہی نہیں کیا تھا ) کہ قدیم ہندو مذہب کو اس کی پہلی اور حقیقی شکل پہ واپس لے آئیں اس میں توحید کا عقیدہ خالقِ کائنات سے براہِراست اتصال،بندہ اور خدا کے مذہب کے درمیان واسطوں کی نفی ،اجتماعی انصاف اور طبقاتی مساوات کی روح پیدا کر دیں چنانچہ آج تک یہ دونوں ہندوستانی مذاہب اپنی بدلی ہوئی ہیئت پر قائم ہیں اور دور انحطاط کی میراث رسوم و عادات اور مورتیوں کو اپنے سینہ سے لگائے ہوئے ہیں مذاہب واخلاق کے انسائیکلویڈیا (Encyclopedia of Religion and ethics) کے مقالہ نگار (v.s ghate) جو الفسٹن کالج بمبئی میں سنسکرت کے پروفیسر تھے اور ہندوستان کے قدیم مذاہب و فلسفوں پر گہری نظر رکھتے ہیں شنکر آچاریہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں
“ان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اس نظام مذہب اور فلسفہ کا زنددہ کرنا تھا جس کی اوپنشید میں تعلیم دی گئی۔ (تلاش ہند ص 1-2-3
ایضا
شکرآچاریہ آٹھویں صدی کے نصف آخر میں گزرا ہے، 32 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔)

اس نے مطلق وحدة الوجود کے عقیدہ کو رائج کردیا ۔ اس کا اصلی مقصد یہ تھا کہ وہ یہ بتائے کہ اوپنشید اور بھگوت گیتا میں قانون پیش نہیں کیا گیا ہے ، بلکہ مکمل وحدة الوجود کی تعلیم ہے ۔ شنکر آچاریہ نے بت پرستی کی نہ مخالف کی ، نہ حملہ کیا ۔ ان کے نزدیک بت ایک رسم اور مظہر ہے ۔ شنکر آچاریہ نے رسمیت (RITUALISM) اور کرما کی مذمت کی ، لیکن مقبول عام دیوتاؤں کی پرستش کی طرف سے مدافعت کی ” اپنے نشو و نما کی ایک خاص منزل میں بت پرستی ہماری فطرت کی ایک ضرورت ہے ؛ جب مذہبی روح پختہ اور بالغ ہو جاتی ہے ، تو بت پرستی کی ضرورت نہیں رہتی علامتوں اور رموز کو ترک کر دینا چاہیے جب مذہبی روح پختہ اور بالغ ہو جاتی ہے ۔ ” شنکر نے بتوں کی اجازت دی بحیثیت ایک علامت کے ان لوگوں کے لئے جو ایسے برہمنوں کے مرتبے تک نہ پہنچ سکے جو صفات سے آزاد اور ناقابل تبدیل ہوں ” ۔

بہرحال وہ تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں جو شنکر آچاریہ سے لے کر دیانند سرسوتی اور گاندھی جی تک کی گئیں ، اور جن کا مقصد اس مذہب کا اس کی ان صحیح بنیادوں پر احیاء تھا ، جو نبوت کی دعوت انسان کی فطرت سلیم اور تغیر پذیر عہد سب کے ساتھ ہم آہنگ ہوں ۔ ان دونوں مذاہب نے آخر کار مادیت و لادینیت کے سامنے سپر ڈال دی ہے ، اور زندگی سے کنارہ کش ہو کر عبادت گاہوں اور تیرتھ گاہوں میں پناہ لی ہے ، اور رسوم و عادات اور ظاہری اشکال میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ہندوستان میں اس وقت کوئی ایسی طاقتور دعوت نہیں جس کا نعرہ اور جس کا منشور یہ ہو ( پھر سے مذہب کی طرف آؤ ) اس کے برعکس ایسی تحریکیں بہت بیدار اور طاقتور ہیں جن کا نعرہ اور اصول یہ ہو کہ اپنی پرانی تہذیب کو زندہ کرو ، ہندوستان کی قدیم تاریخی زبان ” سنسکرت ” کو پھر سے ملک میں رائج کرو ۔

Hits: 3

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں