22

منی میں رات گزارنے سے رخصت کن لوگوں کو مل سکتی ہے؟

سقّوں [یعنی پانی پلانے والوں] کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منی سے باہر رات گزارنے کے لیے عذر قبول فرمایا تو آج کل ان پر کن لوگوں کو قیاس کیا جا سکتا ہے؟

الحمد للہ:

“حجاج کرام کو پانی پلانے کی ذمہ داری کے باعث نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو مکہ میں منی کی رات گزارنے کی رخصت عطا فرمائی تھی، پانی پلانے کی ذمہ داری عوامی نوعیت کی ہے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو بھی منی میں رات گزارنے سے رخصت دی تھی؛ کیونکہ چرواہے حاجیوں کی سواریوں  کا خیال رکھتے تھے، اسی طرح مفاد عامہ کیلیے اپنی خدمات پیش کرنے والے افراد بھی  منی میں رات نہ گزارنے کی رخصت لے سکتے ہیں، مثلاً: طبی عملہ، آگ بھجانے والا عملہ اور اسی طرح کے دیگر افراد  بھی، ان پر منی میں رات گزارنا واجب نہیں ہے؛ کیونکہ لوگوں کو ان کی ضرورت رہتی ہے۔

اب رہا یہ معاملہ کہ ایسے لوگ جن کا معاملہ ذاتی نوعیت کا ہے مثلاً: مریض آدمی، جس کا علاج جاری ہے اور دیگر اس طرح کے افراد تو کیا انہیں پہلی قسم کے لوگوں سے ملایا جائے گا؟ اس بارے میں اہل علم کے دو موقف ہیں:

کچھ اہل علم کہتے ہیں کہ انہیں بھی پہلی قسم کے ساتھ منسلک کیا جائے گا؛ کیونکہ ان کا عذر ہے۔

جبکہ کچھ اہل علم کہتے ہیں کہ نہیں پہلی قسم کے ساتھ منسلک نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ  پہلی قسم کا عذر مفاد عامہ سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ ان کا عذر ذاتی نوعیت کا ہے۔

مجھے یہ لگتا ہے کہ انہیں بھی پہلی قسم کے لوگوں سے ملایا جائے گا، مثلاً: ایک آدمی بیمار ہے اور منی میں گزاری جانے والی گیارہ اور بارہ  تاریخ اس کیلیے ہسپتال میں گزارنا ضروری ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس پر فدیہ نہیں ہو گا؛ کیونکہ یہ اس کا معتبر عذر ہے۔

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت عباس رضی اللہ عنہ کو منی میں رات گزارنے سے رخصت عطا فرمائی تو اس  وقت عباس رضی اللہ عنہ کیلیے یہ ممکن تھا کہ وہ پانی پلانے کیلیے مکہ سے کسی ایسے فرد کی ذمہ داری لگا دیتے جو حج نہیں کر رہا تھا، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ منی میں رات گزارنے کا معاملہ قدرے نرمی والا ہے، یعنی منی میں رات گزارنے کا وجوب اس قدر لازمی اور سختی والا نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کے موقف کے مطابق  یہ ہے کہ اگر کوئی شخص منی میں رات نہیں گزارتا تو اس پر کوئی فدیہ نہیں ہے، البتہ کوئی اور چیز صدقہ کر دے، یعنی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے 5 یا  10 ریال صدقہ کر دے۔” انتہی

واللہ اعلم

مجموع فتاوى ابن عثیمین” (23/237)

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں